Original Articles Urdu Articles

نواز شریف کا المیہ – عامر حسینی

جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسسٹس آغا بارے دائر ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے حکومت کو نوٹس جاری کردیا، جس میں ریفرنس پر جواب مانگا گیا ہے، یہ نوٹس دونوں جج صاحبان کے خلاف دائر ریفرنس کی باقاعدہ تصدیق ہے

جسٹس فائز عیسٰی پر ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے لندن میں پانچ لاکھ پندرہ ہزار پاؤنڈ سٹرلنگ کی پانچ جائیداد اپنی بیوی اور بچوں کے نام پر خرید کیں لیکن ان کو اپنے اثاثوں کے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا جوکہ مبینہ طور پر ججوں کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی بھی ہے

ریفرنس دو جسٹس صاحبان کے خلاف دائر ہوا ہے لیکن سب سے زیادہ فوکس جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف دائر ریفرنس پر ہے

پاکستان میں لبرل بورژوازی دانش اور ان کی اندھی تقلید کرنے والا بوتیک لیفٹ جن کے بارے میں قوی تاثر یہ ہے کہ وہ مسلم لیگ نواز کے غیر اعلانیہ میڈیا مینجر ہیں جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف دائر ریفرنس کو عدالت عظمیٰ میں موجود مبینہ آزاد ججوں کو نکال باہر کرنے کی اسٹبلشمنٹ کی سازش قرار دیے رہے ہیں

پاکستان بار کونسل کی موجودہ قیادت جس کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ بھی وکلاء برادری میں نواز شریف کی لابنگ مشین کی قربت رکھتے ہیں کے خیال میں بھی ریفرنس آزاد ججوں کے خلاف سازش ہے

مسلم لیگ نواز نے بھی اس ریفرنس پر شدید ردعمل دیا ہے-اور وہ اسے آزاد عدلیہ کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں

مسلم لیگ نواز، اس کے غیراعلانیہ لبرل صحافتی میڈیا مشینری اور سوشل میڈیا پر سرگرم اس کے اعلانیہ و غیر اعلانیہ حامیوں جس میں لاہور سمیت اربن سنٹرز سے تعلق رکھنے والا بوتیک لیفٹ بھی شامل ہے آخر جسٹس قاضی فائز عیسٰی پر اتنی توانائی خرچ کیوں کررہا ہے؟

کئی ایک پاکستان پیپلزپارٹی اور انقلابی لیفٹ سے تعلق رکھنے والے قانون دانوں کا کہنا ہے کہ

اس کی ایک وجہ تو قاضی فائز عیسٰی کا تحریک لبیک کے دھرنے پر لیے جانے والے سوموٹو پر سماعت کے بعد دیا جانے والا فیصلہ ہے جس میں موجودہ جج نے نواز شریف حکومت کو بڑی شرمندگی سے بچایا تو ضرور تھا لیکن جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اس میں واضح زمہ داری کسی بھی سیکورٹی یا انٹیلی جنس افسر پر عائد نہ کرکے اپنے ہی فیصلے کو بے اثر بناڈالا تھا اور شاید یہ مسلم لیگ نواز کا مقصد بھی نہ تھا کہ اسلام آباد کے لاک ڈاؤن ہونے کی زمہ داری کسی جرنیل یا انٹیلی جنس افسر پر ڈالی جاتی اور ان کے خلاف کیس دائر کرکے متعلقہ افسران کو سزائیں سنائی جاتیں بلکہ مقصد بدنامی ہو اور اس تاثر کو مزید ہوا ملے کہ نواز شریف کس قدر جمہوریت کی بالادستی میں مگن ہے اور اس کو عسکری اسٹبلشمنٹ کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے-

پیپلزپارٹی اور دیگر کئی ایک حلقوں کا خیال یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ نواز درپردہ ایک عرصے سے کوشش کررہی ہے کہ وہ عدالتی اسٹبلشمنٹ میں اپنے حامی ججوں کے زریعے سے اپنے مخالف ججوں کے خلاف بغاوت کرائے اور اپنے مخالف ججوں کی زیادہ سے زیادہ کردار کشی ہو اور ایک نیا افتجار چودھری جنم لے

اس نکتہ نظر کے حامیوں کے ہاں پہلے دن سے یہ خیال موجود ہے کہ نواز شریف کی لڑائی ضیاءالحق کی باقیات پر مشتمل اسٹبلشمنٹ کے اندر تقسیم کی لڑائی ہے-

نواز شریف نے ضیاءالحق کے زمانے سے لیکر بارہ اکتوبر 1999ء تک اسٹبلشمنٹ کے اندر اپنی ایک اسٹبلشمنٹ کی تعمیر کی اور اس اسٹبلشمنٹ کے اندر نازو اسٹبلشمنٹ سے باہر کی اسٹبلشمنٹ نے قطعی پسند نہیں کیا

