Original Articles Urdu Articles

میں بھٹو کا بے حد شکر گزار ہوں – شیخ مجیب الرحمان

بھٹو نے ملک توڑا

اکثر ٹیپ کا یہ فقرہ دائیں اور بائیں اور وسط کے دانشوروں سے سننے کو مل جاتا ہے-

لیکن بنگلہ دیش کا جو بانی تھا،وہ بھی ذوالفقار علی بھٹو کو ولن کے روپ میں دیکھتا تھا؟ کیا وہ بھٹو کو بنگالی قوم کے مبینہ مجرموں میں شمار کرتا تھا؟ کیا وہ یہ سمجھتا تھا کہ یہ زوالفقار علی بھٹو ہے جس نے پاکستانی فوج کو شیخ مجیب الرحمان کو اقتدار منتقل کرنے سے روکا اور بنگالیوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کروایا؟

اس طرح کے اور ملتے جلتے سوالات کا جواب آپ خود بانی بنگلہ دیش کے ڈیوڈ فراسٹ کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں پڑھ سکتے ہیں-

ڈیوڈ فراسٹ: مجھے پتا چلا کہ اُس وقت بھی جب جنرل یحییٰ اقتدار بھٹو کے حوالے کرکے سرنڈر کررہا تھا تو اُس نے بھٹو کو کہا کہ آپ (شیخ مجیب الرحمان) کو پھانسی پر لٹکادینا، کیا یہ درست ہے؟

شیخ مجیب الرحمان: بالکل درست بات ہے، یہ سب سے دلچسپ قصہ تھا جو مجھے بھٹو نے سنایا، جب یحییٰ نے اقتدار بھٹو کو دیا تو کہا، ‘میری سب سے بدترین خطاء شیخ مجیب کو پھانسی نہ دینا تھا-‘

فراسٹ:اُس نے ایسا کہا تھا؟

شیخ مجیب: ہاں، اُس نے اقتدار بھٹو کو سونپنے سے پہلے کہا، ” مجھے پچھلی تاریخوں میں شیخ مجیب کی پھانسی کے آڈرز پر دستخط کرنے دے دو-” لیکن بھٹو نے انکار کردیا تھا-

فراسٹ: بھٹو نے کیا کہا تھا؟

شیخ مجیب: بھٹو نے کہا، میں تمہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا، کیونکہ ایک لاکھ بیس ہزار پاکستانی فوجی اور سویلین بنگلہ دیش اور اتحادی ہندوستانی افواج کے قیدی ہیں، جبکہ دس لاکھ غیر بنگالی آبادی وہاں ہے، اگر میں تمہیں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہوں تو میرے اقتدار میں آنے کے بعد ایک بھی زی روح وہاں سے واپس مغربی پاکستان زندہ بچ کر نہیں آئے گا اور یہاں میری مغربی پاکستان میں بھی پوزیشن خراب ہوگی، بہت بڑا ری ایکشن آئے گا- میں واقعی ذوالفقار علی بھٹو کا شکر گزار ہوں – اس میں کوئی شک نہیں ہے-

شیخ مجیب الرحمان نے پورے انٹرویو میں نہ تو بھٹو کو بنگالیوں کا مجرم قرار دیا اور نہ ہی اُسے بنگال میں ہوئی نسل کشی کا ذمہ دار ٹھہرایا، بلکہ شیخ مجیب الرحمان نے امید ظاہر کی کہ بھٹو اگر جمہوریت پسند ہیں تو وہ بنگلہ دیش اور پاکستان کو دو الگ الگ حقیقی ریاستیں مان لیں گے اور ایسا ہی ہوا-

یو ٹیوب پر زوالفقار علی بھٹو کے دورہ بنگلہ دیش پر ڈھاکہ ائرپورٹ پر والہانہ استقبال کی وڈیو موجود ہے، زوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمان کے درمیان آپریشن سے پہلے مذاکرات ہوئے اور ان دونوں لیڈروں کے درمیان کیا باتیں ہوئیں؟ اس داستان کو آج تک کسی قلمبند نہیں کیا لیکن شیخ مجیب الرحمان کی پلٹن میدان ڈھاکہ میں جو تاریخی تقریر ہے، اُس مین بھی شیخ مجیب نے بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے زمہ داروں میں بھٹو کا نام تک نہ لیا-

اگر ذوالفقار علی بھٹو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اس قدر بڑا کردار تھے تو شیخ مجیب نے اپنی تقریروں، انٹرویوز اور بیانات میں اُن کے اس مبینہ گھناؤنے کردار کا ذکر کیوں نہ کیا، جس کا پروپیگنڈا جرنیل، ملاں، کمرشل لبرلز اور کاسمیٹک لیفٹ جابجا کرتا رہتا ہے؟

