Original Articles Urdu Articles

کمبل – عامر حسینی

جیو نیوز کو آصف علی زرداری کا انٹرویو پر مشتمل کیپٹل ٹاک پروگرام نشر کرنے سے روک دیا گیا

حامد میر کو ڈان نیوز کے پروگرام ‘زرا ہٹ کے’ میں انٹرویو نشر نہ ہونے کے حوالے سے بات چیت کے لیے بُلایا گیا مگر دباؤ کے سبب ان کی بات چیت آن ائیر نہیں گئی-

حامد میر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر آصف علی زرداری کے انٹرویو کے آن ائیر نہ جانے پر ٹوئٹ کیا تو جواب میں سب سے پہلے ایک اور ٹی وی اینکر اور رپورٹر و کالم نویس رؤف کلاسرا جوابی ٹوئٹ کے ساتھ آئے، اُن کا کہنا تھا کہ حامد میر کو ایک ایسے شخص کا انٹرویو نہیں کرنا چاہیے تھا جس پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے، وہ نیب کی تحویل میں ہے اور اس کا جسمانی ریمانڈ لیا جاچکا ہے

حامد میر نے جواب میں کہا کہ یہ کوئی جرم نہیں ہے، جب ایک ایسے شخص کا انٹرویو آن آئر جاسکتا ہے جس نے اُن کی کار کے نیچے بم رکھا ہو، اُس کا اعتراف کیا ہو یعنی احسان اللہ احسان تو آصف علی زرداری کا انٹرویو کیوں نہیں؟
رؤف کلاسرا نے کہا کہ وہ انٹرویو بھی جیو نیوز پر چلا تھا اور آخر جیو نیوز ہی کیوں ایسے لوگوں کے انٹرویوز کرتا ہے جن پر سنگین الزام ہوتے ہیں؟

رؤف کلاسرا کو حامد میر نے جواب میں بتایا کہ انہوں نے موجودہ وزیراعظم کا انٹرویو اس وقت کیا تھا جب وہ عدالتی اشتہاری قرار دیے جا کے تھے

رؤف کلاسرا نے جواب میں کہا کہ گرفتار ملزم اور اشتہاری میں فرق ہوتا ہے

یہ ٹوئٹر پر چلنے والا مکالمہ اتنی سی بات تو ثابت کرتا ہے کہ رؤف کلاسرا کے پاس نہ تو کلبھوشن کے انٹرویو کے آن ائیر جانے کا جواب تھا، نہ احسان اللہ احسان کا، نہ کلبھوشن یادیو کا نہ ابھیندن پائلٹ کا، نہ بغاوت کے الزام میں عدالت سے مفرور سابق آمر کے پرائم ٹائم میں ٹی وی چینلز پر انٹرویوز کا، نہ ہی کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کا

جواب اور جواز ہے صرف اور صرف آصف علی زرداری کے انٹرویو پر پابندی کا کیونکہ موجودہ حکومت اور اس کی سرپرستی کرنے والوں کے نزدیک یہ انٹرویو نشر نہیں ہونا چاہیے تھا بس

باقی اس پابندی کے جواز گھڑنے کی زمہ داری رؤف کلاسرا، عارف حمید بھٹی، امیر عباس، صابر شاکر اور ان جیسے دیگر اینکرز اور صحافیوں اور سوشل میڈیا پر آل یوتھ پر ڈال دی گئی

اس انٹرویو کے نشر ہونے پر پابندی سے صرف دو دن پہلے مسلط کیے گئے وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے اندر خطاب کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے گرفتار اپوزیشن رہنماؤں کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے، ااور پھر ان کو اجلاس کے دوران خطاب کرنے دینے، پاکستانی مین سٹریم میڈیا کی طرف سے ان کی کوریج کرنے پر سخت نالاں ہیں

آصف علی زرداری کا انٹرویو کوئی نئی اور انوکھی باتوں پر مشتمل نہیں تھا

اُس انٹرویو میں آصف علی زرداری نے عمران خان کے جلد رخصت ہوجانے کی بات کوئی پہلی بار نہیں کی تھی اور نہ ہی آصف علی زرداری نے سیاسی عمل میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت پر پہلی بار تنقید کی تھی

نہ ہی آصف علی زرداری نے اپنے اوپر بنائے گئے مقدمات کو پہلی بار بے بنیاد اور سیاسی انتقام کا شاخسانہ قرار دیا تھا

اس انٹرویو سے شاید موجودہ حکومت کے جابرانہ اور غیرجمہوری طرز حکمرانی بارے عوام کے اندر جذبات اتنے نہ بیدار ہوتے جتنا، اس انٹرویو کے نشر کرنے پر پابندی اور اُس کے بعد چلنے والی بحث سے پیدا ہوگئے ہیں-

اس وقت حکومت کرپشن کے خاتمے، منی لانڈرنگ، لوٹی دولت واپس لانے اور اس سے ملتے جلتے جتنے دیگر نعرے لگاکر اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریاں کررہی ہے اور اپوزیشن کو کوریج دینے والے صحافیوں، اینکرز، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی صحافتی سرگرمیوں پر سنسر کا ھتیار استعمال کررہی ہے، اُس سے اس کے یہ سارے ‘نیک اقدامات’ سیاسی انتقام، حکومت نہ چلا پانے اور بگڑتی معاشی صورت حال اور مہنگائی سے پیدا ہونے والے ردعمل اور تنقید سے پیدا فرسٹریشن اور تناؤ کا نتیجہ سمجھے جارہے ہیں