نواز شریف کا دوہزار آٹھ سے لیکر نااہل ہونے تک کا ٹریک ریکارڈ صاف بتاتا ہے کہ اس نے اپنے ذاتی اقتدار کو مضبوط بنانے کے لیے کبھی بھی سازشوں کا راستا ترک نہ کیا اور مسلسل ریاستی اداروں پر اپنی شخصی اور ذاتی گرفت کو مضبوط کرنے کی فکر میں رہا

اسے 2012ء میں یہ یقین دلایا گیا تھا کہ وہ امریکی اسٹبلشمنٹ کی مدد سے اور بین الاقوامی و ملکی لبرل میڈیا اسٹبلشمنٹ کے پروپیگنڈے کی طاقت سے اپنی وفادار اسٹبلشمنٹ کو اپنے کنٹرول میں موجود نہ ہونے والی اسٹبلشمنٹ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے گا

لیکن اس کے کنٹرول سے باہر موجود عسکری، عدالتی، صحافتی اسٹبلشمنٹ کے کرداروں نے اس کی گیم اسی پر پلٹ دی

پاکستان تحریک انصاف، اینٹی قادیانی کارڈ، انڈیا نواز. کارڈ سمیت وہ سب کارڈ نواز شریف کی قائم سلطنت کے خلاف نواز مخالف اسٹبلشمنٹ نے کامیابی سے استعمال کیے، جیسے نواز شریف کو لانے اور پنجاب سے پیپلزپارٹی کو باہر کرنے کے لیے استعمال کیے گئے تھے اور اسی مقصد کے لیے اسٹبلشمنٹ نے پاکستان تحریک انصاف کو بطور سیاسی متبادل کے طور پر چن لیا

نواز شریف اسٹبلشمنٹ کے اندر اپنے وفاداروں کو بچانے اور وہ وفادار نواز شریف کو کسی نہ کسی حد تک مدد بہم پہنچانے کی اپنی سی کوشش کررہے ہیں

سوشل میڈیا پر قانون فہم، لیاقت علی ایڈوکیٹ، ریاض ملک سمیت کئی ایک تجزیہ نگاروں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کبھی بھی اسٹبلشمنٹ کی جمہوریت کے خلاف سازشوں کے خلاف جدوجہد نہیں کی اور وہ غیرسیاسی زندگی گزارتے رہے ہیں بلکہ جج بننے کے بعد وہ جرنیلوں کی تیار کردہ میمو گیٹ سازش میں جسٹس افتخار چوہدری کے کہنے پر جو یک رکنی کمیشن بنا اس کی صدارت کرتے ہوئے جو رپورٹ لکھی اس میں اس سازش کو تقویت فراہم کی اور یہ کیس میاں نواز شریف سپریم کورٹ میں لیکر گئے تھے، اس زمانے میں چونکہ کیانی نواز شریف کے ساتھ تھے تو جسٹس صاحب مبینہ طور پر پوری طاقت سے اسٹبلشمنٹ نوازبن کر کھڑے رہے، بعد ازاں جب نواز شریف نے اسٹبلشمنٹ میں اپنی ذاتی وفاداری کے گرد جمع نہ ہونے والی اسٹبلشمنٹ کی شخصیات سے لڑائی مول لی تو جسٹس نے اپنے عمل سے بتایا کہ وہ اسٹبلشمنٹ میں موجود تقسیم میں کس طرف ہیں

نواز شریف کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ جیسے وہ ججوں، سویلین بیوروکریٹ، سویلین سیکورٹی و انٹیلی جنس اداروں میں اپنی ذاتی وفاداری کو مستحکم بنا کے ایسے وہ عسکری اسٹبلشمنٹ کے اندر بھی ذاتی وفاداروں کی فوج پال لیں، وہ بہت کوشش کرتے رہے کہ کوئی آرمی چیف ان کا ذاتی وفادار آجائے اور آئی ایس آئی اور ایم آئی میں ان کو ایسے ڈی جی ملیں جو ان کے وفادار کورکمانڈر، ڈی جی ایم او، انٹیلی جنس کے فیلڈ افسران کو تعینات کرے جو ان کی وفاداری کرے، یہ کوشش نواز شریف نے پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف بناکر کی تھی لیکن اس میں ناکامی پر وہ جنرل ضیاءالدین کو لانے کے چکر میں تھے کہ ٹریپ ہوگئے

