Newspaper Articles Urdu Articles

کیا ہم اٹھارویں ترمیم باقی رکھ سکتے ہیں.؟ مرزا معیز بیگ

نوٹ: سابق صدر آصف علی زرداری اور پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تواتر سے یہ کہنا شروع کیا کہ 18 ویں ترمیم کو لیپٹنے کی کوشش ہورہی ہے تو اس وقت پاکستان کا مین سٹریم میڈیا بشمول ڈان میڈیا گروپ اسے سیاسی سٹنٹ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کیس سے بچنے کا حیلہ قرار دے رہا تھا-پھر یوں ہوا کہ پہلے چیف آف آرمی سٹاف نے ترمیم کو وفاق کے لیے خطرہ قرار دیا اور اس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اور پھر سپریم کورٹ نے بظاہر کراچی میں موجود تین ہسپتالوں کی سندھ حکومت سے وفاق کو منتقلی کا حکم سنایا تو اس فیصلے کے دور رس اثرات پر پاکستان کا مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا اور یہاں تک کہ سوشل میڈیا بھی سرے سے کوئی ایسا سنجیدہ رجحان نہ پیش کرپایا جو لوگوں میں خطرے کا سائرن بجاتی-

پاکستان میں آئین اور قانون، عدالتی اسٹبلشمنٹ کے کنڈکٹ پر ہونے والی زیادہ تر بحث متنازعہ ماضی رکھنے والے ججوں کو ھیرو بنانے پر زیادہ زور دیتی ہیں، لیکن عدالتی ایوانوں میں جو جج واقعی امید کی کرن بن سکتے ہیں ان پر کوئی بحث میڈیا کا ٹریمد نہیں بنتی….. جتنی بحث میڈیا پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف دائر ریفرنس کو لیکر اسٹبلشمنٹ اور موجودہ حکومت کے کنڈکٹ پر ہورہی ہے اتنی شدت کے ساتھ بحث سندھ حکومت سے ہسپتال واپس لینے والے فیصلے پر نہیں ہوئی، حالانکہ یہ فیصلہ اٹھارویں ترمیم کو دفن کرنے والا اور صوبائی خود مختاری پر ضرب لگانے والا ہے-اس فیصلے پر جسٹس باقر کا اختلافی نوٹ ہمیں اس مصیبت سے خبردار کرتا ہے جو اسلام آباد میں بیٹھے وردی و نے وردی بابو، موجودہ حکومت اور اس کے حامی چند ماہرین قوم کو مبتلا کرنا چاہتے ہیں-

مراز معیز بیگ کے لکھے مضمون کا یہ ترجمہ اس موضوع پر بحث کو آگے بڑھانے کے لیے کیا جارہا ہے –

جب بنجمن فرینکلن ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے دستور ساز کنونشن سے واپس جارہا تھا، جہاں امریکہ کے آئین ساز اکھٹے ہوئے تھے، تو ایک عورت نے اس سے سوال کیا، ‘ ڈاکٹر، ہم نے کیا حاصل کیا ہے؟ ایک جمہوریہ یا بادشاہت؟ “

فرینکلن نے جواب دیا،” اگر تم سنبھال سکے تو ایک جمہوریہ (ریاست) “

اٹھارویں آئینی ترمیم کی ہمارے اپنے سیاق وسباق مین منطوری پارلیمانی اراکین کی وفاق اور صوبوں میں تعلقات پر نظرثانی کی خواہش کی مظہر تھی- صوبوں کو اور زیادہ خودمختاری دیکر، ترمیم نے صوبوں کو عوام کی خواہشات اور آرزؤں کے جواب میں زیادہ مستعد کرنے کا وعدہ پورا کردکھایا تھا-

ترمیم سے بلوچستان کی حق تلفیوں کا مداوا اور سندھ کی ترقی میں تیزی آنے کی امید کی گئی تھی-

تاہم موجودہ حکمران پارٹی کے سیاست دانوں اور بعض غیرسیاسی اداروں نے آج کل اس ترمیم پر کچھ سوالات اٹھائے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کیا ہم اس ترمیم اور مالیات کی نیچے منتقلی کو ساتھ ساتھ لیکر چل سکیں گے؟

