Featured Original Articles Urdu Articles

محترمہ فاطمہ جناح اور غداری کے الزامات

مطالعہ پاکستان کو چھٹی یا ساتویں جماعت میں پڑھایا جاتا ہے کہ قائد اعظم کی وفات کے بعد فاطمہ جناح نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی جو کہ مطالعہ پاکستان کے دیگر جھوٹ کی طرح کھلا جھوٹ ہی ہے

صدارتی الیکشن 1965 محترمہ فاطمہ کے مد مقابل ایوب خان الیکشن لڑ رہے تھے سندھ کے تمام جاگیر دار گھرانے ایوب خان کے ساتھ تھے، پی پی جو آج جمہوریت کے گن گاتی ہے وہ بھی جان لیں کہ بھٹو نے الیکشن میں نہ صرف ایوب خان کا ساتھ دیا تھا بلکہ وہ محترمہ فاطمہ جناح کو ضدی بُڑھیا کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے، اسوقت بھٹو، جتوئی محمدخان جونیجو، ٹھٹھہ کےشیرازی ،خان گڑھ کے مہر، نواب شاہ کےسادات ، رانی پور ہالا کےپیران کرام ایوب خان کےساتھی تھے جبکہ فاطمہ جناح کے ساتھیوں میں جی-ایم-سید حیدرآباد کےتالپوربرادران ، بدین کے فاضل راہو۔ فاطمہ جناح کےحامی تھے یہی لوگ غدار کہلائے

‏پنجاب کے تمام سجادہ نشین سوائے پیرمکھڈ صفی الدین کوچھوڑکر باقی سب ایوب خان کےساتھی تھے۔سیال شریف کےپیروں نے فاطمہ جناح کےخلاف فتوی دیا ، پیرآف دیول نےداتادربار پر مراقبہ کیا اور کہاکہ داتا صاحب نےحکم دیا ہے کہ ایوب کوکامیاب کیاجائے ورنہ خدا پاکستان سےخفاہوجائیں گے، ۔جماعت اسلامی کے بانی امیر سید ابوالااعلی مودودیؒ نے ایوب کیخلاف فاطمہ جناح کی بھرپور حمایت کی تھی۔

فاطمہ جناح کئ محاذ پر اکیلی لڑ رہی تھیں ان کے خلاف فتوی لگائے گئے کردارکشی اور بددیانتی کے الزامات لگائے گئے یہاں تک کہ قردار بھی منظور کروا لی گئ سرحد سے ولی خان نے فاطمہ جناح کی حمایت کی اور یہ بھی غدار کہلائے، ‏صدارتی الکشن کےدوران فاطمہ جناح پر پاکستان توڑنےکاالزام بھی لگا یہ الزام زیڈ-اے-سلہری نے اپنی ایک رپورٹ میں لگایا جس میں مس جناح کی بھارتی سفیرسےملاقات کاحوالہ دياگیا ۔ 1970کے الیکشن میں پیسے بانٹے گئے

اور یہ گھناؤنا کام جنرل غلام عمر [ والد اسدعمر ] نے سرانجام دیا۔ فاطمہ جناح کو جس طرح تشدد کر کے ہلاک کیا گیا اس کے کئ ثبوت مل چکے تھے مگر جس کے پاس تھے اسے پاگل قرار دے کر پاگل خانے بھجوادیا گیا وہیں اسکا انتقال بھی ہوا۔

‏(حوالےکیلئےدیکھئے

ڈکٹیٹرکون۔۔ایس-ایم-ظفر
میراسیاسی سفر ۔۔حسن محمود
فاطمہ جناح۔۔ابراھیم جلیس
مادرملت۔۔ظفرانصاری
فاطمہ جناح حیات