Original Articles Urdu Articles

جعلی اینٹی اسٹبلشمنٹ کردار – عامر حسینی

عدلیہ میں نواز شریف کے حامی ججوں کے خلاف ریفرنس دائر ہوا ہے ناکہ عدلیہ کی آزادی کے حامی ججوں کے خلاف کیونکہ عدالتی اسٹبلشمنٹ میں حقیقت میں آزاد ہونے کا سرے سے کوئی تصور نہیں ہے یہ ضیاءالحق کی باقیات پر مشتمل عدالتی اسٹبلشمنٹ ہے جو آپس میں لڑرہی ہے، ویسے ہی جیسی لڑائی ہم سول انتظامی اسٹبلشمنٹ اور یہاں تک کہ عسکری اسٹبلشمنٹ میں بھی دیکھ رہے ہیں اور یہی لڑائی مین سٹریم میڈیا میں بھی ہےفی الحال فوج، سویلین ایڈمنسٹریشن، عدالتی اسٹبلشمنٹ میں پلہ نواز شریف اینڈ کمپنی کے مخالف دھڑے کے پاس ہے جس کا سیاسی چہرہ پی ٹی آئی ہے جبکہ عدالتی چہرہ کھوسہ اور اس کے حامی ہیں، جبکہ اس کا عسکری چہرہ باجوہ ہے

صحافتی اسٹبلشمنٹ میں میر شکیل الرحمان، حمید ہارون، سلطان لاکھانی کے گروپ اگرچہ نواز شریف کے ساتھ ہیں مگر ان کے ہاتھ پاؤں جکڑ دیے گئے ہیں مگر سوشل میڈیا اور بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی اردو اور پاکستان کی دیگر زبانو‍ں میں سروسز نے نواز شریف کیمپ کا پلہ بھاری بنا رکھا ہے اور عالمی نیولبرل صحافتی اسٹبلشمنٹ میں بھی پلہ نواز کیمپ کا بھاری ہے جو پاکستان میں ضیاءالحق کی باقیات کے درمیان تقسیم اور لڑائی کو جمہوریت بمقابلہ آمریت اور پریس کی آزادی بمقابلہ سنسر شپ بناکر دکھاتا ہے

قانون فہم ٹھیک کہتے ہیں کہ قاضی فائز عیسی سمیت جن کو نواز شریف کیمپ عدلیہ کی آزادی کا سمبل بناکر پیش کررہا ہے یہی لوگ ماضی میں جب نواز شریف کا ریاستی اداروں پر کنٹرول تھا اس کی نمک حلالی کررہے تھےیہ اسٹبلشمنٹ کا کل بھی حصہ تھے آج بھی ہیں مگر ان کا حریف کیمپ غالب ہے

میں قریب قریب کل سارا دن اور رات اور آج انتظار کیا،یہ دیکھنے کے لیے کہ پیپلزپارٹی کے کارکنوں پر اسلام آباد میں لاٹھی چارج، واٹر کینن کے استعمال اور گرفتاریوں پر پاکستان کی نواز لیگ کی مفروضہ اینٹی اسٹبلشمنٹ چھینک پر بھی ٹوئٹ اور فب پوسٹ پھینکنے والے کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں؟
ان کے درجنوں ٹوئٹ، فب پوسٹ ہیں جن کا موضوع ہے:

پاکستان میں نواز لیگ کے رہنماؤں کی نیب پیشیوں ، پی ٹی ایم پر ریاستی تشدد اور اب جسٹس قاضی فائز عیسی ریفرنس اور فخر الدین ابراہیم کے بیٹے کے استعفے پر اسٹبلشمنٹ کا واویلا اور پی ٹی آئی کی مذمت

لیکن ان میں سے کوئی ایک پوسٹ یا ٹوئٹ پی پی پی کے کارکنوں کے خلاف پولیس گردی کی مذمت پر نہیں ہے اور نہ ہی ان سے اظہار یک جہتی پر ہے-

ان میں سے کئی ایک نے بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس کا صرف وہ ویڈیو کلپ چلایا جس میں انھوں نے علی وزیر کے لیے پروڈکشن آڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا جب کہ کارکنوں پر تشدد بارے بلاول کی باتوں کو گول کرگئے

