Featured Original Articles Urdu Articles

کلبھوشن یادیو کیس:فیصلہ دونوں ممالک کی عوام کے لیے خوش آئند ہے – عامر حسینی

کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت انصاف نے فیصلہ سنادیا- بھارت کی جانب سے قونصلر رسائی کی اجازت دینے کی استدعا کو جائز، سزا کالعدم کرکے یادیو کو رہا کرنے کی درخواست مسترد، پاکستان کو ملٹری کورٹ کی کاروائی، فیصلے پر مکمل سنجیدگی سے نظر ثانی کرنے کو کہا ہے

پاکستان نے قونصلر رسائی نہ دے کر اور تین ہفتے کی تاخیر کرنے کو ویانا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

دیکھا جائے تو اس کیس کا جو فیصلہ سنایا گیا ہے، اُس میں دونوں فریقین کے کچھ دعاوی مسترد اور کچھ قبول کیے گئے ہیں

لیکن دونوں ممالک کے مین سٹریم میڈیا پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو اپنی اپنی فتح قرار دیا جارہا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے

پاکستان کا یہ موقف تھا کہ ویانا کنونشن کا اطلاق جاسوس قیدیوں پر نہیں ہوتا جسے آئی سی جے نے مسترد کردیا

بھارت نے پاکستان پر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کی اطلاع میں تاخیر کرنے اور قونصلر کی یادیو تک رسائی نہ دینے کو ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا اور کلبھوشن کی سزا ختم کرکے کی رہائی و بھارت تک محفوظ راستا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا

آئی سی جے نے بھارت کے اس موقف سے اتفاق کیا کہ پاکستان نے کلبھوشن کی گرفتاری کی تین ہفتے بعد بھارت کو اطلاع دے کر اور، کلبھوشن یادیو کو یہ نہ بتاکر کہ اسے قونصلر رسائی کا حق ہے اور قونصلر کو رسائی نہ دیکر ویانا کنونشن کے رولز کی خلاف ورزی کی ہے

عالمی عدالت انصاف نے تاہم بھارت کی جانب سے ملٹری کورٹ کی سنائی گئی سزا کو ختم کرنے، کلبھوشن کی رہائی اور محفوظ راستا فراہم کرنے یا کلبھوشن کا کیس سول عدالت میں چلانے کی درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ویانا کنونشن میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے تاہم عدالت نے پاکستان کو ملٹری کورٹ کی کاروائی، سزا وغیرہ پر نطرثانی کا کہا ہے

آئی سی جے میں کلبھوشن کیس کو لیکر بھارت گیا تھا-اور اس نے ویانا کنونشن کے تحت مانگ کی تھیں

دیکھا جائے تو بھارت کی عالمی عدالت انصاف میں درخواست میں جو مانگ تھیں، ان میں سے صرف کلبھوشن یادیو کی سزا کے خاتمے و رہائی کی مانگ کو عالمی عدالت انصاف نے مسترد کرکے باقی مانگ منظور کرلیں

اس کیس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اب یہ فیصلہ ہوگیا ہے کہ دونوں ملک ویانا کنونشن کے رکن ہیں، ایک ملک اپنے ہاں کسی دوسرے ملک کے باشندے کی گرفتاری چاہے وہ جاسوسی کے الزام میں ہو متعلقہ ملک کو اطلاع کرنے اور قونصلر کی رسائی پانچ دن کے اندر اندر کرنے کے پابند ہیں
اس لیے یہ فیصلہ دونوں ملکوں کے عوام کے لیے خوش آئند ہے