Featured Original Articles Urdu Articles

فلسفہ نشاط کا بانی – عامر حسینی

“علم سارے کا سارا چاہے وہ مابعدالطبیعات ہو یا سائنسی ہو کا مقصد سکون حاصل کرنا، بے سروپا خوف اور ہر قسم کی پریشان خیالی سے نجات حاصل کرنا ہے اور اسے ہی دلوں کا چین اور دماغ کا سکون کہتے ہیں”

“نوجوانی میں فلسفہ سیکھنے میں دیر مت کرو اور عُمر رسیدگی میں اُس سے اوب نہ جانا”

“وہ جو یہ کہتا ہے کہ ابھی ‘فلسفہ’ کا وقت نہیں آیا یا فلسفے کا وقت گزرگیا تو اُس کا یہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے ابھی ‘خوش باشی’ کا وقت نہیں آیا یا خوش باشی کا وقت گزرگیا-ایپی کیورس “

“میں نے کبھی احمقوں کو خوش کرنے کی کوشش نہیں، کیونکہ جو شئے اُن کو خوش کرتی ہے، وہ میں نے سیکھی نہیں ہے، اور جو میں جان پایا ہوں وہ ان کے فہم و ادراک سے کوسوں دور ہے-کیورس”

“ارے، اُن سب چیزوں کو حاصل کرو جن سے خوشی ملتی ہو، کیا تم نے دیکھا نہیں، جب خوشی ہوتی ہے تو لگتا ہے جیسے سب کچھ موجود ہو اور جب یہ نہیں ہوتی تو ہر وہ شئے کی جاتی ہے جس سے اس کو پایا جاسکے”

“ہمیں موت سے کیا سروکار، کیونکہ جب تک ہم جیتے رہیں گے، موت نہیں ہوگی اور جب یہ آئے گی تو ہم نہیں ہوں گے-ایپی کیورس”

“کتنی بیوقوفی کی بات ہےکہ دیوتاؤں سے وہ مانگا جائے جسے آدمی خود جہدوجہد سے پاسکتا ہو”

ایک قابل عزت شخص وہ ہوتا ہے جس کے سب سے بڑے مرکز دلچسپی دانش و دوستی ہوا کرتے ہیں، دانش ایک فنا ہوجانے والی اچھائی ہے لیکن دوستی تو لافانی اچھائی ہے-

بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست بابر عیش کرلے کیونکہ اس عَالم نے دوبارہ نہیں ہونا

آج ایک دوست نے اپنے گھر پر جلتے بجھتے ہوئے قمقموں اور سجاوٹی بتیوں کی تصویر شئیر کرتے ہوئے بالواسطہ ہمیں بتایا کہ ‘دوست ہمارا گھوڑی چڑھنے لگا ہےلیکن اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے اُس نے جب کہا کہ ‘ہر انسان کو خوش رہنے کا حق ہے’ تو مجھے یونانی فلسفی ایپی کیورس

Epicurus

کی یاد آگئی-

ہائے’ مجسم روشن خیال، جس نے ایھتینز میں اپنا مدرسہ فلسفہ قائم کیا اور اسے’ باغ’ کا نام دیا-

اُس کا زمانہ یسوع مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے 341 سال سے 270 سال کے درمیان کا بنتا ہے-

اُس نے 300 کے قریب نوٹس اور خطوط کی شکل میں اپنے افکار کا ورثہ چھوڑا تھا لیکن امتداد زمانہ نے اُن میں سے بہت کم آنے والوں کے لیے چھوڑا

لیکن جتنا بھی کام اُس کا زمانے کی دستبرد سے بچا ، وہ آج بھی روشن گری کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے-

میرے محبوب فلسفی کارل مارکس کو یہ فلسفی بہت پسند تھا اور اُس نے اس فلسفی کے فلسفے پر اپنے ڈاکٹریٹ کا مقالہ تحریر کیا تھا اور یہ فلسفی فلسفہ نشاط اور عیش کوشی کا یونانی فکر میں اولین فلسفی خیال کیا جاتا تھا

استاد سعید عالم ہمیں منطق پڑھاتے تھے، کراچی یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھنے، پڑھانے والوں کو وہ یاد ہوں گے، انہوں ایک شام ایپی کیورس پر اتنی خوبصورت گفتگو کی تھی کہ میرے زہن پر آج تک وہ نقش ہے، اس دن کے بعد میں ایپی کیورس کا والا و شیدا ہوگیا تھا اور یہ فلسفی اپنی ‘خودی’ اور ‘اَنا’ کے سبب مجھے بہت پسند تھا وہ کہتا تھا،

“میں کیوں ایسے ہجوم کی تشفی کا سامان تلاش کرتا پھروں جبکہ میں مجھے بخوبی علم ہے کہ جو میں جانتا ہوں، اُسے ان کے سامنے رکھوں گا تو انھوں نے اسے شرف قبولیت نہیں بخش دینا اور جسے یہ قبول کرتے ہیں، اسے میں نہیں جانتا-‘

وہ کہتا تھا جس کا دل و دماغ حقیقی سکون کا راز پاگیا ہو وہ اپنی حرکتوں سے دوسروں کا سکون برباد نہیں کرتا….. کاش ہمارے ہاں نفرت انگیزی پھیلانے والے یہ حقیقت جان لیتے تو ہمارے سماج میں پھیلے فساد سے جان چھوٹ جاتی –