یہی سیاق و سباق تھا جس کے اندر سپریم کورٹ نے سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان چل رہے ایک تنازعے پر مشتمل کیس کا فیصلہ سنایا-

تنازعہ تھا کراچی میں موجود تین ہسپتالوں کی ملکیت اور اس پر کنٹرول کا-

سپریم کورٹ نے اٹھارویں ترمیم کے تحت کراچی کے تین ہسپتالوں کی تحویل اور کنٹرول سندھ حکومت کو مل جانے کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے، ان کو وفاقی حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ سنایا-پانچ رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تھی-چار جج صاحبان نے فیصلہ وفاق کے حق میں دیا جبکہ ایک جج نے اس پر اختلافی نوٹ لکھا-

عدالت کو تو آئینی تشریح کرتے ہوئے خودمختاری کی سرحدوں کو پھیلانا چاہیے تھا لیکن اس کیس میں بنچ کی اکثریت نے الٹا ہر جگہ وفاق کو داخل کردیا-

بنچ کے پانچ میں سے چار ججوں نے مختصر حکم نامے میں اس بات کو تسلیم کرلیا کہ وفاق کو کسی بھی صوبے میں ہسپتال چلانے سے نہین روکا جاسکتا اور اس کے لیے وفاقی قانون ساز لسٹ کی انٹری نمبر 37 کو جواز بنایا-

نمبر37 انٹری کہتی ہے کہ وفاقی حکومت کسی بھی وفاقی اکائی میں وفاق کے مقصد کی خاطر منصوبے بنا اور کام کرواسکتی ہے-

تاہم پبلک ہیلتھ اور ہسپتال حکومت ہند ایکٹ 1935ء کے وقت سے خصوصی طور پر صوبوں کے پاس ہی رہے ہیں-

سن 56ء. 62ء کے آئین ہوں، 72ء کا عبوری اور سن 73ء کا آخری آئین ہو ان سب دستوروں میں صحت عامہ اور ہسپتالوں پر اکیلی اتھارٹی صوبوں کی رکھی گئی تھی –

جب آئین میں اس حوالے سے کچھ اور بیان ہوا ہو تو پھر اس بات پر حیرانی کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کیسے ہسپتالوں کا آپریشن وفاق کے زمرے میں دیا جاسکتا ہے-

اس اکثریت کے دیے گئے مختصر فیصلے میں یہ بات بھی کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت کو کسی بھی وفاقی اکائی میں ہسپتالوں کی تعمیر اور ان کے آپریشن چلانے سے روکا نہیں جاسکتا جبکہ صحت کی دیکھ بھال کا حق، حق زندگی سے جڑا ہوا ہے-

اور یہ بھی کہا گیا کہ بنیادی حقوق کی حفاظت وفاقی حکومت کی اولین زمہ داری ہے-وفاقی حکومت کو اس لیے شہریوں کے بنیادی حق کو ادا کرنے سے نہیں روکا جاسکتا-

آئین میں تو یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ بنیادی حقوق کی ادائیگی اور ان کی حفاظت کرنا ریاست کا کام ہوتا ہے، تو کیا ہم یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کیا ریاست اور وفاقی حکومت میں جو فرق ہوتا ہے وہ بنچ کی اکثریت کی نظروں سے کیسے اوجھل ہوگیا؟ (تاہم یہ مختصر فیصلہ تھا، تفصیل سے وجوہات کا تفصیلی فیصلے سے پتا چلے گا)

بنیادی حقوق کی ادائیگی کی زمہ داری ریاست کی تشکیل کرنے والے سبھی عناصر کی ہوا کرتی ہے جس میں وفاق، صوبے اور مقامی حکومتیں شامل ہیں جو آئین میں مقررہ کردہ حدود میں رہ کر ان حقوق کو پورا کرنے کے پابند ہیں-

یہ فیصلہ دینا کہ وفاقی حکومت کو حق زندگی کی حفاظت سے نہیں روکا جاسکتا وفاقی حکومت کو دوسری چیزوں میں مداخلت کرنے کا راستا ہموار کرنا ہے، یہ صوبون مین اپنی پولیس فورس بھی قائم کرسکتا ہے اور اس طرح سے اس فیصلے کی بنیاد پر یہ صوبوں کے دوسرے اختیارات پر چڑھائی کرسکتا ہے-

