Original Articles Urdu Articles

دو سخت سیاسی دشمنوں کا آٹھ نکات پر اتفاق – پیجا مستری

پیجا مستری پاکستان کی سیاست پر سوشل میڈیا پر سرگرم اُن چند منفرد آوازوں میں سے ایک آواز ہیں جن کا تجزیہ یہ ہے کہ پاکستان کی تعلیم یافتہ شہری پیٹی بورژوازی میں جو اینٹی اسٹبلشمنٹ ہیں اور جو اینٹی کرپشن ہیں دونوں کے ہاں کچھ باتوں پر زبردست اتفاق ہے

کرپشن ایک گند ہے
سندھی جاہل ہیں
بلوچ پسماندہ و بچھڑے ہوئے ہیں
سرائیکی غلام ہیں
تکفیری اسلام امن پرست (خالص بھی یہی ہے)
صوفی اسلام نہ صرف شرک ہے بلکہ تکفیری اسلام سے بدتر ہے
ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اندر کوئی تقسیم نہیں یہ متحد ہے-
بھٹوز سارے کرپٹ ہیں

پیجامستری اس نتیجے پر کیسے پہنچے، آئیں خود اُن کی زبانی سنتے ہیں

گزشتہ چھے ماہ میں، میں نے وٹس ایپ پر موجود میرے گروپوں میں سے میرے سابقہ کلاس فیلوز پر مشتمل ایک گروپ میں ایک سماجی تجربہ کیا- دوسرے پاکستانی وٹس ایپ گروپوں کی طرح، اس گروپ میں سب سے گرما گرم موضوع سیاست تھا

سیاسی بحث و مباحثوں کے فورمز کی طرح، یہاں بھی دو زیلی گروہوں کے درمیان گرم ترین زیر بحث مسئلہ کرپشن کا تھا

میں کافی دیر بعد گروپ میں شامل ہوا جبکہ یہ گزشتہ کئی سالوں سے موجود چلا آرہا تھا

یہ کافی محدود سا گروپ ہے- ایک درجن سے بھی کم افراد ہیں اس میں

گروپ ممبران میں سے دو پی ایچ ڈی ہیں، ایک پاکستان اور دوسرا مڈل ایسٹ میں پڑھاتا اور دونوں سینئر پروفیسر ہیں

اس گروپ کے چار سرگرم اراکین گزشتہ 20 سالوں سے کینیڈا میں ہیں اور سینئر سطح کی نوکریوں پر ہیں

ایک عکن امیر کبیر ہے امریکہ میں میں رہتا ہے

تین افراد اور ہیں جو پی ایچ ڈی پروفیسر کی طرح پاکستان میں رہتے اور ان میں سے دو سینئر گورنمنٹ عہدوں پر فائز ہیں اور ایک کا بزنس بہت شاندار چل رہا ہے

دو اور بندے ہیں جو یو کے میں رہتے ہیں- بدقسمتی سے اس گروپ میں کوئی عورت نہیں ہے

یوں سمجھ لیں کہ یہ پاکستان کی روایتی شہری تعلیم یافتہ لاٹ کی علامت گروپ ہے

اس گروپ میں میدان جنگ کی لیکریں صاف کھینچی جاچکیں ہیں
24 گھنٹے وہاں پر ایک گروپ سوشل میڈیا کی پوسٹ شئیر کرتا ہے اور دوسرا گروپ اُن پوسٹوں پر تبصرہ کرتا ہے 

پھر ایک اور گروہ ایک اور پوسٹ لیکر آتا ہے اور پہلے والا گروپ اس پر تبصرے کرتا ہے – چند ایک ہیں جو کبھی کبھار تبصرہ کرتے ہیں زیادہ تر باہم برسر پیکار لوگوں کو ٹھنڈا رہنے کے لیے کہتے تھے

جب میں یہ گروپ جوائن کیا تو میرے بارے میں یہ فرض کیا گیا کہ میں برسر پیکار گروپوں میں سے کسی نہ کسی کی سائیڈ لوں گا
یا تو وہ جسے پی ٹی آئی گروپ عرف کرپشن مخالف کہتے ہیں کی سائیڈ یا نواز لیگ اینٹی اسٹبلشمنٹ کی طرف

خوش قسمتی سے وہ میرے خیالات اچھے سے آگاہ نہ تھے ,سوائے اس کے کہ اُن میں سے اکثر مجھے ایک لبرل اور روشن خیال فرد کے طور پر جانتے تھے-(شہد کی بوتل نوش کرنے والا، ادب کا رسیا وغیرہ

میں اس سماجی تجربے کو چلانا چاہتا تھا- تو دو ہفتے انتظار کیا- اور پھر طرفداری کرنے کے جواب میں بتایا کہ میں یہاں پر کسی گروپ کی طرفداری نہیں کرتا- کیونکہ دونوں گروپ ایک ہی جیسی باتیں کررہے ہیں

یہ بات اَن سب کو ہلادینے والی تھی

وہ ایک دوسرے کے سخت دشمن تھے، ان میں سے ہر ایک دوسرے کو گدھا، احمق، جاھل غدار قرار دے رکھا تھا
اَن سب کو ایک سا قرار دینا اچھی بات ہرگز نہیں تھی- انھوں نے ایک دوسرے سے خود کو براہ راست یا بالواسطہ سب سے اونچا قرار دے رکھا تھا

وہ مجھ سے راضی نہ تھے اور چاہتے تھے میں اَن کو دکھاؤں کہ کیسے دو ایک دوسرے کے متضاد گروپ ایک جیسے تھے 
اصل میں آپ اندازہ لگاسکتے ہو کہ ‘انٹلیکچوئل صاحبان” کا تعلق اسٹبلشمنٹ مخالف گروپ سے تھا، اور جو شمالی امریکہ /برطانیہ میں شاہانہ زندگی گزار تھے ان کا تعلق اینٹی کرپشن گروپ سے تھا اور دونوں میری کہی بات سے خفا بھی تھے

اگلے چھے ماہ، میں نے یہ تجربہ جاری رکھا اور اس دوران آنے والی سب ہی پوسٹوں کو عمل ترکیب و تالیف سے گزارا تو ان سب پوسٹوں میں (دونوں گروپوں کی جانب سے) جو متھ سامنے آئیں وہ یہ تھیں

1. Corruption is a menace
2. Sindhis are jahil
3. Baloch are backward
4. Saraikis are slaves
5. Bhuttos are the most corrupt.
6. Takfiri Islam is peaceful religion.
7. Sufi Islam is shirk and worst than takfiri Islam.
8. Military establishment is united.

چھے ماہ میں وہ سب اچھے سے جان گئے کہ وہ سارے کے سارے اوپر بیان کردہ نکات پر متفق تھے
مین ان میں سے ایک بھی متھ کا پول نہ کھولا لیکن وہ سب جان گئے تھے کہ اوپر والے نکات پر متفق تھے

اور پھر اس کے بعد وہ سب جو ایک دوسرے کے سخت دُشمن تھے، سب اس اکٹھ پر خوش تھے اور اُن مذکورہ بالا نکات پر بحث میں ایک دوسرے کو سپورٹ کررہے تھے اور ساتھ ساتھ ایسی پوسٹوں میں مجھے ٹیگ کرتے جو مجھے غلط ثابت کرسکیں