Original Articles Urdu Articles

ملک اور فوج سے محبت کے اظہار کا کون سا انداز سوشل میڈیا پر مقبول ہے؟

ٹی وی اینکر، تجزیہ نگار ثناء بُچہ کبھی آئی ایس پی آر سے وابستہ تھیں اور ان کو آئی ایس پی آر سے خدمات کے عوض پیسے ملا کرتے تھے
یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب ثناء بُچہ نے ترجمان آئی ایس پی آر کے ایک ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے طنزاً آئی ایس پی آر کے لیے کام کرنے والے بچوں کی تنخواہوں میں اضافے کو واپس نہ لینے کی تجویز دی

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ ثناء بُچہ ان کے لیے کیا خدمات سرانجام دے رہی تھیں، ان کی نوعیت کیا تھی؟

اینکر و صحافی ثناء بُچہ کا آئی ایس پی آر کے لیے خدمات سرانجام دینا اور اس کا معاوضہ لینا، اس وقت قابل اعتراض ٹھہرتا ہے جب وہ پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی سیاسی، صحافتی آزادی میں مداخلت کاری کے کردار پر نکتہ چینی کرتی ہوں اور جو پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے مبینہ اقدامات کا دفاع کرے اسے وہ غیر جمہوری زہن اور بوٹ پالشنگ کا طعنہ دیتی ہوں

ثناء بُچہ پر منافقت اور دوہرے پن کا الزام اس وقت غلط ہوجائے گا جب وہ آئی ایس پی آر کے لیے اپنی فراہم کردہ سابقہ خدمات پر شرمندگی کا اعلانیہ اظہار کریں گی اور آئی ایس پی آر سے لیا جانے والا سارا معاوضہ واپس کردیں گی

آئی ایس پی آر کے ترجمان سے لوگ یہ امید کرتے ہیں وہ ایک کم از کم آج سے پانچ سال پرانے ایسے لوگوں کی فہرست جاری کرے جو پیسے لیکر پروپیگنڈا اور امیج بلڈنگ کے نام پر ٹیبل اسٹوری گھڑا کرتے تھے

بات سمجھ لیجیے کہ جس آدمی کا ضمیر جاگ جائے اور وہ اعلانیہ اپنے داغدار ماضی پر معافی مانگ لے اور پھر صدق دل سے جمہوری پسند خیالات کا اظہار کرے، اُسے آمریت کی چمچہ گیری کا طعنہ دینا موقعہ پرستی ہوگا، لیکن کوئی اپنی چمچہ گیری کو پردہ راز میں رکھ کر حال کے چمچوں پر برستا رہے تو جب اس کا پول کھلے گا تو اس دوران آنے والی تنقید اس پر بالکل بجا ہوگی؟

پس نوشت: مجھے یہ سمجھنے میں دقت کا سامنا ہے کہ پاکستان آرمی سے محبت کے دعوے دار اور اس ملک کی سلامتی کو سب سے زیادہ عزیز رکھنے کے دعوے دار سوشل میڈیا پر سرگرم مجاہدین کو ‘منہ کی بواسیر’ کیوں ہوتی ہے؟

اور ان کو ایسے کیوں لگتا ہے کہ اگر وہ فوج یا کسی اور سیکورٹی ادارے کے بعض افراد پر تنقید کرنے والے یا والی کے خلاف فحش، ابتذال اور اخلاقی دیوالیہ پن کے ساتھ جواب دیں گے تو بات بنے گی

پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ‘ناقدین’ کی تنقید کے جواب میں اگر ناقد عورت ہے تو کیا اسے ‘ راتیں غیروں کا بستر گرم کرنے والی’ ‘حرافہ، کنجری، گشتی’ کہہ کر ہی فوج اور پاکستان سے گہری محبت اور والہانہ پن کا ثبوت میسر آسکتا ہے؟

اور اگر مرد ہے تو اس کی ماں، بہن اور اھلیہ، بیٹیوں کو ہفوات و ہذیان سناکر ‘جذبہ حب الوطنی ثابت کی جاسکتی ہے؟

سوشل میڈیا ٹرولنگ بریگیڈ ایک ناسور ہے

قریب قریب حکمران طبقات کے سب ہی گروہ بے ہودگی کی کھائی میں گرے ہوئے ہیں

آئی ایس پی آر کے ترجمان کے جواب الجواب کے بعد نیچے جو جو پانچ ہزار چھتیس کمنٹ آئے، ان کی بھاری اکثریت کے کمنٹ وطن اور فوج سے محبت کے اظہار کی سب سے پہلی اور بنیادی شکل فوری طور پر ناقد مرد کی رشتے دار عورتوں کو جنسی القاب سے نوازنا اور ناقد عورت کو فوری طور پر طوائف قرار دے ڈالنا ہے

اگر پیرا سائیکالوجی کے تحت ان کمنٹس کی نفسیاتی تحلیل کی جائے تو یہ اپنے ناقد مرد کی تنقید کا بدلہ اس ناقد مرد کی رشتے دار عورتوں کو بے کردار اور ناقد عورت کو سر تا پا بے کردار ثابت کرکے لینا چاہتے ہیں اور ان کے جملے اور پھبتیاں ان کے جنسی مریض ہونے کا کاشن دیتے ہیں

اور بہت سارے کمنٹ تو ایسے ہوتے ہیں جن کو پڑھنے کے بعد ایسے لگتا ہے کہ جیسے بہت بڑی تعداد میں مریضانہ جنسیت زدگی کے شکار لوگ ہوں اور ناقد عورت ان کے سامنے ہو تو پھاڑ کھائیں یا اسے بھنبھوڑ ہی ڈالیں

باقی بلاسفیمی، غدار،ایجنٹ یہ اور اس جیسی دیگر الزامی بھاشا اوپر زکر کردہ کھلی گالیوں اور بالواسطہ طور پر سامنے آنے والی تقریری جنسیاتی درندگی کے سامنے ہیچ لگتے ہیں