Original Articles Urdu Articles

اونچی دُکان، پھیکا پکوان – عامر حسینی

ٹوئٹر پہ ‘عمران خان کے سپاہیوں’

(@IKWariors)

کے نام سے ایک اکاؤنٹ ہے، اُس نے کل 4 جون، 2019ء کو ھیش ٹیگ ‘پاکستان مخالف صحافیوں کو گرفتار کرو’

(#ArrestAntiPakJournalists)

کے نام سے ایک ٹرینڈ شروع کیا اور 24 گھنٹوں میں یہ ٹوئٹر پہ ٹاپ ٹرینڈ میں بدل گیا

ایسے ٹرینڈ پاکستان میں سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے فسطائی رجحانات کی ہی نہیں بلکہ ملک میں آزادی صحافت کی کَم ہوتی جگہ اور آمرانہ رویوں کے بڑھنے کی علامت بھی ہے

میں اس ہیش ٹیگ کی بھی مذمت کرتا ہوں اور غدار و گستاخ کے کھیل کو زرا سی جگہ دینے کے حق میں نہیں ہوں اور نہ ہی کسی بھی طرح کے استدلال سے ایسے عمل کو جائز سمجھتا ہوں

لیکن میرے اپنے بھی کچھ تحفظات ہیں جن کا میں تفصیل سے اظہار کرنا چاہتا ہوں

تحریر کی غیرمعمولی طوالت پر پیشگی معذرت

اس ھیش ٹیگ کے تحت تصاویر کا ایک مجموعہ بھی لگایا گیا، جن میں ایسے صحافیوں، اینکرز، کالم نگار اور تجزیہ کاروں کی تصاویر تھیں (سوائے ایک کو چھوڑ کر) جن پر یہ الزام ہے کہ وہ سینٹر پرویز رشید کے مشورے سے مریم نواز شریف کے قائم کردہ میڈیا سیل کے غیر اعلانیہ اراکین ہیں اور ان کی حالیہ دس سال اور گیارہ ماہ کی صحافت کو نواز لیگ کی امیج بلڈنگ، پہلے پی پی پی حکومت کی کردار کُشی اور ان کو ہر طریقے سے بدنام کرنے اور پھر پانچ سال گیارہ ماہ تحریک انصاف اور اس کی جملہ قیادت کے خلاف جہاد کرنے سے عبارت کہی جاتی ہے

کہا جاتا ہے کہ ایک صحافی کو چھوڑ کر باقی کے تمام صحافی اسٹبلشمنٹ خاص طور پر ملٹری اسٹبلشمنٹ کے باب میں عجب تضاد کا شکار رہے

پی پی پی کے دور حکومت میں یہ افتخار چودھری کے پی پی پی کی حکومت کے خلاف اقدامات پر مبنی جوڈیشل ایکٹوازم کو ‘آزاد عدلیہ’ اور ملٹری کی قیادت کے اقدامات بشمول میمو گیٹ و کیری لوگر بل، پاک امریکہ افغان تعلقات کے حوالے سے پی پی پی کی حکومت کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو ‘ملکی سلامتی اور امریکہ مخالف’ قرار دیتے رہے اور اس کی تحسین فرماتے رہے

جبکہ مسلم لیگ نواز کے دور کی عدلیہ اور فوجی قیادت سے اختلافات اور رسا کشی پر انہوں نے بلند آہنگ سے نواز شریف کی سائیڈ لی اور بلکہ نواز لیگ اور پی پی پی کے درمیان سندھ کے معاملات پر جب اختلاف بڑھا اور نواز شریف کی حکومت نے پی پی پی کے خلاف مقدمات نیب، ایف آئی اے میں قائم کروائے تو اُن پر بھی انہوں نے الٹا آصف زرداری کو کرپٹ کہا


یہاں تک کہ عمران خان کے زمانے میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس، بے نامی اثاثوں کے الزامات میں آصف علی زرداری کو اس وقت تک قصوروار ٹھہرایا جب تک پی ٹی آئی حکومت نے کھل کر اپنا فسطائی رویہ دکھا نہ دیا اور ان صحافیوں کے پیچھے نواز لیگ کی قیادت نہیں آئی، یہ بلاول بھٹو تھا جو ان کے لیے آگے ہوا

