Featured Original Articles Urdu Articles

کس کے تھے وہ علم کے موتی؟ – عامر حسینی

جب میں شفیق این ویرانی کی کتاب ‘قرون وسطیٰ میں اسماعیلی: بقاء و تلاش نجات کی تاریخ’ پڑھ رہا تھا تو اس کے باب پنجم میں شفیق این ویرانی نے فاطمی خلیفہ و امام معز کا واقعہ درج کیا کہ کیسے وہ کتابوں سے محبت کرتا تھا اور فاطمی سلطنت کا شاہی کُتب خانہ کس قدر وسیع و عریض تھا اور کیسے یہ کُتب خانہ افریقی سوڈانی سپاہیوں اور ترک سپاہیوں کے درمیان ایک بڑے تصادم کے نتیجے میں لوٹ مار اور آتش زنی کا شکار ہوا- ترک اور بربر سوڈانی افریقی سپاہیوں نے جن میں سے اکثریت لواطہ بربر قبائل سے تعلق رکھتی تھی شاہی کتب خانے کو لوٹا، کتابوں کی شاندار جلدوں سے اپنی جوتیاں بناڈالیں

میں نے فاطمی سلطنت کے شاہی کُتب خانے کی تباہی کے واقعے پر مزید تفصیل سے جاننے کی کوشش کی تو مجھے معلوم ہوا کہ اس کُتب خانے کی بربادی کا آغاز اُس وقت ہوا، جب فاطمی سلطنت اندرونی خلفشار اور بیرونی حملہ آور مہم جوئیوں کے سبب معاشی طور پر کمزور ہوگئی اور سن 1061ء میں فاطمی وزیر ابوالفراز نے ایک لاکھ دینار کے عوض بیش بہا کتابوں کے ایک بڑے مجموعے کو جنگ سے واپس لوٹنے والے سپاہیوں کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے فروخت کردیا، کہا گیا کہ 25 اونٹوں پر لدھی کتابیں تھیں جو فروخت کی گئیں اور اُس کے بعد ترک اور لواطہ بربر افریقی قبائل کے سپاہیوں کے درمیان لڑائی ہوئی جس میں یہ کُتب خانہ برباد ہوا، فاطمی خلیفہ مستنصر باللہ نے اس کتب خانے کی شان و شوکت بحال کرنے کی کوشش کی

پھر صلاح الدین ایوبی نے جب قاہرہ پر قبضہ کرکے فاطمی خلافت کو ختم کیا اور اسے بغداد کی خلافت کے ماتحت کردیا تو اُس نے فاطمی شاہی کتب خانے کی عمارت کو اپنا ہیڈکوارٹر بنایا اور اکثر کمروں میں موجود کتابوں کے بیش بہا خزانے کی اکثریت کو اپنی فوج کے سپاہیوں میں تقسیم کردیا- اور جو کتابیں اُس کے نزدیک شیعی مذھب کو تقویت دینے والی تھیں اُن کو نذر آتش کردیا-شاہی کُتب خانے کی بہت کم کتب باقی رہ پائیں

عثمان ترکوں نے جب مصر کو فتح کیا تو ان کو شاہی کُتب خانے میں ان کو تب بھی ایک لاکھ کتابوں کا ذخیرہ ملا، جو انھوں نے ترکی میں اپنے دارالخلافہ میں منتقل کردیا

شاہی کُتب خانہ جس کا نام فاطمی خلیفہ العزیز نے ‘دار الحکمۃ’ رکھا تھا 16 لاکھ کُتب تک فاطمی خلیفہ الحکیم کے دور میں پہنچ چکا تھا-اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کُتب خانے کی تباہی جو 1060ء میں وزیر ابوالفراز کے ہاتھوں شروع ہوئی، ترک عثمانیوں کی فتح مصر کے وقت 15 لاکھ کتابوں کے ضیاع تک پہنچ گئی تھی

