Original Articles Urdu Articles

پشاور میٹرو بس منصوبے میں ہلاکت انگیز نقائص موجود- اے ڈی بی کی رپورٹ میں انکشاف – عامر حسینی

نام نہاد کرپشن مخالف پاکستان تحریک انصاف کی کے پی کے کی حکومت کے پشاور میٹرو بس پروجیکٹ میں کرپشن کے مبینہ ثبوت ایشیائی ترقیاتی بینک کی تکنیکی رپورٹ میں فراہم کردیے گیے ہیں

ایکسپریس ٹرائبون نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس کو مارچ 2019ء میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی تکنیکی ٹیم کے پشاور ریپڈ ماس بس ٹرانزت منصوبے کی تکنیکی رپورٹ مل گئی ہے

رپورٹ میں کہا گیا ہے

تحریک انصاف کی حکومت نے جس ڈئزائن پر اتفاق کیا گیا تھا، منصوبہ اُس سے انحراف کرکے بنایا گیا ہے

اس میں ہلاکت خیز نقائص دیکھنے کو ملے

70 ارب روپے کے منصوبے کی تعمیر کے دوران ناقص میٹیریل کے استعمال نے انسانی جانوں اور منصوبے کی پائیداری کو خطرات سے دوچار کردیا ہے

رپورٹ میں حکومت کو خبردار کیا گیا کہ پشاور میٹرو کے روٹ کے اسٹیشن نمبر 10،12،16 اور 26 پر بسیں آپس میں ٹکرا سکتی ہیں، کیونکہ جو لائن کی چوڑائی 6.5 میٹر سے کم ہے

ناقص مواد سے بنی ٹائلز اسٹیشن کے فرش پر لگانے سے بسیں اسٹیشن پر رُکتے وقت نقصان کا شکار ہوسکتی ہیں جس سے مسافروں کے زخمی ہونے کا اندیشہ ہے، ٹائلز پر پھسلن زیادہ ہے اور سمت کی جانب اشارہ کرنے والے تیر نشان ٹائل بھی نہیں لگائے گیے

صوبائی حکومت نے بھی کم تر اور ناقص میٹیریل کا استعمال کیا جو نہ صرف سسٹم کی کارکردگی کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ گھٹیا پروڈکٹ عوام کو فراہم کرنے کا باعث بننے والا ہے

حکومت نے تعمیرات کی نگرانی اور اس بارے میں کمیونیکیشن کا بھی کوئی مناسب طریقہ کار پر مبنی نظام تیار نہیں کیا

ایشیائی ترقیاتی بینک نے کے پی کے حکومت کو لکھا ہے کہ وہ منصوبہ پر کام کرنے والے ٹھیکے دار کو مزید ادائیگی نہ کرے اور وہ بھی اس منصوبے کے لیے اگلی قسط کا اجراء اُس وقت تک نہیں کرے گی جب تک وہ ٹھیکے دار سے منصوبے میں موجود نقائص کو دور نہ کرالے

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پشاور میٹرو بس منصوبے کی کُل لاگت 70 ارب روپے میں سے 55 ارب روپے فراہم کرنے کا معاہدہ کیا ہے- اے ڈی بی اور کے پی کے حکومت کے درمیان ہوئے معاہدے کا حصہ اس منصوبے کے لیے تیار کیا جانے والا ڈئزائن سمیت ساری فیزیبلٹی رپورٹ ہے

اے ڈی بی کی تکنیکی ٹیم نے مارچ میں سائٹ انسپکشن کرکے تکنیکی رپورٹ تیار کی اور اُس رپورٹ کو کے پی کے حکومت سے شئیر کرتے ہوئے مذکورہ بالا بدترین نقائص کی نشاندہی کی

پی ٹی آئی کے سربراہ موجودہ وزیراعظم عمران خان مسلم لیگ نواز کی جانب سے لاہور، ملتان، راولپنڈی میں میٹرو بس منصوبوں کو جنگلی بسیں کہہ کر ان منصوبوں کو قومی آمدن کا ضیاع قرار دیتے رہے اور ان منصوبوں میں کرپشن کا الزام بھی عائد کرتے رہے…. لیکن بعد ازاں ان کی کے پی کے حکومت نے نہ صرف پشاور میٹرو بس منصوبے کا آغاز کیا بلکہ یہ منصوبہ غیر معمولی طوالت اور لاگت میں کئی گنا مہنگا ثابت ہوا

لاہور، اسلام آباد اور ملتان میٹرو بس منصوبے بلترتیب 29 ارب، 24 ارب اور 29 ارب سے تعمیر ہوئے تھے جبکہ روٹ کی لمبائی بالترتیب 27، 14 اور 11 کلومیٹر تھی

پشاور میٹرو بس روٹ کی لمبائی کی لمبائی 27 کلومیٹر ہے

پہلے اس پروجیکٹ کی لاگت کا تخمینہ 41 ارب روپے لگایا گیا، پھر 55 ارب روپے اور اب یہ 70 ارب روپے ہوچکا ہے

کے پی کے حکومت نے اس منصوبے کے لیے 55 ارب روپے کا وعدہ اے ڈی بی سے اور جنوری 2019ء میں فرانسیسی سفارت خانے کے اعلان کے مطابق 20.4 ارب روپے فرانس سے لینے کا معاہدہ کرلیا ہے، دیکھا جائے تو اس منصوبے کے لیے صرف قرض کی مد میں انصافی حکومت 75 ارب روپے سے زیادہ لینے کا انتظام کیے ہوئے ہے

یاد رہے کہ اب تک کے پی کے حکومت نے سرکاری طور پر اس منصوبے کی نظرثانی لاگت کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن منصوبے کی لاگت ابتدائی اعلان کردہ لاگت سے 56 فیصد بڑھ چکی ہے جو دوگنا سے زیادہ ہے

اسلام آباد میٹرو بس پروجیکٹ کی 29 ارب کی لاگت کے خلاف پی ٹی آئی عدالت میں چلی گئی تھی جبکہ لاہور و ملتان میٹرو بس کے خلاف تحقیقات چل رہی ہیں

لیکن اے ڈی بی نے پشاور میٹرو بس منصوبے میں مبینہ بدعنوانی کی نشاندہی کرکے مزید فنڈ کا اجراء روک دیا ہے

ایشیائی ترقیاتی بینک کی تکنیکی رپورٹ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی اخلاقی گراوٹ کا پول کھولتی ہے

اس منصوبے میں خزانے کو مبینہ نقصان پہنچانے کے زمہ داران سابق و موجودہ چیف منسٹرز سمیت سابق و موجودہ حکومتی عہدے داروں کے خلاف نیب میں موجودہ انکوائری ابتدائی درجے پر کیوں ہے؟ ان لوگوں کو نیب نے مزید تفتیش کے لیے زیر حراست کیوں نہ لیا، جبکہ اس نے اپوزیشن کے کئی رہنماؤں کو تفتیش مکمل کرنے کے نام پر زیر حراست رکھا ہوا ہے

کیوں؟