Featured Original Articles Urdu Articles

کمرشل صحافت کی قدر مشترک – پیجا مستری

نوٹ:پیجا مستری نے یہاں اُس صحافتی تجارتی ٹولے کا زکر کیا ہے جو یہ کمرشل ازم بلکہ گھٹیا تجارت جمہوریت، اسٹبلشمنٹ مخالفت اور آزادی صحافت کے نام پر کررہا ہے، دوسرا ٹولہ بھی ہے جو یہ کمرشل ازم وطن پرست، اسلام پسند، کرپشن مخالف نعروں کے تحت کررہا ہے، ان سب کے صحافتی دھندے کا موجب بس ‘پیسہ، مراعات، پریشر گروپ بننا وغیرہ ہے. یہ سب طاقت اور سوشل سٹیٹس کے بھوکے ہیں

یہ تصویر پاکستان کے اندر ہورہی کمرشل صحافت کے تمام تضادات سموئے ہے- زرا اس تصویر سے جھانکتی شکلوں کا جائزہ لیں، آپ کو پتا چلے گا کہ ان میں سے ہر ایک کی منفرد تاریخ ہے-اور ہر ایک شکل دوسری شکل سے بالکل مختلف خیالات اور مکمل طور پر متضاد نظریات رکھنے والی ہے-ان میں کچھ قدامت پرست تو کچھ لبرل، کچھ ان میں سے انتہاپسند کچھ الٹرا لبرل، کچھ بس توجہ کے متلاشی، کچھ دانشور، ان میں سخت گیر کچھ اسلامی جمعیت طلباء کا پس منظر رکھنے والے اور کچھ اپنے تئیں خالص کمیونسٹ ہیں-کچھ قدامت پرست خواتین ہیں اور دوسری کچھ لبرل ہیں-کچھ سرکاری خرچے پر حج کرتی ہیں اور کچھ حکومتی پیسے پر سیر سپاٹے کرنا پسند کرتی ہیں-

تو ان سارے تضادات کے ساتھ ان میں کیا چیز مشترک ہے؟

ظاہر ہے آپ کہیں گے، ‘ان کا جمہوریت سے عشق اور ان کے اسٹبلشمنٹ مخالف خیالات’

آپ یہ بھی کہیں گے، ‘یہ سب عزت مآب جمہوریت پسند ہیں، جمہوری رویوں پر ایمان رکھتے ہیں-قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور یہ سارے فوجی جنتا کے حکومت میں کردار کے یکسر مخالف ہیں’

آپ کو اگر ذوق پاسداری_انسانی حقوق بھی ہے تو آپ یہ بھی کہیں گے،’ انھوں نے آزادی اظہار کی جنگ بھی لڑی ہے اور ان خواتین و حضرات کی جمہوری ساکھ بہت بلند ہے-وہ ایک دوسرے سے ہر معاملے پر مختلف رائے رکھتے ہوں گے مگر ایک چیز پر یہ سب اکٹھے کھڑے ہیں

جمہوریت اور اسٹبلشمنٹ مخالفت


کیا وہ؟

مجھے ایک کہانی بیان کرنے کی اجازت دیں


پیچھے 2008ء میں، جب پی پی پی کی حکومت تھی-میر شکیل الرحمان صدر زرداری سے ملے-اور ان کو یہ بتانا چاہا کہ دیکھو میڈیا اتنی طاقت رکھتا ہے کہ وہ مشرف جیسے ایک آمر کو ہٹا سکتا ہے تو زرداری کی ان کے سامنے کیا اوقات ہوسکتی ہے

میر شکیل کامیاب عدلیہ تحریک کی کامیابی کے بعد اپنی صحافیوں کی ٹیم کے ساتھ عروج کی بلندیوں کو چھو رہے تھے

بہرحال صدر زرداری ان کے آگے نہ جھکے اور مضبوطی سے پیر جمائے رہے

محض ایک سال کے اقتدار کے بعد، افتخار چودھری اور کیانی کی مدد سے میڈیا نے پی پی پی سرکار کے خلاف ایک گھناؤنی مہم شروع کی

پی ٹی آئی کے پاس تو ایک مضبوط رد پروپیگنڈا ونگ تھا (یہ اصل میں چوہدری-کیانی دور میں پی پی پی کے خلاف لانچ ہونے والی کمپئن چلانے والے ایک سیکشن پر مشتمل تھا)- جبکہ پی پی پی کے پاس اس کمپئن کو رد کرنے کے لیے زرایع کی کمی تھی

اس تصویر میں موجود ہر ایک شکل کے پاس اُس پروپیگنڈا مہم میں ایک خاص متعین کردہ کردار تھا

یہ کردار ان کے پس منظر ان کے ہدف پر موجود ناظرین کے مطابق طے کیا گیا تھا

میرے پسندیدہ نصرت جاوید اور امتیاز عالم، کالموں میں اشاروں، کنایوں سے بتاتے کہ کیسے زرداری اپنی کرپشن چھپانے کے لیے اپنے وزیراعظم کو سوئس حُکام کو ایک خط لکھنے کی اجازت نہیں دے رہا

کامران خان، شازیب جانزادہ گھنٹوں پر محیط پروگرام زرداری کی کرپشن ثابت کرنے پر چلاتے، حجن آپا جسے پی پی پی نے سرکاری خرچے سے حج پر بھیج کر خریدنے کی کوشش کی، اُس نے حج کے بدلے اپنا ایمان فروخت نہیں کیا اور صدر زرداری کے خلاف کلمہ حق کہنا جاری رکھا

ظاہر ہے حامد میر، سلیم صافی اپنے طالبان برادران پر ڈرون حملوں سے سخت ناراض تھے-وہ مسٹر زرداری کی مخالفت کے پابند تھے اور اسامہ بن لادن کی موت کے بعد تو یہ ہر ایک مسلمان اور صحافیوں پر زرداری کی مخالفت کرنا فرض بن گیا تھا

اس مخالفت میں ہمارے کامریڈ امتیاز عالم بھی خشوع و خضوع سے شریک تھے

یہ ایک معجزہ ہی تھا کہ زرداری اس مہم سے بچ نکلے-(اگرچہ پی پی پی کے دو انتہائی قیمتی ساتھی سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کی جانیں چلی گئیں-)
وہ کہتے ہیں کہ میر شکیل خودکُشی کرلیتا اگر اُسے کیانی یہ نہ بتاتا کہ اسے پریشان نہیں ہونا چاہیے نواز شریف جلد ہی واپس آنے والا ہے

تو میرے جیالو،جمہوریت کا درد رکھنے والو، آزادی صحافت کی سچی قدر کرنے والو، یہ جمہوریت سے عشق اور اسٹبلشمنٹ سے محبت نہیں ہے جو ان سب کے درمیان قدر مشترک ہے بلکہ جو شئے ان میں مشترک ہے وہ؟


تم نے اندازہ لگایا ہوگا، نواز شریف ہے. اس کا پیسہ ہے اور اس کی نوازشات ہیں