نواز شریف 2012ء میں زرا زیادہ تیاری اور منصوبے کے ساتھ آئے تھے اور اس مرتبہ رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے انہوں نے ابھرتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا، بین الاقوامی میڈیا کے لبرل سیکشن کے بڑے ناموں کی خدمات کے حصول کو یقینی بنایا اور امریکی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ اپنے قابو میں نہ آنے والی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے کرداروں سے چل رہی سردمہری اور چوہے بلی کی لڑائی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، اس کی عکاسی ڈان لیکس میں بھی ہوئی

نواز شریف کیمپ کا کمرشل لبرل مافیا الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر نواز شریف کی تابعداری نہ کرنے والی ملٹری اسٹبلشمنٹ اور اس کے نیب، ایف آئی اے، سپریم کورٹ میں بیٹھے مبینہ حامیوں کے خلاف بہت جارحانہ انداز لیکر حملہ آور ہوا اور اس نے اپنے چہرے پر جمہوریت اور اینٹی اسٹبلشمنٹ نقاب چڑھاکر آیا لیکن مقصد نواز شریف کے ذاتی اقتدار کو مضبوط ترین بنانا تھا-

اگر نواز شریف کامقصد پارلیمنٹ کی بالادستی ہوتا تو وہ کیانی اور افتخار چودھری سے ملکر پیپلزپارٹی کے خلاف سازشیں اور دوہزار بارہ کے الیکشن آر اوز کی مدد سے نہ جیتے، نہ ہی وہ سندھ پولیس کے آئی جی کی تعیناتی کا اختیار سندھ حکومت سے لیتے اور نہ ہی وزرات داخلہ کے وزیر چوہدری نثار کو سندھ میں رینجرز، ایف آئی اے کے زریعے سے کاروائیاں کرنے دیتے اور سب سے بڑھ کر وہ اٹھارویں ترمیم کے وقت یا دوہزار بارہ میں اقتدار میں آنے کے بعد پارلیمنٹ میں نیب اور عدلیہ کے اندر اصلاحات لانے کے لیے درکار قانون سازی کرتے اور ضیاءالحقی آئینی شق اکسٹھ باسٹھ کو بدل ڈالتے اور یہ کام تحریک انصاف کی مدد کے بغیر آسانی سے ہوجانا تھا

اس تجزیہ کے حامل لوگوں کا کہنا ہے کہ دیکھا جائے تو نواز شریف کے کمرشل لبرل میڈیا مینجرز کا پیپلزپارٹی اور بھٹوز سے بغض بالواسطہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کو فائدہ پہنچاگیا- اور خود نواز لیگ کے اندر بیٹھے ملٹری اسٹبلشمنٹ کے مخبروں کا کردار نواز شریف کی جیل کا سبب بن گیا، جیسے چودھری نثار

پاکستانی کمرشل لبرل مافیا اور مسلم لیگ نواز کے اندر بیٹھا ہوا مخبروں کا ٹولہ نواز شریف کو یہ کہہ کر گمراہ کرتا رہا کہ آصف علی زرداری نواز شریف کے مخالف جرنیلوں سے ساز باز ہونے کی کوشش میں ہے اور نواز شریف نے بھی وزرات داخلہ کی پی پی پی مخالف کارروائیوں پر چپ سادھ لی یہ سمجھ کر کہ اس طرح سے پیپلزپارٹی کٹ ٹو سائز ہوکر سندھ تک ہی محدود رہے گی اور پورا پنجاب اس کے قبضے میں رہے گا تو کوئی نواز لیگ کو اقتدار سے باہر نہیں کرسکے گا نواز شریف کی ذاتی ہوس اقتدار نے پیپلزپارٹی کو اسٹبلشمنٹ بمقابلہ اسٹبلشمنٹ لڑائی میں قدرے غیرجانبدار کردیا

کمرشل لبرل مافیا اب بھی پیپلزپارٹی کے خلاف اپنے بغض اور نفرت کو چھپانے میں کامیاب نہیں ہے، یہ اب بھی صرف اور صرف نواز شریف کی ذاتی پروجیکشن اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے کردار پر نراجیت پسندانہ جارحانہ حملوں پر یقین رکھتا ہے اور اس کے پاس موجودہ بحران سے نکلنے کا کوئی تعمیری حل موجود نہیں ہے، اسے آصف عل زرداری کی عملیت پسندی سے اس لیے نفرت ہے کہ اس سے ملک میں انارکی نہیں پھیلتی اور آگ نہیں لگتی اور یہ ملک شام اور لیبیا نہیں بنتا- یہ پی ٹی ایم کے بطن سے بہار پاکستان برآمد کرنے کے خواہاں مطلب پورا ملک نسلی و لسانی بنیادوں پر ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہا ہو اور اس ملک کی فوج اور سویلین سیکورٹی کے ادارے بھی نسلی، لسانی اور مذھبی تعصبات کے گرد تقسیم ہوجائیں لاکھوں مارے جائیں، کروڑوں پناہ گزین کیمپوں میں پڑے ہوں اور پورے ملک میں لاکھوں بچے قحط اور وبائی بیماریوں سے مرجائیں