یہ تو طے ہے جن صحافیوں کی تصاویر مذکورہ بالا ھیش ٹیگ کے ساتھ دی گئی ان میں سے ایک صحافی ایسا ہے جس نے اگرچہ پی پی پی کے پانچ سالہ دور حکومت میں پی پی پی کے خلاف عدلیہ اور فوج کی اشرافیہ کی چڑھائی کو جائز بتایا اور وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر بلیک واٹر اور امریکی سفارت خانے کی توسیع کے بارے میں گھٹیا سازشی تھیوریز اخبار اور ٹی وی چینل پر دیتا رہا اور اُس نے میمو گیٹ اسکینڈل سامنے آنے پر اس کو اپنے کالموں اور ٹی وی شوز میں ‘ناقابل تردید سچ’ بناکر دکھانے کی کوشش کی اور مشرف کے مبینہ این آر او کو بھی خوب اچھالا لیکن اُس نے نواز لیگ کے پانچ سالہ دور میں کبھی عدلیہ تو کبھی ملٹری اسٹبلشمنٹ تو کبھی نواز لیگ تو کبھی پی پی پی کی طرف جھکاؤ ظاہر کیا لیکن اُس نے بہرحال تھریک انصاف کی حکومت کے لیے کوئی نرمی نہیں دکھائی

یہاں پر اُسے پیپلزپارٹی عمران خان کے اقتدار کو بچاتی ہوئی بھی لگی

اگر دیکھا جائے تو اپنے آخری تجزیے میں کم وبیش سب ہی صحافی نما اینکرز کا گزشتہ دس سال گیارہ ماہ کے دوران پیدا کردہ صحافتی مواد اور قریب قریب اتنے ہی عرصہ پر مشتمل سوشل میڈیا ایکٹوازم زبردست قسم کی نواز لیگ کی امیج بلڈنگ سے عبارت ہے اور بہت ہی کم حصہ ہے جو اس ملک کی دیگر جمہوری پارٹیوں کے بارے میں مثبت رائے سازی کے ضمن میں ہو جبکہ انھوں نے پیپلزپارٹی کی جانب ہمیشہ سکینڈلس صحافت کی

پاکستان آرمی، انٹیلی جنس ایجنسیوں، ججز، نیب، ایف آئی اے کی جانب ان کا سکینڈلس صحافت کا ہُنر پی پی پی کے دور میں سویا رہا اور وہ ہُنر اُن کو عظیم صاحبان بصیرت بناکر دکھاتا رہا اور جیسے ہی نواز شریف سے یہ لڑائی میں آئے تو یہ ھنر ان سب کے خلاف انگڑائی لیکر بیدار ہوا اور ایک دَم سے یہ سب جمہوریت، آزادی اظہار کے علمبردار اور زبردست اینٹی اسٹبلشمنٹ بن گئے

یہ جو ایک موقعہ پر حُب الوطنی کے نام پر اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہونا اور دوسرے وقت میں جمہوریت اور آزادی صحافت کے نام پر اسٹبلشمنٹ کے مخالف ہونا ظاہر کرنا ایک ایسا عمل ہے جس نے ان صحافیوں کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے

ان میں جن صحافیوں کی تصاویر شامل ہیں یہ سب کے سب اب تک رانا ثناءاللہ کی گرفتاری کو خواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی، شیخ مجیب، زوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو سمیت جمہوریت کی خاطر پاکستانی سیاست کے سب ہی بڑے ناموں کے مصائب سے مماثلت دے چُکے، سب کے سب جیل کے پیچھے آمرانہ دور میں جانے والی بے نظیر اور نواز شریف کی تصاویر کے ساتھ رانا ثناءاللہ کی جیل کے پیچھے کی تصویر کو شئیر کرکے فیض و جالب و فراز کے اشعار لکھ لکھ کر اظہار خیال کررہے ہیں اور ایک کے بعد دوسرا ٹوئٹ آرہا ہے

کیا وجہ ہے کہ جب مسلم لیگ نواز کا کوئی بڑا یا چھوٹا ریاست کے کسی ادارے بشمول عدالت کی زد میں آتا ہے تو جن کی تصاویر ہیں اس ہیش ٹیگ کے ساتھ وہ سب کے سب ایک باقاعدہ ٹرینڈ بناکر درجنوں ٹوئٹ کرتے ہیں اور درجنوں یہ ایسے پروگرام اور کالمز لکھتے ہیں جس سے ‘عظیم المیہ’ اور ‘ترحم و ترس’ کا جذبہ بیدار کرنا مقصود ہوتا ہے

