Original Articles Urdu Articles

مسلم لیگ نواز اور پی پی پی کے اندر جمہوری تنظیمی ڈھانچہ کیوں نہیں ہے؟ – عامر حسینی

سالانہ یا دو سالہ ضلعی، صوبائی اور نیشنل کانگریس، پرسپیکٹو، نئی قیادت کا انتخاب، نئی این سی کا انتخاب ایسا کچھ بھی نہیں ہے

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان جماعتوں سے وابستہ وہ افراد جو جمہوریت پسند دانشور ایکٹوسٹ کہلاتے ہیں، وہ بھی کبھی پارٹی کے اندر جمہوریت کے بنیادی ضابطوں کے لیے پارٹی کے اندر کوئی تحریک آج تک پیدا نہیں کرپائے ہیں

آل انڈیا مسلم لیگ جب بنی تھی تو اس کے اندر ابتداء میں نامزدگیوں کا طریقہ کار تھا لیکن بہت جلد یہ طریقہ کار ختم ہوگیا اور پارٹی میں باقاعدہ رکنیت سازی کی گئی اور اسی بنیاد پر اس کے پرائمری یونٹ، پھر سٹی، تحصیل اور ضلع اور اس کے بعد صوبائی تنظیمیں اور ہر ضلع کی ایک کونسل، پرونشل کونسل اور پھر آل انڈیا ورکنگ کمیٹی بعذریعہ انتخاب کے تشکیل پایا کرتی تھی

لیگ کی ضلعی کونسل ضلعی قیادت کا اور پرونشل کونسل صوبائی اور سنٹرل ورکنگ کمیٹی مرکزی قیادت کا انتخاب کیا کرتی تھی

پاکستان بنا تو پاکستان مسلم لیگ بنی، اور پھر بتدریج اس کے اندر کی جمہوریت کا خاتمہ ہوگیا

پی پی پی جب بنی تو اس پارٹی کے اندر ممبر سازی سے لیکر تنظیم سازی کا جمہوری میکنزم موجود تھا اگرچہ بھٹو صاحب کا کرشمہ اپنی جگہ اٹل حقیقت تھا، پارٹی کے اندر نامزدگی کلچر مجبوری کے تحت آیا جب بھٹو صاحب نے سنٹرل کمیٹی کو کال کوٹھڑی سے نیا چئیرمین بنانے کو کہا، شیخ رشید کو کہا گیا کہ وہ پارٹی کی چیرمین شپ سنبھال لیں لیکن انہوں نے بیگم نصرت بھٹو کو یہ فریضہ سونپا- اُس کے بعد پی پی پی کے اندر ممبرشپ، انتخاب یہ سب کے سب دھندلاتے چلے گئے اور پارٹی جب مارشل لاء کے دھندلکوں سے باہر آ بھی گئی تو دوبارہ ممبر شپ سے لیکر تنظیم سازی کا نظام نمائشی رہ گیا
اب پارٹی اوپر سے لیکر نیچے تک نامزدگیوں پر چلتی ہے

بے نظیر بھٹو کے زمانے میں سنٹرل کمیٹی کے اندر بھٹو کے زمانے کے ایسے ممبران جو بے نظیر بھٹو کی پالیسی سے متفق نہ تھے خاموشی سے غیرفعال کردیے جاتے تھے، ان کو مدعو ہی نہیں کیا جاتا تھا، اُس زمانے میں فیڈرل کونسل اور صوبائی کونسلیں نمائشی ہوکر رہ گئی تھیں جب کہ ضلعی ایگزیکٹو کونسل بھی ایسے ہی تھیں

آصف علی زرداری جب شریک چئیرمین بنے تو اُن کے زمانے میں بھی سنٹرل کمیٹی کی جگہ کور کمیٹی نے لے لی جبکہ کور کمیٹی کا زکر پارٹی کے آئین میں کہیں تھا ہی نہیں

پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں کی دونوں نامزدگیوں پر چلتی ہیں اور دونوں پارٹیوں کے اندر پولیٹیکل پارٹیز آڈرز ایکٹ کے تحت تنظیم سازی سے لیکر پارٹی الیکشن کے جو لازم ضابطے قرار دیے گئے ہیں ان کو فرضی کارروائیوں سے پورا کرلیا جاتا ہے

الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جمع کرایا گیا ان دونوں پارٹیوں سمیت سبھی رجسٹرڈ پارٹیوں کا ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ سب رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں ممبرشپ کا باقاعدہ جمہوری نظام ہے، سب کے نیچے سے لیکر اوپر تک پارٹی دفاتر ہیں، باقاعدہ چندہ لیا جاتا اور فنانس مین ٹین رکھنے کا نظام ہے، پرائمری یونٹ سے لیکر مرکز تک پارٹی میں الیکشن ہوتے ہیں اور پارٹی کی سنٹرل، صوبائی اور دیگر کونسلیں بعذریعہ انتخاب وجود میں آتی ہیں

پی پی پی، نواز لیگ، تحریک انصاف، اے این پی، ایم کیو ایم سمیت قریب قریب ہر رجسٹرڈ پارٹی میں سوائے جماعت اسلامی، چند ایک لیفٹ و قوم پرست جماعتوں کو چھوڑکر سب میں یہ کاغذوں میں ہونے والا عمل ہے

پاکستان جس طرح سے مارشل لاز کی زد میں رہا، ویسے ہی جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش، سری لنکا، افریقہ و لاطینی کے اکثر ممالک رہے ہیں بلکہ جتنے بڑے پیمانے پر فوجی آمروں نے قتل عام اور جبری گمشدگی آں افریقہ و لاطینی امریکہ اور مشرق قریب میں کیں اتنے بڑے پیمانے پر قتل عام پاکستان میں نہیں دیکھا گیا لیکن مذکورہ بالا ممالک میں اگر مرکزی قیادت میں کرشمہ اور ڈائنسٹی ہے بھی مگر اوپر سے نیچے تک نامزدگیوں کا کوئی تصور نہیں ہے اور ان سب جماعتوں کی مرکزی و صوبائی و ضلعی کانگریس ہوتی ہیں جن میں ازسرنو عہدے داروں اور پارٹی اداروں کا انتخاب ہوتا ہے

لیکن پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں جو پارٹی جتنی زیادہ زیادہ اسٹبلشمنٹ سے جمہوری سیاسی عمل میں مداخلت نہ کرنے کی مانگ کرتی ہے وہ انٹرنل جمہوریت سے اُتنی ہی دور ہوتی ہے