پاکستان میں خود کو اسٹبلشمنٹ مخالف قرار دینے والا لبرل کمرشل مافیا اور ان کے غلاموں کا کردار ادا کرنے والا بوتیک لیفٹ نواز شریف کے چکنے چہرے اور چمک کی غلامی کرتا ہے اور پی پی پی اور بھٹوز سے بغض میں مبتلا ہے، یہ میمو گیٹ میں جرنیلوں کی جانب سے جمہوریت پر وار کرنے کی سازش اور اس موقعہ پر آصف علی زرداری و یوسف رضا گیلانی کی کردار کشی کرنے پر خاموش رہنے والے ججوں میں سے ایک جج کو اسٹبلشمنٹ مخالف بناکر ھیرو بناتا ہےاور جرنیلوں کے ساتھ ملکر 2012ء میں آراوز کا الیکشن منعقد کرانے والے فخر الدین ابراہیم کے بیٹے کے استعفے کو گلوریفائی کرتا ہے مطلب جب نادیدہ قوتوں کا ایک حصہ نواز لیگ کے خلاف جج، نیب، ایف آئی اے کو استعمال کرے تو وہ جمہوریت کے خلاف سازش

اور جب پی پی پی کی قیادت کے خلاف استعمال ہو تو ٹھیک ہورہا ہے، کرپشن کے خلاف ہی ہورہا ہے وغیرہ وغیرہ یہاں تک کہ انگریزی روزنامہ ڈان کا اداریہ آصف زرداری جعلی اکاؤنٹس کیس میں ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ان کو ‘ناقابل تصور وائٹ کالر جرائم کا مرتکب’ قرار دے ڈالتا ہےاس اداریہ پر کسی کمرشل لبرل مافیا اور بوتیک لیفٹ کو مذمت کرنے اور انصاف کا خون ہوتا نظر نہیں آیا

پاکستان میں لبرل بورژوازی/سرمایہ داری کے حامی اور ان کی اندھی تقلید کرنے والے کئی ایک بوتیک لیفٹ والے پاکستان میں ہمیشہ ملٹری کارپوریٹ سرمایہ کو سویلین کارپوریٹ سرمایہ سے الگ تھلگ دکھاکر یہ ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کی بالادستی، سیکولر و لبرل اقدار پر مبنی سیاست اور میڈیا کی آزادی، نسلی و مذھبی اقلیتوں پر جبر، نیز اس ملک کی ورکنگ کلاس چاہے وہ شہروں میں ہے یا دیہاتوں میں، اس کی بدحالی کا قصوروار صرف اور صرف ملٹری کارپوریٹ بزنس ہے جبکہ ان کے نزدیک سویلین کارپوریٹ سرمایہ تو بربادی پھیلاتا ہی نہیں ہے-

جبکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ سرمایہ کسی بھی شکل میں ہو وہ بربادی پھیلاتا اور ورکنگ کلاس کے استحصال کو تیز کرتا ہے-

اصل میں گہرائی میں جاکر دیکھا جائے تو ریاست اور اس کے جملہ ادارے بشمول فوج یہ سب کے سب سرمایہ کی خدمت گزاری کرتے ہیں چاہے وہ کسی بھی نوعیت کا ہو اور فوجی سرمایہ بھی سویلین سرمایہ کے اشتراک سے یہ چلتا ہے اور کہیں کہیں یہ دوسرے سرمایہ سے ٹکراؤ اور تضاد میں بھی آجاتا ہے، جیسے سرمایہ داروں کے عمودی سطح پر ایک دوسرے سے تضاد بنتے رہتے ہیں لیکن آخری تجزیے میں بنیادی تضاد پھر سرمائے اور محنت کا ہی ہوتا ہے

پاکستانی فوج دنیا کی واحد فوج نہیں ہے جو بزنس سمیت کمرشل سرگرمیوں میں ملوث ہے بلکہ دنیا کی ساری افواج ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور پاکستانی فوج جیسی ساخت رکھنے والی افواج دنیا کے دیگر حصوں میں موجود ہیں، لیکن اس سے کیا ایک سرمایہ دار ریاست کے اس بنیادی وظیفے میں کوئی فرق پڑتا ہے جسے لینن تشدد اور جبر کی مشین کہتا ہے جو اپنے آخری تجزیے میں سرمایہ دار، بالادست حاکم طبقات کے مفادات کا تحفظ کرتی اور ان کے خلاف سرگرم ہونے والوں پر جبر کرتی ہے