لیکن ایسا ردعمل کبھی کبھی ایسی بڑی سے بڑی ٹریجڈی پر بھی دیکھنے کو نہیں ملتا جو نواز لیگ کے باب میں ملتا ہے

آخر اتنے بڑے جمہوریت پسند، انسانی حقوق کے علمبردار، ریاستی جبر وتشدد کے مخالف سانحہ ماڈل ٹاؤن پر خاموش رہتے یا سرد سا نمائشی ردعمل دیتے ہیں یا اسے بھی کسی اور کے کھاتے میں کیوں ڈال دیتے ہیں؟

جن لوگوں نے رانا ثناءاللہ کے داماد، بیوی اور بیٹی کو پرائم ٹائم میں جگہ دی (سوائے کامران شاہد کے جو اس البم تصویر میں نہیں ہے) کیا انھوں نے اپنے پرائم ٹائم ٹاک شوز میں سانحہ ماڈل ٹاؤن میں مقتول ہوجانے والوں کے گھر والوں، بیٹیوں، بیٹوں، ماؤں، بہنوں کی روتی، بلکتی، بین کرتی اور اپنی بے بسی اور انصاف نہ ملنے، اُلٹا گھر کے دیگر مردوں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات کے اندراج پر احتجاج کی ویڈیوز آن ائر کیں تھیں؟ نہیں بالکل نہیں

کیوں؟ یہ سوال پوچھنا ہی جُرم بن جائے گا

شرجیل میمن ہائیکورٹ کی ضمانت قبل از گرفتاری کے باوجود دھرلیے گئے، ان کی گرفتاری پر کیا ہم نے ایسی آہ و فغاں اس صحافتی بریگیڈ کی جانب سے دیکھی، شرجیل میمن کی کراچی جیل سے تصویر کو لیکر کبھی بے نظیر اور نواز شریف کی پس جیل والی تصاویر کے ساتھ شیئر کیا گیا اور فیض و جالب کے اشعار لکھے گئے؟

آصف علی زرداری کی گرفتاری پر ہم نے کیا ایسا جرنلزم اور سوشل میڈیا ایکٹوازم دیکھا جو اس البم میں لگی تصویروں میں موجود صحافیوں نے رانا ثناءاللہ کے باب میں کیا

کچھ لوگ کہیں گے کہ حامد میر نے کیا یہ بات درست ہے کہ حامد میر نے کافی ہمت سے کام لیکر آصف علی زرداری کے انٹرویوز کیے لیکن ان انٹرویوز کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس نے زرداری سے تو سینٹ انتخابات اور پھر زرداری صاحب کی اپنے اوپر بنے کیسوں بارے کیے گئے سوالات کے جوابات کو کمزور کہا لیکن رانا ثناءاللہ کی گرفتاری پر لکھے گئے کالم میں اُس نے بھول کر بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن، کالعدم تنظیموں کی سرپرستی، سیاسی مخالفین کے قتل کے الزامات کا اشارہ تک نہ دیا کیوں؟ الزام تو الزام ہوتے ہیں، ایک پر لگیں تو بار بار تذکرہ جبکہ دوسرے کی سیاست کے منفی پہلوؤں، بدزبانی کا زکر تک غائب کردیا جائے

پاکستان میں جمہوریت، آزادی صحافت اور بنیادی انسانی حقوق کے علمبردار کہلانے والے کئی اشراف صحافیوں کو ان مذکورہ بالا نعروں اور بینرز تلے ابتک کی اپنی صحافت اور سوشل میڈیا ایکٹوازم پر خود احتسابی اور خودتنقیدی والی نظر ڈالنا پڑے گی

ایک اور لٹمس ٹسٹ آج بھی ہے جب پانچ جولائی ہے، زرا البم والے صحافیوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کا وزٹ کریں پتا چل جائے گا کہ ان کی آمریت سے نفرت اور جمہوریت سے نئے عشق میں کتنا دَم ہے

افتخار احمد کو اس معاملے میں کم از کم یہ استثنا ہے کہ اُس نے ضیاءالحق کے دور میں اور کم از کم میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل سے پہلے کا دورانیہ پیپلزپارٹی کے باب میں توازن کے ساتھ گزارا لیکن بعد ازاں وہ بھی نجانے کن سے مل گیا اور اب وہ پہلے سی بات نہیں ہے