اختلافی نوٹ جسٹس باقر نے لکھا جو کہ 2013ء مین کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے حملے میں محفوظ رہے تھے اور اب تک کئی اختلافی نوٹ عدلیہ کے فیصلوں پر تحریر کر کے ہیں جن میں بے قابو اور بغیر منصوبہ بندی کے بغیر ہونے والی ترقی کے زمانے میں قومی ورثہ کی حفاظت مقدمے پر لکھا گیا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے-

اس نوٹ میں انھوں نے اپنے اختلافی نکتہ نظر کا آغاز جسٹس ڈوگلس کے قول سے کیا- ڈوگلس کا کہنا ہے،

” اختلاف کرنے کا حق ہی واحد چیز ہے جو ایک اپیلٹ کورٹ کے جج کے لیے زندگی کو قابل برداشت بناتی ہے-“

وہ لکھتے ہیں کہ صحت عامہ اور سرکاری ہسپتال ہماری ساری دستوری تاریخ میں ہمیشہ سے صوبوں کے پاس رہے ہیں- اور اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی نشانی یہ ہے کہ سوائے دارالحکومت کے سارے ملک کے ہسپتال صوبوں کی تحویل میں ہیں اور وہی اس کا انتظام و انصرام کرتے ہیں –

دوسری چیز انہوں نے یہ مشاہدہ کی کہ

“ وفاقیت ہمارے آئین کے روح اور جوہر کی نمائندہ ہے – وفاقیت کے مرکز میں صوبائی خودمختاری کا تصور موجود ہے-اس لیے عدالت کی کوشش آئینی تعبیر ایسے طریقے سے کرنے کی ہونی چاہیے جس سے اس طرح کی خودمختاری کی سرحدیں وسیع ہوں ناکہ وہ اس کو تحلیل کرنے والی ہوں-

حق زندگی کی تشریح کو پھیلانا اس حق کے سکوپ اور حد کو جس کو آئین کی شق نمبر 9میں تحفظ دیا گیا ہے بے سمت پھیلانے سے تو یہ انسانی زندگی کے ہر ایک پہلو تک پھیل جائے گا-

وفاق کو اس تشریح کے ساتھ اختیار اور اتھارٹی دینے سے مشکل سے صوبے کے پاس کوئی اجتیار بچے گا کہ جس کے تحت وہ کسی چیز کی تحویل کرسکے، کسی چیز کو دے سکے یا کسی وعدے کی پاسداری کرسکے، اس طرح سے تو اس قوم نے عظیم تر صوبائی خودمختاری کے لیے جوکھم بھرا سفر کیا وہ سارا رائیگاں چلا جائے گا- جس کا خواب اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد سچ ہوتا نظر آئے تھا-“

جسٹس باقر نے مزید لکھا،

آئین میں دئے گئے اختیارات کے لزوم کا لحاظ نہ کرنا جیسے صوبائی خودمختاری کا لحاظ نہ کرنا ہے سے ان لوگوں کو ہمت ملے گی جو قانون کی حکمرانی نہیں چاہتے اور جو آئین کی بالادستی کا لحاظ بہت کم کرتے ہیں-

اور آخر میں انھوں نے یہ نتیجہ نکالا،

“امید کرتا ہوں کہ آج جو اختلافی نوٹ ہے وہ کل قانون بن جائے گا”

کینڈا کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کلیئر لاراکس ڈوبے نے ایک بار کہا تھا،

” عدالتی فیصلوں میں اختلافی آوازیں عمومی طور پر مستقبل میں اولین ترجیح بن جایا کرتی ہیں-“

کیا ہسپتالوں کی منتقلی کیس میں اقلیتی فیصلہ آنے والے کل میں اکثریتی فیصلہ بن پایے گا یا صوبائی خودمختاری پر چڑھائی وفاق اور صوبوں میں ہلکے ہلکے بڑھتے تناؤ کو زیادہ کردے گی؟

مترجم :عامر حسینی

مضمون انگریزی روزنامہ ڈان کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود ہے جسے اس لنک پر پڑھا جاسکتا ہے

Link:

https://www.dawn.com/news/1486075