Original Articles Urdu Articles

بلاول بھٹو نے عمران خان کے خلاف مذھبی کارڈ کے استعمال کی تجویز کو رد کردیا – عامر حسینی

جمعیت علمائے اسلام – ف نے کُل جماعتی کانفرنس کے اعلامیہ میں عمران خان کو توھین صحابہ کا مرتکب کہہ کر مذمت کی شق اعلامیہ میں شامل کرنے کی تجویز دی جسے پی پی پی چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسترد کیا اور کہا کہ حکومت کے خلاف متحدہ اپوزیشن محاذ کے پلیٹ فارم پر مذھب کارڈ استعمال نہیں ہونے دیں گے

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران ایک موقعہ پر مسلم لیگ نواز کے قائد حزب اختلاف نے اسمبلی کی کاروائی کے دوران مذھب کارڈ استعمال کرنے کی کوشش کی اور جے یو آئی کے مولانا اسعد رحمان کو آگے کیا، اور اسمبلی سے بائیکاٹ کرکے باہر آگئے، اُس دن اس بائیکاٹ کا ساتھ پی پی پی اراکین نے بھی دیا اور مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی شریک ہوئے، جس میں خاقان عباسی اور عطاء الرحمان نے مذھبی منافرت کا سہارا لیکر عمران خان پر حملے کیے

میں نے اس صورت حال پر خورشید شاہ اور راجا پرویز اشرف کی سیاسی عدم بصیرتی پر اظہار افسوس کیا اور پیپلزپارٹی کے چئیرمین تک اپنے تحفظات اور احتجاج پہنچایا، اور سوشل میڈیاہماری طرف سے توجہ دلانے پر ہزاروں پیغامات پیپلزپارٹی کی قیادت تک پہنچے

اس پر بلاول بھٹو زرداری نے اگلے دن رائے ونڈ میں جاتی عمرا لاہور میں مریم نواز سے ملاقات کے موقعہ پر صحافیوں سے گفتگو میں واضح کیا کہ وہ اپوزیشن کی حکومت مخالف جدوجہد میں مذھبی منافرت کے کارڈ کو استعمال نہیں ہونے دیں گے اور انہوں نے کل جماعتی کانفرنس میں اپنے عہد کا پس بھی کیا

پاکستان میں مذھبی منافرت کا کارڈ دائیں بازو کے سیاست دانوں اور آمروں کے لیے ہمیشہ سازگار رہا ہے اور اس سازگار کا اہم سبب مرکزی دھارے کی بڑی سیاسی جماعتوں کا اس کارڈ کے استعمال کرنے والوں کی حرکت کو نہ روکنا یا وقتی فائدے کے لیے اُن کے ساتھ مل جانا رہا ہے

پاکستان میں مسلم لیگ کی خواجہ ناظم الدین کی وزرات کے خاتمے کے لیے احمدی مخالف فسادات کو آڑ بنایا گیا تھا اور اس کے لیے پنجاب میں ممتاز دولتانہ کی وزرات نے دیوبندی تنظیم مجلس احرار کو استعمال کیا

اور 1977ء میں چند جرنیلوں، سرمایہ داروں کے گٹھ جوڑ نے پی این اے کو مذھبی ٹھیکے داروں کے زریعے سے بھٹو کے خلاف استعمال کروایا اور اس میں بھٹو کے مخالف بلوچ، پشتون قوم پرست، بائیں بازو کی جماعتیں بھی استعمال ہوگئیں، پی این اے کا حصہ ہوکر بھی ولی خان، شیر باز مزاری، معراج محمد خان اور دیگر مذھبی کارڈ پی این اے کا امتیازی نشان بننے سے نہ روک سکے بلکہ وہ اس کا زور شور سے صرف بھٹو کی نفرت میں حصہ بن گئے

جیسے 2018ء میں نواز حکومت کے خلاف بریلوی تنظیم تحریک لبیک کو استعمال کیا گیا-؟

اب مولانا فضل الرحمان کی شدید خواہش ہے کہ اپنے مخالف عمران خان کے خلاف بلاسفیمی کارڈ سمیت ہر اُس مذھبی نفرت انگیز کارڈ کو استعمال کریں جس سے لوگوں کو مذھبی طور پر مشتعل کردیا جائے

مولانا فضل الرحمان کو پاکستانی عوام پر رحم کرنا چاہیے اور اُن کی پہلے سے بدتر حالت کو مذھبی نفرت کی آگ سُلگاکر اور بدتر نہیں بنانا چاہیے