عمران خان کے بیانات اور اقدامات کا نفسیاتی تحلیلی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ وہ اپوزیشن میں رہ کر اپنے حکومت میں آنے کے بعد مڈل کلاس کو جس خوشحالی لانے والی اور انصاف پر مبنی نظام سیاست متعارف کرانے والی حکمت عملی اور اس کے ثمرات کے خواب دکھایا کرتے تھے، اس کی بدترین تعبیر کے بعد اپنی شخصیت کے کھوکھلے پَن کے سامنے آنے پر سخت خفا ہیں بلکہ غصے اور طیش کی کیفیت میں ہیں، وہ اپنی اور اپنی ٹیم کی نااہلی کا زمہ دار بھی اپوزیشن اور ان کی کوریج کرنے والوں کو خیال کرنے لگے ہیں

اُن کو یہ وہم لگ گیا ہے کہ اگر میڈیا اور سوشل میڈیا اُن کی حکومت کے بلنڈرز، ہمالیائی غلطیاں عوام کے سامنے نہ لائے، وہ اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کی جانب سے حکومت کے اقدامات پر تنقید کو نشر نہ کرے تو ایک دَم سے سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور اُن کی نااہلی چھپ جائے گی

عمران خان کو ایک اور وہم بلکہ دماغی خلل بھی لاحق ہے، اُن کا خیال یہ ہے کہ وہ اپوزیشن رہنماؤں، کئی ایک بینکرز، تاجروں کو نیب، ایف آئی اے کے حوالے کرکے اُن سے اتنا پیسہ ریکور کرلیں گے جس سے بجٹ کا کرنٹ خسارہ کم کرنے میں قابل تشفی مدد مل جائے گی اور آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط میں بھی نرمی مل جائے گی اور ایسا کرکے وہ اپنے سیاسی حریفوں کا سیاسی کیرئیر بھی تباہ و برباد کردیں گے

مجھے عمران کے اندر ایوب خان، جنرل ضیاءالحق، نوے کی دہائی کے نواز شریف اور 12 اکتوبر 1999ء کے بعد عالمی دباؤ آنے سے پہلے کے آمر مشرف کی منتقم مزاجی اکٹھی ہوئی لگتی ہے اور وہ اپنی سلیکشن کے زمہ داروں سے بھی اپنی ‘منتقم مزاجی’، مشتعل اور مغضوب الغضب طبعیت کے زیر اثر اٹھائے جانے والے اقدامات کی تائید چاہتے ہیں

رانا ثناءاللہ کے خلاف اے این ایف کو بالکل ویسے استعمال کیا گیا ہے جیسے کسی زمانے میں اے این ایف کو پہلے دی فرنٹیئر پوسٹ کے مالک و چیف ایڈیٹر رحمت شاہ آفریدی اور پھر آصف علی زرداری، اُس کے بعد موسیٰ گیلانی اور پھر حنیف عباسی کے خلاف استعمال کیا گیا…… رانا ثناء اللہ پر جس مقدار میں ہیروئین ڈالی گئی ہے، وہ ان پر نائن سی لگانے کے لیے ہے، جس کے تحت ملزم کو سزائے موت ہوسکتی ہے اور اگر کوئی رعایت بھی ہوئی تو عمر قید تو یقینی ہے

یہ اقدام حکومت کے مخالفین کو کُھلی تنبیہ ہے کہ اُن کی آوازیں بند نہ ہوئیں تو پھر ساری عمر جیلوں میں سڑنے کے لیے تیار رہیں

دنیا بھر میں شہری آزادیوں پر بندش لگانے اور ظلم و جبر سے اپنے ناقدین کی آوازوں کو بند کرنے کی کوشش کرنے والی جابر اور نیم فسطائی حکومتوں کا خیال یہ رہا ہے کہ اُن کو دوام ہے لیکن یہ خیال آخرکار وہمہ، سراب نکلتا ہے اور جلد ہی ایسی حکومتیں عوامی غیظ و غضب کا شکار ہوجایا کرتی ہیں

عمران خان مجسم اشتعال، مجسم مغضوب الغیظ و الغضب و مجسم انتقام بنتے جارہے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ 11 ماہ کے دوران اُن کے پاس اپنا بھرم برقرار رکھنے کے لیے اور عوام کو تھوڑا سا ریلیف دینے کے لیے بھی کچھ بھی تو دکھانے کے لیے نہیں ہے، یہاں تک کہ اب تو وہ خود جیسے مسلط کیے گئے تھے اپنے اوپر مسلط کی گئی معاشی ٹیم کے ساتھ چلنے پر مجبور ہیں لیکن وہ اپنے لانے والوں کے لیے وہ کمبل بن گئے ہیں جسے لانے والے چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن کمبل اُن کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہے تاوقتیکہ اُس کمبل کو اپنی ‘چھڑی’ سے دور نہ پھینکا جائے