Featured Original Articles Urdu Articles

ریکوڈک معاہدہ کن لوگوں نے سبوتاژ کیا – ریاض ملک

پی ٹی آئی کے اعظم سواتی کی درخواست پر پی سی او جج افتخار چوہدری نے دو مرتبہ ریکوڈک معاہدے سے انحراف کروایا

تب تک یہ مسلم لیگ نواز تھی جو ان بدعنوان اور بے کار ججوں کی سب سے بڑی حمایتی تھی-یہ صرف پی ٹی آئی اور اینکرز اور دوسرے نیم حکیم و خبطی ہی نہ تھے، بلکہ مسلم لیگ نواز کے کمرشل لبرل، ہاورڈ سے پڑھ کر آئے بابر ستار اور سلمان اکرم راجا جیسے بھی تھے جو افتخار چودھری جیسے سمجھوتہ باز ججوں کے وکیل صفائی بنے ہوئے تھے

یہ وہی وقت تھا(2013-2008) جب بدعنوان اور موقعہ پرست طالبان نواز جج کو جماعت اسلامی ٹائپ اور لبرل ٹائپ وکلاء و سول سوسائٹی و میڈیا اشراف نے ایک ولی اللہ جج قرار دے ڈالا

یہ سب اکٹھے ہوکر ایک بلوائی ہجوم کی طرح مل جل کر اکٹھے ہوئے اور پی پی پی کے پانچ سالہ دور میں انھوں نے بار بار پی پی پی پر حملے کیے اور اس کے لیے حکومت کو چلانا عملاً ناممکن بنادیا

بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ وجود میں آنے والے معاہدے جیسے رینٹل پاور پروجیکٹ تھا سبوتاژ کیے گئے-رینٹ پاور پروجیکٹ اگر وقت سے پہلے ختم نہ کیے جاتے تو یہ پنجاب کے اندر طویل المیعاد بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے مکمل ہونے تک عارضی طور پر بجلی کا بحران کم کردیتے اور انڈسٹری میں فیکڑیاں ایک شفٹ کی بجائے تین شفٹ چلتیں اور برآمدات کم از کم 40 ارب ڈالر تک پہنچ جاتیں

جہادی دہشت گرد بشمول ملک اسحاق افتخار چوہدری کی ماتحت عدلیہ کی طرف سے کُھلے چھوڑ دیے گئے

وزیراعظم گیلانی کو مشرف آمر کی طرف سے شامل کیے گئے توھین عدالت آرڈیننس کو بنیاد بناکر ایک جوڈیشل مارشل لاء کے زریعے سے فارغ کردیا گیا

اٹھارویں ترمیم میں شامل عدالتی نظام میں اصلاحات متعارف کرانے کی کوشش کو افتخار چوہدری اور نواز شریف کی ٹیم نے ملکر ناکام بناڈالا

پھر افتخار چوہدری، جنرل کیانی، نواز شریف اور جنرل ظہیرالسلام نے مل کر میمو گیٹ کیس کی شکل میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو گرانے اور قریب قریب ساری قیادت کو بغاوت و غداری کے ایک مقدمے میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کی منصوبہ بندی کی

جوڈیشل مارشل لاء لگایا گیا اور سوموٹو کے اختیار کو مارشل لاء کی فوجی عدالتوں کے لیے بنائے گئے ضابطے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا گیا

سموسے اور چینی کی قیمتوں میں بھی پی سی او عدلیہ نے مداخلت کی

یہاں تک کہ پی سی او عدلیہ نے اپنے مخصوص آلہ کار جیو-جنگ گروپ کے انصار عباسی، قیوم صدیقی جیسوں کی زھریلی قے اور محض افواہوں پر بھی سوموٹو لیے گئے

اس دوران ہمارے لبرل چمپئنز بھی اس بدعنوان اور موقعہ پرست بیوروکریٹ جج افتخار چوہدری کا دفاع کرنے میں مصروف تھے

ان کی پی پی پی سے نفرت ان کی عقل پر سوار ہوگئی جس کی وجہ سے افتخار چوہدری اور اس کے ٹولے کے ہاتھوں ہونے والی تباہی کا وہ اندازہ ہی نہ کرسکے-