علامہ اقبال کی ایک نظم ‘خطاب بہ نوجوانان اسلام’ میں نے بھی لڑکپن میں پڑھی تھی اور میرے اُس زمانے کے استاد اس نظم کو مجموعہ تضاد اور خلاف تاریخ مسلمانان و خلاف واقعہ قرار دیا کرتے تھے اور وہ زیادہ اس پہ بات نہیں کرتے تھے، نظم کے اس شعر کو
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا

وہ اس شعر سے

مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے

سیپارامتضاد بتایا کرتے تھے – میں نے جب خود عباسی سلطنت اور فاطمی سلطنت کے آخری ادوار میں ‘پاؤں میں تاج سردارا’ کُچلنے والوں کی کتابوں کی بے حُرمتی، ان کی بربادی اور جلانے کا احوال پڑھا اور کیسے ایک مرکز علم و دانش کو تباہ کرکے دوسری جگہ کُتب کو پہنچائے جانے کا قصہ پڑھا تو مجھے لگا کہ نجانے کیوں اقبال کا دل خود مسلمانوں کے ایک گروہ کے ہاتھوں دوسرے مسلمان گروہ کے کے علم کے موتی اور کتابیں اُن کے آباء کی لوٹ مار اور آتش زنی پر سی پارہ کیوں نہ ہوا؟ اور اندر کی اس تباہی پر انہوں نے اپنے اُن نوجوانوں کو کچھ بتانے کی ضرورت محسوس نہ کی

وہ صحرا میں رہنے والی عرب بدوں اور شہری و نخلستان دیہی عربوں میں فرق نہیں کرتے بلکہ مجھے تو کہیں کہیں ایسا لگتا ہے وہ خود بھی اس انتہائی بڑے فکری مغالطے کا شکار تھے کہ ‘اجڈ پَن’ اور ‘بدویت’ کے بطن سے علم و تہذیب کے سوتے پھوٹتے ہی‍ں اور بندہ صحرائی جو بھی ہو وہ تاج سردارا کُچلتا ہے تو علم و عرفان کی پرورش بھی کرتا ہے لیکن تاریخ ہر مرتبہ اس کلیے کی تصدیق یا تائید نہیں کرتی

صلاح الدین ایوبی کو فاطمیوں کا وسیع وعریض دار الحکمت بے فائدہ نظر آیا، اُس کے پاس اپنے سپاہیوں کو فی الوقت دینے کے لیے درہم و دینار کم تھے تو اُس نے بیش بہا کتابوں کو تقسیم کیا جسے سپاہیوں نے ردی کی طرح فروخت کردیا اور اس سے پہلے افریقی لواطہ بربروں نے ان کتابوں کا مینار لگاکر آگ لگادی تھی جو ان کے نزدیک بے فائدہ تھی – بربر لواطہ اور کُرد صلاح الدین ایوبی کی فوج زیادہ تر خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے والوں پر مشتمل تھی اور پھر مال غنمیت کی تلاش نے اسے لیونٹ /شام اور یروشلم کے علاقوں پر حملہ کرنے پر مجبور کیا، اُس نے صرف کرسچن راجواڑوں پر حملے نہیں کیے بلکہ شام کے گردو نواح مین چھوٹے چھوٹے مسلمان شامی قبائلی سرداروں کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر بھی حملے کیے اور اس پورے دور میں کسی قسم کی علمی ترقی کا کوئی سُراغ ہمیں نہیں ملتا

مجھے تو محمد بن قاسم، موسیٰ بن نصیر، صلاح الدین ایوبی، یوسف بن تاشفین، محمود غزنوی، شہاب الدین غوری جیسے سُورما حکمرانوں کے ادوار کتاب دشمنی کے ادوار زیادہ اور کتاب دوستی کے ادوار کم لگتے ہیں، جب تلوار و سناں اول ہوئیں تو تہذیب و ثقافت کی ترقی زیرو ہوگئی