Original Articles Urdu Articles

سفید پوش و غریب طبقات سے لیکر امیروں کو دو – عامر حسینی

سفید پوش و غریب طبقات سے لیکر امیروں کو دو

کچھ مثالیں دیکھ لیں

کار انڈسٹری:دس فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 800 سو سی سی کاروں پر سے ہٹالی گئی
شوگر ملز مالکان: چینی کی ڈیوٹی فری ایکسپورٹ کی اجازت… جہانگیر ترین سمیت شوگر ملز مالکان نے قریب قریب سو ارب روپے کے قریب منافع کمایا-

سٹاک ایکسچینج بروکرز: 20 ارب روپے کے سپورٹ فنڈ سے پسندیدہ مہا امیر بروکرز کے حصص میں سرمایہ کاری تاکہ ان کے گرتے نرخ پھر سے مستحکم ہوسکیں

دفاعی بجٹ میں اضافہ اور ترقیاتی بجٹ میں کمی

بینکنگ سیکٹر :شرح سود بارہ فیصد کردی گئی اس سے کمرشل بینکوں کا سرمایہ، سٹاک ایکسچینج بروکرز، دیگر سرمایہ کار حکومت کے قرضوں کے لیے ٹی بل وغیرہ خریدیں گے، کاروبار، انڈسٹری پر سرمایہ کاری بہت نیچے جائے گی اور اس سے روزگار کے مواقع میں کمی آئے گی

روپے کی قدر میں کمی سے براہ راست ایکسپورٹرز کے کچھ سیکشن کو فائدہ ہوا لیکن ایکسپورٹ زیادہ ہونے کی بجائے کم جبکہ امپورٹ بل بڑھ گیا

سفید پوش، دیہی و شہری غریبوں کے لیے افراط زر یعنی مہنگائی دس فیصد کا ہندسہ عبور کرگئی اور تنخواہ دار طبقے کو گزشتہ سال کی نسبت اپنی تنخواہ میں سے چالیس فیصد زیادہ اخراجات ادا کرنے پڑے کیونکہ بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل، اشیائے ضرورت سب کی قیمتوں میں حکومتی ٹیکسز میں اضافے کے سبب بے انتہا اضافہ ہوا ہے

عمران خان کی حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہ حکومتی اخراجات میں کنٹرول کرے گی، امیروں سے ٹیکسز کی وصولی کی شرح میں اضافہ کرے گی، جبکہ تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر وغیرہ کے لیے زیادہ بجٹ مختص کرے گی اور سفید پوش طبقے کو یوٹیلیٹی بلوں میں ریلیف دے گی، ہو اس کے بالکل الٹ رہا ہےتبدیلی حکومت کا نعرہ غریبوں لوگوں کو ریلیف مہیا کرنے کی بجائے ان سے اور بچت کرنے اور مزید مہنگائی برداشت کرنے میں بدل گیا جبکہ امیروں سے لینے کی بجائے ان کو اور دینے میں بدل گیا دیکھا جائے تو عمران خان کی حکومت کا نعرہ بن گیا ہے

سفید پوش اور غریب طبقے سے پیسا کھینچو اور امیر لوگوں کو دو