سانحہ مشرقی پاکستان کو لیکر بھٹو پر دو بڑے الزامات لگائے جاتے ہیں
ایک ادھر ہم اور ادُھر تم
دوسرا جو مشرقی پاکستان اجلاس میں گیا اُس کی ٹانگیں توڑنے کی دھمکی

یہ دونوں اخبارات کی سرخی سے مستعار لیے گئے کلیشے ہیں، دونوں ہی باتیں بھٹو صاحب نے نہیں کیں تھیں اور اگر کیں ہوتیں تو شیخ مجیب الرحمان کہیں نہ کہیں اُن کا زکر کرتا اور بھٹو کو قصوروار ٹھہراتا-

یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ یحییٰ خان اور ان کے حمایتی جرنیل جب ملک توڑ بیٹھے اور اُن سے ملک چلانا ممکن نہ رہا تو خود اُس وقت جی ایچ کیو میں مقتدر اسٹبلشمنٹ دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی اور ایک دھڑا جس کی قیادت یحییٰ خان کے حامی کررہے تھے اُن کو پسپائی ہوئی اور جنرل رحیم و گل حسن و دیگر نے جب یہ دیکھا کہ عوام کسی اور فوجی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو قبول نہیں کریں گے تو انہوں نے بھٹو کی منت سماجت کرکے اقتدار اُن کو منتقل کروایا، ساتھ ہی یہ جرنیل بھٹو کے کاندھے پر بندوق رکھ کر اپنی نوآبادیاتی زہنیت کی تسکین شیخ مجیب کے قتل کے زریعے کروانا چاہتے تھے تاکہ ایک طرف تو بنگلہ دیش سے بارہ لاکھ لاشوں کا تحفہ آئے اور دوسری طرف شیخ مجیب سے یہ اپنی ذلت کا بدلہ لے سکیں اور بھٹو پر بھی 12 لاکھ افراد کے قتل کا الزام دھرا جاسکے –

اس ساری مشق کا مقصد بنگالی نسل کشی اور دیگر انسانیت سوز جرائم پر پردہ ڈالنا اور بنگالیوں اور پاکستانی عوام کے درمیان نفرت کی وہ دیوار قائم کرنا تھا، جیسے 47ء کے وقت تبادلہ آبادی اور بڑے پیمانے پر مار کاٹ نے کھڑی کی اور طالع آزما نفرت پر مبنی نیشنلزم پر اپنی قبضہ گیری کا جواز تلاش کرتے رہتے ہیں-

لیکن میرا سوال ان لبرل، لیفٹ آوازوں سے ہے جو بنگالی سوال کے آتے ہی بھٹو کو ولن کے روپ میں پیش کرنے لگتے ہیں؟

زوالفقار علی بھٹو کا کردار تو شیخ مجیب کے اس انٹرویو کی روشنی میں نہایت شاندار بنکر سامنے آتا ہے کہ وہ ایک ایسے لیدر تھے جنھوں نے بے پناہ سیاسی تدبر اور مستقبل بینی کرتے ہوئے نہ صرف شیخ مجیب الرحمان کی جان بچائی بلکہ شیخ مجیب سمیت بنگالی قیادت کے کو پاکستان کے ساتھ بہتر اور برادرانہ تعلقات بنانے کے لیے راضی کرلیا اور دیکھا جائے تو بھٹو نے اتنی ملاقاتوں کے بعد اجنبی ٹھہرائے جانے کی کیفیت کو اقتدار ملنے کے دو سالوں کے اندر ہی بدل ڈالا، خون کے دھبوں نے سیاسی منظر نامے کو دھندلایا تھا ان دھبوں کو اپنی پیس ڈپلومیسی سے دھویا اور دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار تعلقات کی بنیاد ڈال دی تاکہ بنگلہ دیش بھارتی حکمرانوں کے تابع پاکستان کا ہوا کھڑا کرکے نہ رکھا جائے-

زوالفقار علی بھٹو اداروں کو بے حوصلہ کرنا نہیں چاہتے تھے، انہوں نے مورال گری ہوئی فوج کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کو پبلک کرکے مزید گرانے کا اہتمام نہ کیا لیکن کسی جرنیل کا بے دام بندہ بننا بھی انہوں نے پسند نہ کیا، یہی وجہ ہے کہ یحییٰ اور اس کے ساتھی جرنیل ہی فارغ نہیں ہوئے بلکہ جو ان کے مدمقابل کھڑے ہوئے تھے اُن کو بھی جانا پڑا-

زوالفقار علی بھٹو مشرقی و مغربی پاکستان دونوں کے محسن تھے، انہوں نے تو مابعد تقسیم پاکستان جس محاز آرائی کے لیے خون ریزی کا نیا سلسلہ مقتدر طاقتیں کرنا چاہتی تھیں، اُس کو روکا اور امن کا راستا تلاش کیا

I am grateful to Sameera Khan, A US based journalist who reproduced the interview of Shaikh Mojib made by David Frost. Very first time she has cleared some falsifications about Z.A.Bhutto