Original Articles Urdu Articles

نواز شریف لاڈلا ہو تو ہر سازش اورہر جُرم قابل قبول ہے – عامر حسینی

مطیع اللہ جان، عبدالقیوم صدیقی اور دیگر اپنی ایک ویڈیو میں بتارہے تھے ناز شریف کو سزا سنانے سے لیکر عمران خان کو سلیکٹ کرنے تک نیب، ایف آئی اے، عدلیہ، الیکشن کمیشن، فوج اور میڈیا سب کے اندر سے لوگ استعمال ہوئے

وہ بھول گئے یا نواز شریف کی عنایات اُن کو کہنے نہیں دیتی کہ اس سے کہیں زیادہ شدت اور قوت سے اور زیادہ بے رحم طریقے ان سب مذکورہ بالا اداروں اور تنظیموں کے اندر سے لوگ نواز شریف کی سلطنت قائم کرنے کے لیے استعمال ہوئے

نواز شریف اینڈ کمپنی کے اپنے جرائم تو آج کے رجیم سے بھی زیادہ شدید ہیں کیونکہ یہ جرائم جون بہانے سے سمیت ہر طرح کے سنگین جرم پر مشتمل ہیں

سوال یہ جنم لیتا ہے کہ نواز شریف جب نوے میں یہی سب کچھ کرے مرکز پر قابض ہوئے تھے اور اُس سے پہلے جیسے آئی جے آئی بنا اور پنجاب پر زبردستی 88ء میں نواز شریف کو قبضہ دلایا گیا اور 97ء میں دو تہائی اکثریت دلائی گئی اس وقت یہ ضمیر کہاں سویا ہوا تھا؟

اچھا 2009ء سے لیکر 2012ء تک نواز شریف، کیانی، افتخار چودھری، نیب، الیکشن کمیشن اور محفوظ اثاثوں کے زریعے سے پیپلزپارٹی اور اے این پی کے اقتدار کو تاروپیڈ کررہے تھے اور پھر آر اوز الیکشن سے سلیکٹ کردہ نواز لیگ لائی گئی تھی تو اس زمانے میں تو قیوم صدیقی، مطیع اللہ جان اور دیگر بھی زرداری کے خون کے پیاسے ہورہے تھے اور اس وقت کے جمہوری بساط کو محدود کرنے والوں کو ھیروز قرار دیا جارہا تھا

نواز شریف لاڈلا ہو ہر سازش اور ہر جُرم قابل قبول ہے، اس وقت نہ کسی کی ہوس دکھائی دیتی ہے اور نہ کسی کا جرم کسی سے حساب نہیں مانگا جاتا

جب جسٹس قیوم والی کال ٹیپ لیک ہوئی تھی تو یہ جو جمہوریت اور اینٹی اسٹبلشمنٹ سورما مجاہد صحافی ہیں ان میں سے کسی نے نہ کہا کہ عدالت اور نظام احتساب کے نیچے سے زمین کھینچ لی گئی ہے

ابھی سال بھی نہیں گزرا جب ڈان نے زرداری کو فیک اکاؤنٹس میں ناقابل تصور وائٹ کالر جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا اور بلاول کا نام ایگزسٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کو غلط اقدام قرار دیا تھا لیکن اب یہ کہتا ہے کہ جس پر صرف الزام ہو اس کا انٹرویو چلانا کوئی غلط نہیں اس لیے نہیں کہ زرداری کا انٹرویو آن آئر نہیں گیا بلکہ اس لیے کہ ایک تو مریم نواز کی پریس کانفرنس پہ پیمرا نے نوٹس جاری کیے بلکہ ان کے انٹرویو کو نشر کرنے سے سیٹھی کو رکوایا

کل تک زرداری، شرجیل میمن، قائم علی شاہ، فریال تالپور سمیت کئی لوگوں پر الزام کو ثابت جرم لکھا جاتا رہا اور میڈیا ٹرائل ہوتا رہا ہے تو کسی نے شور نہیں ڈالا، کسی کو نظام انصاف کا کھوکھلا پن نظر نہیں آیا، ماڈل ٹاؤن میں چودہ لاشیں گریں نظر نہیں آیا

لیکن وہی سب کچھ بہت کم شدت کے ساتھ نواز اینڈ کمپنی کے ساتھ ہو تو سیاپا اور شور دیکھنے والا، نواز اینڈ کمپنی نے جیسے میر مرتضیٰ بھٹو کا قتل سٹیج کرکے بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کی تھی، کیا ایسا ظلم نواز شریف کے ساتھ ہوا؟ کہ نواز شریف وزیراعظم ہوتے، شہباز شریف چیف منسٹر اور سڑک پر خدانخواستہ مرحوم عباس شریف قتل کردیا جاتا یا شہباز شریف کا داماد قتل ہوجاتا اور اسے بنیاد بناکر اُن کو اقتدار سے باہر کیا جاتا، ایسا ڈرامہ تو سٹیج نہیں ہوانا؟ کسی جسٹس کی ٹانگ پر بم باندھنے کا مقدمہ تو تیار نہیں ہوا، نواز شریف کو جیل گئے کتنے دن ہوئے؟ اور زرداری کتنے عرصہ جیل رہے؟ یہ تو ایک بار ضمانت پر باہر بھی آگئے لیکن یہ خود اپنے سیاسی حریف کو جلاوطن کرنے اور اس کے شوہر کو جیل میں منتقل کرنے میں کامیاب ہوئے اور جیل میں جب رانا مقبول اور چند فوجی افسروں نے زرداری پر دباؤ ڈالا کہ بے نظیر بھٹو کو بدکردار قرار دیکر طلاق کے کاغذ پر سائن کریں اور جب نہ کیے تو زبان کاٹ دی اور اتنا تشدد کیا کہ زرداری کی شلوار اور قمیص خون سے بھر گئی

اور پھر جب میثاق جمہوریت ہوچکا تھا تو یہ ایوان صدر میں بیٹھے زرداری کو اپنے ہی بنائے جھوٹے سوئس مقدمات میں زلیل کرکے باہر نکلوانا چاہتے تھے جس وزیراعظم نے ایسا کرنے سے انکار کیا، اس کے خلاف نااہلی کی درخواست لیکر سپریم کورٹ چلے گئے اور وزیراعظم نااہل کروایا، میمو گیٹ کیس میں یہ زرداری کو بغاوت کا مرتکب ثابت کرانا چاہتے تھے.. یہ کیانی اور افتخار چوہدری سے ملے اور اپنی سازشی تھیوریز کو میڈیا میں چھپاتے رہے

یہ کینہ، بغض، سازش، بدلے کی آگ میں تحریک انصاف سے اب بھی کہیں آگے اور زیادہ شرمناک ریکارڈ کے مالک ہیں