پاکستان کی لبرل بورژوازی دانش اور اس کی اندھی تقلید کرنے والے بوتیک لیفٹیے، اور شاؤنسٹ قوم پرست یہ سب کے سب پاکستانی ریاست کی ساخت اور اس کے کردار بارے انتہائی گمراہ کن تصورات بار بار سامنے لاتے رہتے ہیں اور ان تصورات کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج کو ایک سماجی طبقہ بناکر پیش کرتے ہیں ناکہ( بطور ایک ریاستی ادارے کے جس کا کردار ایک کلاسیکل سرمایہ دارانہ جمہوریت کی حامل ریاست کے اندر موجود کردار سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا اور اس کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ جرنیلوں کی ایک اولیگارشی /اشرافیہ پاور کے کھیل میں حکمران طبقے یعنی سرمایہ داروں کے ساتھ شریک استحصال و جبر ہوں) سرمایہ دار طبقے کے مفاد کی حفاظت کرنے والا اور وقت پڑنے پر جبر و تشدد سے ان مفادات کے خلاف جانے والوں سے نمٹنے والی مشین کے طور پر لیتے ہیں

پاکستان کی لبرل بورژوازی دانش کا سیاست میں کردار حکمران طبقات کی باہمی سرپھٹول اور سرمایہ دارانہ سیاست کے باہمی تضادات سے ابھرنے والی تقسیم میں کسی ایک گروہ کے بھونپو بن جانے سے آگے نہیں جاتا-

اس دانش کا ایک بڑا حصہ بین الاقوامی نیولبرل بورژوازی اسٹبلشمنٹ کی تقلید کرتا ہے جس کا سرخیل امریکی نیولبرل اسٹبلشمنٹ ہے اور یہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں امریکی نیولبرل اسٹبلشمنٹ کے اتحادیوں کے مفادات کا مکمل تحفظ کرتا ہے-

پاکستان میں لبرل بورژوازی دانش کا غالب حصہ نسل پرستانہ شاؤنزم کا سب سے بڑا حامی ہے یہ قومی سوال کو بری طرح سے مسخ کرکے مظلوم محکوم اقوام اور کسی مہا قوم کی ورکنگ کلاس کے مابین لسانی شاؤنزم کی بنیاد پر تقسیم کی حمایت کرتا ہے اور مہا قوم کے ظالم حکمران طبقے اور مظلوم اقوام کے سرمایہ دار و جاگیردار، سردار و خوانین طبقات کی باہمی رشتہ داری اور تعلقات کو ابہام کے پردوں میں چھپادیتا ہے اور اس طرح سے غالب و ظالم حکمران طبقے کا غالب حصہ جس قوم سے تعلق رکھتا ہے اس قوم کے محنت کش طبقے اور مظلوم و محکوم لوٹ کھسوٹ کا شکار قوم کے محنت کش طبقے کے درمیان لسانی شاؤنزم اور نفرت کی دیوار کو مستحکم کردیتا ہے-

بوتیک لیفٹ جس میں کئی اشراف لیفٹ نام شامل ہیں وہ ایک عرصے سے شاؤنسٹ قوم پرستانہ سیاست اور قومی جبر کے خلاف سیاست میں فرق کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اس معاملے میں لبرل بورژوازی دانش کے سامراج نواز حلقے کی اندھی پیروی کرنے میں مصروف ہیں، وہ قومی جبر کے سوال پر حقیقی انقلابی موقف کو ہمیشہ سے ابہام کے پردو‍ں میں چھپاتے آئے ہیں-

پاکستانی لبرل بورژوا دانش جب میڈیا کی آزادی، اظہار رائے کی آزادی اور سیاسی عمل کی آزادی کی بات کرتا ہے تو اس آزادی کا مطلب صرف اور صرف سرمایہ دار سیاست کی آزادی ہوتا ہے اور اس سے کام کہ جگہوں پر یونین سازی کی آزادی سمیت ورکنگ کلاس کی آزادیاں مراد نہیں ہوا کرتیں اور نہ ہی مجبور و محکوم اقوام کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور ان کو ملیامیٹ کرنے والی ناہموار سرمایہ دارانہ ترقی کے ماڈل کے خلاف مزاحمت کی آزادی شامل ہوا کرتی ہے بلکہ محنت کش اور مظلوم و محکوم اقوام کے عوام اپنے حقوق کی بربادی کرنے والے سرمائے اور اس کے علمبرداروں کے خلاف مزاحمت کو جب بزور طاقت کچلا جاتا ہے تو اسے درست قرار دیا جاتا ہے، ہم سی پیک کے معاملے میں پاکستانی لبرل بورژوازی کا رویہ دیکھ چکے ہیں ایسے ہی یہ لبرل بورژوازی امریکہ اور اس کے اتحادی سرمایہ کی غارت گر فطرت پر خاموش رہتی ہے، اسے پاکستانی سرمایہ دار جیسے میاں منشا و عارف حبیب و رزاق داؤد اور ان جیسے دیگر کی غارت گری پر سرے سے کوئی اعتراض ہی نہیں اور جب یہ ملٹری بزنس سے یا بین الاقوامی سرمایہ داری سے ملکر بزنس وینچر کرتے ہیں اور اس دوران یہ کسی قوم کے وسائل پر ہاتھ صاف کرتے ہیں تو اس پر خاموشی اختیار کرلی جاتی ہےاس دوران جو استحصال اور جبر ریاستی اداروں اور پرائیویٹ مسلح غنڈوں کے زریعے سے ہوتا ہے اس کی نشاندہی کرنا بھی ان کے دائرے میں نہیں آتا