ایک میرے دوست جو طارق فتح کے بڑے قریب تھے نے طارق فتح سے پوچھا کہ اگر پاکستانی فوج جس کے ٹوٹ جانے کی خواہش آپ کے اندر بہت طاقتور ہے اور ریاست پاکستان کی ہی تحلیل کرنے کے خواہاں ہیں آپ تو یہ تو بتائیں اگر اتنی طاقتور اور جدید اسلحے سے لیس فوج لسانی و مزھبی بنیادوں پر تقسیم ہوکر متحارب کیمپوں میں بٹ گئی تو ان کی باہمی خانہ جنگی سے نہتے اور معصوم عوام کو کون بچائے گا، ایسے تو لاکھوں لوگ مرجائیں گے اور کروڑوں مہاجر ہوجائیں گے، اس طرح کے انسانی المیہ سے کیسے بچاجائے گا تو اس پر طارق فتح نے بے پروائی سے کندھے اچکائے اور کہا یہ میرا مسئلہ نہین ہے

طارق فتح پاکستان کے کمرشل لبرل مافیا کی مشترکہ ڈارلنگ ہے-اور نواز شریف کی اپنی سوچ بھی اس سے مختلف ہرگز نہیں ہے، اس کے خیال میں جو کھلونا اسے کھیلنے کے لیے نہ ملے اسے توڑ دیا جانا ہی ٹھیک ہوا کرتا ہے

پاکستان میں اگر کسی سیاسی جماعت نے انتقام اور جذبات میں آکر انارکی اور ملک کو سول وار کی طرف دھکیلنے کی طرف کبھی قدم نہیں بڑھایا تو وہ پیپلزپارٹی ہے، جس نے سویلین بالادستی کو ایک آدرش اور نصب العین کے طور پر تو ہمیشہ سامنے رکھا لیکن اس آدرش کو زمینی حقائق کے مطابق آگے بڑھایا ہے

اس کی قیادت نے تو 1980ء میں اپنی ہی پارٹی کے کچھ جذباتی نوجوانوں کے مسلح ایڈونچرازم یا کسی اور ملک کی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ملکر ملک میں انارکی پھیلانے والی سوچ کو رد کردیا تھا اور پرامن سیاسی جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھایا تھا اور کسی دوسرے ملک کے مفادات کو آگے نہیں بڑھایا تھا-
آج بھی یہ اسی اصول پر عمل پیرا ہے، یہ ریاستی ادارو‍ں کی اسٹبلشمنٹ کے اندر اپنی اسٹبلشمنٹ قائم کرنا نہیں چاہتی بلکہ پوری اسٹبلشمنٹ کا قبلہ سیدھا اور اس کو سویلین بالادستی کو تسلیم کرنے پر زور دیتی ہے

مقصد سلطنت آصفیہ کی تشکیل نہیں ہے اور نہ ہی یہ چاہتی ہے کہ اسٹبلشمنٹ اپنے لاڈلوں کے لیے سیاسی پروسس کو مشکوک بناتی رہے

نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو ایک بات سمجھ لینے کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ سازشوں سے اور کسی ریاستی ادارے کو توڑنے یا کمزور کرنے کی کوشش سے سویلین بالادستی قائم نہیں ہوسکتی اور نہ ہی امریکی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مقامی اسٹبلشمنٹ کے کسی جھگڑے میں فائدہ اٹھانے کی سوچ سے سویلین بالادستی قائم ہوسکتی ہےیہ تو پرامن اور صاف ستھری سیاسی جمہوری جدوجہد کے زریعے ممکن ہےاس لیے جتنی جلدی ہوسکے تو کمرشل لبرل مافیا سے جان چھڑا لی جائے

پیپلزپارٹی نے حسین حقانی اینڈ کمپنی کو اس وقت خیرباد کہا جب وہ بالکل ہی امریکی کیمپ میں بیٹھ گیا اور نواز شریف نے اس کو اور اس کے حقانی نیٹ ورک کو اپنا نجات دہندہ مان کر گلے لگایا اور انجام کو پہنچ گیا، اب اگر مریم نواز کو اس دلدل میں دھنسنے سے بچانا ہے تو اس مافیا سے جان چھڑانا ہوگی

اس مافیا کا ایک حصہ جیسے اعجاز حیدر، ندیم پراچہ وغیرہ تو پہلے ہی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ گیا ہے اور باقی نے ابتک تو درمیانی راہ تلاش کرنا شروع کردی بھی ہوگی تو بہت ہوگا جتنی جلدی واپسی ہوجائے اتنا اچھا ہے