Featured Original Articles Urdu Articles

ایران میں کمیونسٹ تحریک – عامر حسینی

ابھی کچھ دیر قبل کامریڈ تُلسیرام کی کتاب ‘ایران میں کمیونسٹ تحریک’ کے اردو ترجمے کی پروف ریڈنگ کرکے فارغ ہوا ہوں

یہ ترجمہ کسی زمانے میں کامریڈ استاد عبداللہ جمالدینی نے کیا تھا اور شاید یہ ترجمے کا پہلا اور خام ڈرافٹ تھا، جس کی نُوک پَلک درست کرنے کا اُن کا موقعہ نہیں ملا، لیکن کامریڈ استاد عبداللہ جمالدینی کا کیا ہوا یہ ترجمہ بہت سی ادق اصطلاحوں کے مناسب اور قابل فہم اردو متبادل سے ہمیں آشنا کراتا ہے-

انہوں نے ‘عرض مترجم’ کے عنوان سے پیش لفظ میں امید ظاہر کردی تھی کہ اس کی اشاعت کے حوالے سے جو لوگ متوجہ ہوں گے وہ، اس کی نوک پلک درست کرلیں گے، اس کتاب کی اشاعت کا اعزاز واحد بلوچ بھائی کے حصے میں آیا اور انہوں نے اس کے پروف پڑھنے کا اعزاز مجھے بخش دیا میں نے جب اس کتاب کا باقاعدہ مطالعہ شروع کیا تو مجھے انقلاب ایران بارے بنائے ہوئے کئی ایک نظریات سے دستبردار ہونا پڑا اور کم از کم تودے پارٹی آف ایران کی شاہ کے خلاف تحریک اور شاہ کے اترنے کے بعد کی حکمت عملی اور پالیسی بارے مجھے اپنے بہت سے خیالات پر نظر ثانی کرنا پڑی-

تودے پارٹی کے بارے میں سوویت یونین اور خود تودے پارٹی کی تاریخی دستاویزات سے مرتب کردہ تُلسیرام کی کتاب سے مجھے جو معلوم ہوا وہ یہ تھا

تودے پارٹی شاہ ایران رجیم اور اس کے سامراجی سرپرستوں کے خلاف سامراج دُشمن قوتوں کے وسیع تر اتحاد کی حامی تھی اور اُس نے خمینی اور اس کے ساتھیوں کا ساتھ دیا اور جب شاہ ایران کا تختہ اُلٹ گیا تو اُس نے خمینی اور اس کی قائم کردہ انقلابی کونسل کا ساتھ دیا جبکہ اس نے بنی صدر کے امریکہ نواز لبرل ازم، جاگیرداری و سامراج نوازی کی مخالفت کی اور جب صدام حسین نے ایران پہ جنگ مسلط کی تو تودے پارٹی نے خمینی اور اُس کی انقلابی کونسل کا ساتھ دیا، تودے پارٹی نے اپنے کاڈرز کو عراق کی سامراج نواز جنگ کے خلاف میدان جنگ میں اتارا اور عراقی کمیونسٹ پارٹی اور تودے پارٹی نے مشترکہ بیان میں صدام حسین کو سامراج کی کٹھ پُتلی قرار دیا

تودے پارٹی نے ماؤاسٹ لائن کو مسترد کیا، مجاہدین خلق کی کایا کلپ اور بنی صدر اور مسعود رجومی کے فرانس جاکر سامراجیوں کی گود میں بیٹھ کر ایران کی سامراج دُشمن قوتوں کا آلہ کار بن جانے پر شدید مذمت کی

تودے پارٹی نے ایران میں سامراج دشمن قوتوں کے خلاف مسلح دہشت گردی اور فدائی بم دھماکوں کی شدید مذمت کی

تودے پارٹی آف ایران کی 1986ء تک کی پالیسی کے احوال پر مبنی یہ کتاب ہے اور اُس وقت تک سوویت یونین کی ایرانی انقلاب کی جانب پالیسی اور رویے پر مشتمل کہانی کا بیان ہے

اس کتاب سے کہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ تودے پارٹی آف ایران کے کاڈرز کسی بھی مرحلے پر خمینی اور انقلابی کونسل سے تصادم یا ٹکراؤ میں آئے یا اُن کو بچھاڑ کر خمینی نے پاور حاصل کی بلکہ تودے پارٹی خمینی اور اُن کے ساتھیوں کو حقیقی سامراج دُشمن قوت کے طور پر دیکھتی رہی اور اُس نے ایران میں سوشلزم کی تعمیر پر سامراج دشمن اتحاد کو وسیع تر بنانے پر زور دیا

میرے لیے یہ بھی ایک انکشاف ہے کہ تودے پارٹی نے خمینی اور اُس کی کونسل کو ردانقلاب کی قوت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اُس نے انقلاب سے پہلے، انقلاب کے وقت اور بعد میں سامراج نواز لبرل بورژوازی، پیٹی بورژوازی، جاگیردار، زمینداروں، شاہ پرست ملاؤں ، منحرف ماؤاسٹوں اور منحرف مجاہدین خلق کو ردانقلاب، فرقہ پرست، الٹرا لیفٹ کے طور پر دیکھا

اس کتاب میں ایرانی انقلاب کو جس طرح سے دیکھا گیا، اُس طرح سے سبط حَسن نے نہیں دیکھا تھا، حیرت انگیز طور پر وہ اپنی کتاب میں ایران کے انقلاب میں تودے پارٹی اور اسلامی انقلابی کونسل کو ایک دوسرے سے برسرپیکار دکھاتے ہیں

اُن کے لکھے پیش لفظ کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تودے پارٹی نے جس بنی صدر کو سامراج کا ایجنٹ قرار دیا، اُس کو سبط حسن تحسین کی نظر سے دیکھ رہے تھے، تودے پارٹی نے انقلابی کونسل اور اس کی عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کو انقلابی سامراج دُشمن اقدام کے طور پر دیکھا اور اُس نے کردستان اور بلوچستان کے اندر شورش کو سامراج کے ایجنٹوں کی سازش اور منصوبے کے طور پر دیکھا

ویسے بھی سبط حسن کی کتاب کا دیباچہ 79ء میں لکھا گیا اور ایسا لگتا ہے کہ سبط حسن کی براہ راست رسائی تودے پارٹی کی پلنیم اور سوویت یونین کی حکمران پارٹی کی کانگریسوں کی دستاویزات تک نہیں تھی

سب سے بڑھ کر تودے پارٹی نے مابعد ایرانی انقلاب کو ایران-سعودیہ فریم ورک اور تنگ فرقہ وارانہ دائرے میں رکھ کر کوئی

False Binary

نہیں بنائی اور نہ ہی اُس نے ایران میں انقلابی کونسل کے اختیارات کو سبط حسن کی طرح ‘آیاتوکریسی’ جیسی اصطلاح سے تعبیر کیا

پاکستان میں مابعد انقلاب ایران پر کسی نے بھی تودے پارٹی آف ایران اور سوویت یونین کے نکتہ نظر تک رسائی کی کوئی علمی کوشش کی تھی یا نہیں مجھے نہیں معلوم لیکن یہ طے ہے کہ مابعد انقلاب ایران کے بارے میں سبط حسن کی کمنٹری تودے پارٹی کے نکتہ نظر کی بجائے لبرل ڈیموکریٹک بورژوازی نکتہ نظر سے زیادہ ملتی ہے