حقیقی انقلابی سرمایہ دارانہ پریس پر پابندیوں، سرمایہ دارانہ سیاسی حاکم طبقات کی باہمی لڑائی کے دوران ریاستی تشدد اور جبر کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ پریس اور لبرل سرمایہ دار سیاست کے اصل چہرے کو بے نقاب بھی کرتی رہتی ہے وہ قومی جبر اور اقوام کی محکومیت کے خلاف جدوجہد کرتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ بڑی قوم کے ظالم حاکم طبقے اور مظلوم و محکوم اقوام کے سرمایہ دار، جاگیردار، خوانین و سردار طبقات کے درمیان باہمی رشتہ داری اور مظلوم و محکوم اقوام کی پیٹی بورژوازی /درمیانے طبقے کے قوم پرستانہ سیاست کے شاؤنزم، طفیلہ پن اور موقعہ پرستی کو بے نقاب کرنے کا فریضہ ترک نہیں کرتی

محنت کش طبقے کی انقلابی سیاست کا فرض کسی بھی سرمایہ دار گروہ کی سیاست اور اس کے مفادات کا تحفظ نہیں ہوتا بلکہ اس کا فرض محنت کش طبقے کے مفادات کے تحفظ کو سرفہرست رکھنا ہوتا ہے-

پاکستانی بورژوازی اشراف دانش کا بھاری حصہ چاہے وہ پنجابی بولنے والی ہے یا وہ سندھی بولنے والی ہے یا وہ پشتو بولنے والی ہے یا وہ بلوچی بولنے والی ہے یا وہ اردو بولنے والی ہے (اگرچہ ان کی اکثریت لکھتی انگریزی میں ہے) وہ اس وقت نواز شریف کے قدموں میں بیٹھی ہوئی ہے اور یہی حال دائیں بازو کی پیٹی بورژوازی دانش کی ایک درمیانی سیی پرت کا ہے جن میں اردو، انگریزی، سندھی، پنجابی، اردو، پشتو و بلوچی بولنے والے سب شامل ہیں جبکہ پنجابی، پشتون، سندھ کے شہری علاقوں اور سرائیکی خطے کے پروفیشنل درمیانے طبقے کا بھاری حصہ تحریک انصاف کے عمران خان کے ساتھ جڑے سرمایہ داروں کا غلام ہے

پاکستان کا بوتیک لیفٹ/لبرل این جی نائزڈ لیفٹ لبرل بورژوازی کی اندھی تقلید میں نواز شریف کے حامی سرمایہ داروں کی غلامی میں کھڑا ہے اور اس کا وزن آخری تجزیے میں امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں کے پلڑے میں جاگرتا ہے، یہ چینی سرمائے کی غارت گری پر تو بولتا خوب ہے لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے سرمائے کی غارت گری پر خاموش رہتا ہے، یہ نجکاری پر علامتی و نمائشی طرز کے بیان اور درجن بھر ممی ڈیڈی طرز کے مظاہرے کرتا ہے لیکن نواز شریف کے پانچ سالہ دور میں وفاق اور پنجاب میں سرمایہ دارانہ سیاست کے خلاف اس کی جدوجہد سرے سے کہیں نظر نہیں آئی یہ کل جب عمران جان اپوزیشن میں تھا تب بھی نواز شریف کو خوش کرنے میں مصروف تھا، آج بھی یہی کام کرنے میں مصروف ہے، اسے بس نواز شریف کے حامی سمجھے جانے والے اخبارات اور ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر موجود اشراف لبرل بورژوازی صحافیوں، اینکرز، کالم نگاروں اور سماجی رضاکاروں کی توجہ درکار ہے یہاں تک کہ وائس آف امریکہ، بی بی سی، ڈویچے ویلے جیسے نشریاتی اداروں تک رسائی ہوجانا مطمع نظر ہےپیجا مستری ٹھیک کہتا ہے بوتیک لیفٹ اور لبرل بورژوازی دانش دونوں کے دونوں کیئررسٹ لونڈوں اور لونڈیوں کا ہجوم ہے اس کے سوا کچھ نہیں