روزمرہ زندگی کے تعلقات میں خوش رہنے سے ہمت میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ مشکل اوقات میں اسے تو برقرار رکھ کر اور تقدیر کی برگشتگی اور مصیبت و ابتلا کو چیلنج کرکے ترقی دی جاتی ہے-

اس کا خیال تھا اچھے سے جینا اور اچھے سے مرنا ایک ہی فن ہے-

میں سوچتا ہوں کہ مڈل ایسٹ کے سرمایہ دارانہ جہنم میں اپنے لڑکپن اور اوائل جوانی کے دنوں کو جلاکر سیاہ کرنے والا ہمارے محنت کش دوست نے چاہے ایپی کورس کو پڑھا ہونہ پڑھا ہو، لیکن اُس نے اپنی ہمت کو تقدیر کی برگشتگی کے دنوں میں کامیابی سے برقرار رکھا اور اُس نے جینے کا فن سیکھ لیا اور جو اُسے روایات اور فرسودہ رسوم و رواج اور خوف کو مذھب بناکر اُس کے سر مُنڈھنا چاہتے تھے، اب وہ اُن کو اپنے تجربہ حیات سے ایسے جواب دیتا ہے کہ اُن کے پاس کوئی جواب نہیں ہے-

ایپی کیورس کے فلسفے سے سخت متاثر دو اور یونانی فلسفی دیماکراتیس اور فیرو نے ہندوستان برصغیر کے علاقوں کا سفر کیا اور یہاں پر وہ بدھ مَت اور ایک انتہائی قدیم فرقے سے ملے تھے جن کو تیاگی یا مُنی یا بیراگی کہا جاتا تھا، یہ انتہائی مختصر لباس پہنا کرتے تھے تو اُن کو

Gymnosophist

کا نام دیا گیا یعنی ننگے فلسفییہ بیراگی بھی کہا جاتا ہے فلسفہ نشاط کے مبلغ تھے

کارل مارکس ایپی کیورس کو اسی لیے پسند کیا کرتا تھا کہ اُس نے ‘حصول مسرت’ اور ‘ پیس آف مائنڈ’ یعنی ‘طمانیت قلب’ کے معانی میں انقلابی وسعت پیدا کی تھی اور آگے چل کر اس دنیا کو بہشت میں بدلنے کے لیے اُس نے اپنے افکار دُنیا کے سامنے رکھے اور آج تک وہ دل و دماغ کو متاثر کررہا ہے-

کارل مارکس نے اچھے سے جان لیا تھا کہ جدید سرمایہ دارانہ طریق پیداوار جس طبقاتی جہنم کا تخلیق کنندہ ہے، اُس طبقاتی جہنم کو سرد اگر کوئی کرسکتا ہے تو وہ ورکنگ کلاس/محنت کَش طبقہ ہے جو محنت کُش طبقے اور اس کے معاون و مدگاروں کو بھی سرمایہ کی غلامی سے نجات دلائے گا جو صرف اپنے لیے مسرت کشید نہیں کرے گا بلکہ سارے طبقات کے لیے کرے گا اور سب کو ایک غیرطبقاتی سماج میں بدل دے گا جہاں لالچ، لوبھ، منافع کی ہوس موجود نہیں ہوگی اور زمین جنت بن جائے گی

ایپی کیورس کا ایک خط زمانے کی دستبرد سے بچ گیا، یہ خط اُس نے فلسفی مینوسیس کو لکھا تھا وہ لکھتا ہے

پیارے مینوسیس، مبارکباد!

آؤ ہم میں سے جو جوان رعنا ہو، اسے ‘عاشق دانش’ بننے میں تاخیر سے بچائیں، اور بڑھاپے میں فلسفے سے اوب جانے کی عادت نہ پڑنے دیں-کیوں کہ جس کی روح صحت مند ہو اُس کے لیے کیا اوائل عمری اور کیا بڑھاپا؟ اور یہ کہنا کہ دانائی سے عشق کا موسم نہیں آیا یا یہ کہنا کہ دانائی سے پیار کا موسم گزرگیا تو یہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ خوش رہنے کا موسم نہیں آیا یا گزر گیا- تو میرے پیارے جو جوان رعنا ہو اور جو بڑھاپے میں داخل ہوگیا ہو، اُن دونوں کو لازم ہے کہ دانائی سے محبت بے بہا کریں کیونکہ جو بلحاظ طبعی عمر بڑھاپے کی منزل میں ہو، ہوسکتا ہے وہ کار ہائے خیر میں جوان ہو اور ہوسکتا ہے جو جو جوان رعنا ہو وہ اپنی عقل کی بلوغت کے لحاظ سے کئی بوڑھوں سے زیادہ دانش مند ہو اور دور دراز اندیشوں کے وہم نہ پالتا ہو-

میں بھی کہاں سے کہاں پہنچ گیا

پہلا عکس فلسفی ایپی کیورس کے مجسمے کا ہے…. دوسرا عکس ایک خیالی تصویر ہے جس میں سکندر مقدونی کا ہندوستان کے بیراگیوں سے ملاقات کے ایک منظر کشی کی گئی ہے