Original Articles Urdu Articles

وزیراعظم عمران خان کے خلاف کالعدم تکفیری دہشت گرد جماعت سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی اور دیگر خوارج کی مذموم مہم

بجٹ کے موقع پر قوم سے اپنے خطاب میں عمران خان صاحب نے ایک تاریخی حقیقت پر روشنی ڈالی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اصحاب میں جہاں ایسے لوگ تھے جو وفاداری اور کردار میں بہت اعلی تھے وہاں ایسے لوگ بھی تھے جو ڈرپوک، لالچی اور آقا کریم کے نا فرمان تھے اور ان میں چند منافقین بھی شامل تھے – یہ تاریخی حقیقت احادیث اور تاریخ کی معتبر کتب میں مذکور ہے – اس بیان کے بعد جناب عمران خان کے خلاف لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ کے خوارج کی جانب سے کیے جانے والا مذموم پراپیگنڈا قابل مزمت ہے

اب زرا غور فرمائیں کہ جسے یہ بد نسلی راتب خور “گستاخی” قرار دے رہے ہیں وہ درحقیقت کیا ھے؟؟؟
اور اس بارے قرآن و سنت کیا کہتے ہیں؟؟؟

اللہ رب العزت
قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں

كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِن بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ ﴿٥﴾
(انفعال)

“جیسا کہ (اے پیغمبر) تیرے رب نے تجھے گھر سے حق کے ساتھ (غزوہ بدر کے لئے) روانہ کیا اور مومنین کی ایک جماعت (مشرکین مکہ سے جنگ کو) نا پسند کرتی تھی”
اس بات میں ہرگز ہرگز کوئی دو رائے نہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی ایک جماعت غزوہ بدر میں مشرکین کا مقابلہ کرنے سے گھبراتی تھی لہٰذا جو بات اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود بیان فرما دی اسے دہرانا “گستاخی” کیونکر کہلائے گا؟؟؟
اور صرف یہی نہیں
اسکے علاوہ بھی غزوہ بدر میں صحابہ کرام کی ایک جماعت شرکت کرنے سے پیچھے رہ گئی تھی جس کا ذکر الرحیق المختوم سمیت سیرت طیبہ کی متعدد کتب میں موجود ھے،
اب بات کرتے ہیں
دوسری “گستاخی”
یعنی جنگ احد میں لوٹ مار کی
تو اس کے لئے بھی نہ صرف الرحیق المختوم بلکہ سیرت طیبہ کی تقریباً تمام کتب میں بیان ہوا ھے کہ

“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سارے تاکیدی احکامات کے باوجود جب صحابہ کرام نے دیکھا کہ مسلمان مال غنیمت لوٹ رہے ہیں تو ان پر حُبّ ِ دنیا کا کچھ اثر غالب آگیا، چنانچہ بعض نے بعض سے کہا: غنیمت
غنیمت
غنیمت
تمہارے ساتھی جیت گئے ہیں
اب تم کس بات کا انتظار کر رہے ہو”

مذکورہ بالا الفاظ بعینہ اسی طرح الرحیق المختوم میں موجود ہیں

 

وزیراعظم عمران خان کے خلاف کالعدم تکفیری دہشت گرد جماعت سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی اور دیگر خوارج کی مذموم مہم

وزیراعظم عمران خان کے خلاف کالعدم تکفیری دہشت گرد جماعت سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی اور دیگر خوارج کی مذموم مہمبجٹ کے موقع پر قوم سے اپنے خطاب میں عمران خان صاحب نے ایک تاریخی حقیقت پر روشنی ڈالی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اصحاب میں جہاں ایسے لوگ تھے جو وفاداری اور کردار میں بہت اعلی تھے وہاں ایسے لوگ بھی تھے جو ڈرپوک، لالچی اور آقا کریم کے نا فرمان تھے اور ان میں چند منافقین بھی شامل تھے – یہ تاریخی حقیقت احادیث اور تاریخ کی معتبر کتب میں مذکور ہے – اس بیان کے بعد جناب عمران خان کے خلاف لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ کے خوارج کی جانب سے کیے جانے والا مسموم پراپیگنڈا قابل مزمت ہے اب زرا غور فرمائیں کہ جسے یہ بد نسلی راتب خور "گستاخی" قرار دے رہے ہیں وہ درحقیقت کیا ھے؟؟؟ اور اس بارے قرآن و سنت کیا کہتے ہیں؟؟؟ اللہ رب العزتقرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِن بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ ﴿٥﴾(انفعال) "جیسا کہ (اے پیغمبر) تیرے رب نے تجھے گھر سے حق کے ساتھ (غزوہ بدر کے لئے) روانہ کیا اور مومنین کی ایک جماعت (مشرکین مکہ سے جنگ کو) نا پسند کرتی تھی" اس بات میں ہرگز ہرگز کوئی دو رائے نہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی ایک جماعت غزوہ بدر میں مشرکین کا مقابلہ کرنے سے گھبراتی تھی لہٰذا جو بات اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود بیان فرما دی اسے دہرانا "گستاخی" کیونکر کہلائے گا؟؟؟اور صرف یہی نہیں اسکے علاوہ بھی غزوہ بدر میں صحابہ کرام کی ایک جماعت شرکت کرنے سے پیچھے رہ گئی تھی جس کا ذکر الرحیق المختوم سمیت سیرت طیبہ کی متعدد کتب میں موجود ھے، اب بات کرتے ہیںدوسری "گستاخی"یعنی جنگ احد میں لوٹ مار کی تو اس کے لئے بھی نہ صرف الرحیق المختوم بلکہ سیرت طیبہ کی تقریباً تمام کتب میں بیان ہوا ھے کہ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سارے تاکیدی احکامات کے باوجود جب صحابہ کرام نے دیکھا کہ مسلمان مال غنیمت لوٹ رہے ہیں تو ان پر حُبّ ِ دنیا کا کچھ اثر غالب آگیا، چنانچہ بعض نے بعض سے کہا: غنیمتغنیمتغنیمت تمہارے ساتھی جیت گئے ہیں اب تم کس بات کا انتظار کر رہے ہو"مذکورہ بالا الفاظ بعینہ اسی طرح الرحیق المختوم میں موجود ہیں

Posted by Let Us Build Pakistan on Wednesday, June 12, 2019