Original Articles Urdu Articles

حامد میر باخبر صحافی ہے دور اندیش سیاست دان نہیں – عامر حسینی

حامد میر مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم کے عرس پر گئے اور اس موقعہ پر انھوں نے ایک تقریر فرمائی اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ پیپلزپارٹی ‘ تھونپے گئے وزیراعظم’ کے خلاف شعلہ بیانی سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کام تو بہت لیتی ہے لیکن جب عمران خان کو ہٹانے کا سوال آئے تو وہ اس سوال پر اپنی اتحادی جماعتوں کی تجویز کو رد کردیتی ہے

حامد میر نے اپنے ایک کالم میں دوہزار دو میں ہوئے انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے مولانا فضل الرحمان کو وزیراعظم کا متفقہ امیدوار نہ بنانے کے فیصلے کو غلط قرار دیا اور یہ کہا کہ مولانا فضل الرحمان اگر وزیراعظم بن جاتے تو دونوں جلاوطن لیڈر ملک میں ہوتے اور زرداری جیل سے باہر ہوتے

یہ مفروضہ ہی ہے اور یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ حامد میر باخبر صحافی ضرور ہے لیکن اُس کے پاس دور اندیش سیاست دانوں کی طرح کی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی سے کسی معاملے کو دیکھنے کی صلاحیت نہیں ہے-

یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سارے مفروضے اس وقت دوبارہ پیش کرنے کی زحمت اُس نے کسی ‘طاقت’ کے کہنے پر اٹھائی ہو…. کیونکہ شنید یہ ہے کہ جو سلیکٹ کرلے لائے تھے وہ ہی چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا طوفان اٹھایا جائے کہ سلیکشن میں ہوئی فاش غلطی کا سدباب ہوجائے اور وہ پھر کسی اور اپنے لاڈلے کو لانے کی تیاری کریں

بے نظیر بھٹو آخر کیوں مولانا فضل الرحمان کو متحدہ امیدوار بنانے کو تیار نہ تھیں؟

بے نظیر بھٹو کو لگتا تھا کہ ایم ایم اے ملا ملٹری الائنس ہے

بے نظیر بھٹو کو ایم ایم اے میں شامل جہادی، فرقہ وارانہ بریگیڈ اور اس بارے میں مولانا فضل الرحمان کا معذرت خواہانہ موقف قابل قبول نہیں تھا

بے نظیر بھٹو کو لگتا تھا کہ اگر وہ فضل الرحمان کی امیدواری پر راضی ہو بھی جائیں گی تو بھی حکومت نہیں بنے گی یا بننے نہیں دی جائے گی اور اس دوران رہی سہی سیاسی سپیس بھی ختم ہوجائے گی

حامد میر کنفیوژن پھیلارہا ہے، اور پک اینڈ چوز پر عمل پیرا ہے، ایک تو مولانا فضل الرحمان کے نام پر پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن نے اس لیے اتفاق نہیں کیا تھا کہ مولانا طالبان کے حامی تھے اور ان کی پارٹی کا عالمی و مقامی دہشت گردی بارے موقف بہت زیادہ معذرت خواہانہ تھا، فضل الرحمان کو وزیراعظم نامزد کیا جاتا تو عالمی سطح پر پیپلزپارٹی تنہائی کا شکار ہوتی، دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو یقین تھا کہ ایم ایم اے ایجنسیوں کی تخلیق کردہ ہے، انھوں نے اسے ملا، ملٹری الائنس کا نام دیا تھا اور وہ اس الائنس پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھیں، ان کو مولانا شاہ احمد نورانی پر تو یقین تھا لیکن فضل الرحمان سمیت دیگر لوگوں پر یقین نہیں تھا، ان کو معلوم تھا کہ ان کی جماعت سے اور دوسری طرف خود ایم ایم سے بھی بہت سے لوگ ٹوٹ کر اُس اتحاد میں چلے جائیں گے جسے مشرف اقتدار دینا چاہتے ہیں.

محترمہ بے نظیر بھٹو کو اچھی طرح سے ادراک تھا کہ اگر ایم ایم اے سے اشتراک میں ایسی حکومت بنانے کی کوشش کی گئی جس کی ڈرائیونگ سیٹ ایم ایم اے کے پاس ہوگی تو اُس سے نہ صرف پیپلزپارٹی کا اپنا امیج برباد ہوگا بلکہ مشرف کو اگر لگا کہ اس کی مرضی کا سیٹ اپ نہیں آرہا تو وہ پھر سے مکمل مارشل لاء کی جانب چلا جائے گا اور رہی سہی سپیس ختم ہوجائے گی. حامد میر کالم نگار اور صحافی تو ضرور ہے لیکن وہ بے نظیر بھٹو جیسی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کا حامل نہیں ہے اور اُس نے ایم ایم اے کو صرف مشرف مخالف کے طور پر ہی دیکھا یہ تو بتائے کہ کیا ایم ایم اے خود اسٹبلشمنٹ کے ایک سیکشن کا پیدا کردہ بچہ نہیں تھی؟ ایم ایم اے کو ایک مخصوص کردار دیا گیا تھا اور اس کالم میں یہ کہنا کہ جیو نے دھاندلی روک دی تھی یہ دعویٰ بھی محل نظر ہے کیونکہ اس وقت مشرف نے مسلم لیگ نواز کو سب سے زیادہ نشانے پر رکھا تھا تو توڑ پھوڑ بھی سب سے زیادہ نواز لیگ میں کی گئی، جب پی پی پی نشانے پر آئی تو کیسے کیسے بڑے نام تھے جو توڑ لیے گئے تھے، حالات اتنے بھی سازگار نہیں تھے کہ ایک باوردی اور بااختیار صدر کے ہوتے ہوئے فضل الرحمان بے نظیر اور نواز شریف کو ملک میں لیکر آجاتے اور زرداری صاحب رہا ہوجاتے، اسٹبلشمنٹ کے خلاف لڑائی اتنی بھی آسان نہیں ہے جتنا آسان بناکر حامد میر پیش کررہا ہے