Original Articles Urdu Articles

اشراف لبرل پشتون منافقت کے آخری درجے پر فائز ہیں – عامر حسینی

پاکستان کے پشتون علاقوں میں فوج کے آپریشنوں کے دوران اور بعد میں پیدا ہونے والے مسائل کے خلاف عوامی ردعمل آج پشتون تحفظ موومنٹ کی شکل میں سامنے ہے اور پہلے دن سے پاکستان کے حکمران طبقات نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نعرے کے تحت اٹھائے گئے اقدامات سے پیدا ہونے والے مسائل سے آنکھیں بند کیے رکھی ہیں-

مشرف دور میں تو ہم کہہ سکتے تھے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے پاس کرنے کو کچھ نہیں تھا لیکن 2008ء سے لیکر ابتک تو سویلین حکومتوں کے پاس اختیار تھا اور پاکستان کی سویلین جماعتیں جن کے پاس اقتدار آیا اور قومی اسمبلی میں ان کے پاس مطلوبہ ووٹ بھی تھے وہ آپریشنوں کے خاتمے کے بعد پشتون علاقوں سے فوج کو واپس بلاکر ان علاقوں کا انتظام واپس وزرات داخلہ کے ماتحت سیکورٹی فورسز کے حوالے کرسکتے تھے-لیکن سب سیاسی جماعتوں نے جو پارلیمنٹ میں تھیں سوائے جماعت اسلامی کے ان علاقوں میں فوج کو موجود رہنے پر اتفاق کیا اور بلکہ جنوبی وزیرستان آپریشن کے بعد آپریشن رد الفساد بھی شروع کردیا گیا-

پاکستان کی فوجی قیادت نائن الیون سے قبل اور نائن الیون سے بعد پاکستان کے اندر مذھبی و نسلی بنیادوں پر ابھرنے والی عسکریت پسندی، دہشت گردی سے بری الذمہ نہیں ہے لیکن کیا وہی اس کی ذمہ دار ہے؟

کیا پاکستان کی فوجی اور سویلین دونوں قیادتیں امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اتحادی بننے اور پھر پاکستان میں موجود جہادی تکفیری عسکریت پسند نیٹ ورک کے خلاف پشتون علاقوں میں جنگ کا آغاز کرنے پر متفق نہیں تھی؟

کیا پشتون لبرل جمہوریت پسند سیاسی اشرافیہ بشمول اسفند یار ولی، افراسیاب خٹک،محمود اچکزئی وغیرہ پاکستانی پشتون علاقوں میں فوجی آپریشنوں کے حق میں نہیں تھے؟

کیا پشتون لبرل دانشوروں، این جی اوز کے کرتا دھرتا، شاعر، ادیب اشرافیہ بھی امریکی و نیٹو فوج کی افعانستان میں اور پاکستانی فوج کی پاکستان کے پشتون علاقوں میں جنگ کی حامی نہیں تھی؟

بلکہ پاکستان پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچ لبرل قوم پرست سیاسی پارٹیوں نے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنے الیکشن منشور کا حصہ بنایا اور اس زمانے میں پاکستان کی لبرل بورژوازی دانش ساری کی ساری امریکہ کی یاترائیں کررہی تھی اور پشتون سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد یورپ اور امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے لے رہی تھی اور پشتون علاقوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر امریکہ اور یورپی یونین سے بڑے پیمانے پر این جی او پروجیکٹ آرہے تھے اور لبرل پشتون بورژوازی دانشوروں اور کئی ایک سیاست دانوں کے پوبارہ تھے اور اسی چیز کو لیکر جہادیوں اور تکفیریوں نے لبرل پشتون اشرافیہ کو اپنے نشانے پر رکھا اور ان کے خلاف دہشت گردانہ حملے بھی ہوئے بالکل ویسے ہی جیسے امریکی جنگ کا حصہ بننے پر طالبان اور القاعدہ نے پاکستانی فوج، پولیس اور دیگر ریاستی اداروں کو اپنے نشانے پر رکھا اور جون کی ہولی کھیلی-

پاکستان کی عسکری ھئیت مقتدرہ نے اس جنگ کے دوران پاکستان کے اندر موجود جہادی نیٹ ورک میں رفتہ رفتہ اپنے تئیں اپنے اثاثے اور دشمن اثاثے کے درمیان تقسیم قائم کرلی اگرچہ اس نے کبھی سرکاری طور پر اس بات کو نہیں مانا-اور اس دوران اس نے مبینہ طور پر افغانستان کے اندر امریکہ اور نیٹو کے اتحادی افغان دھڑوں کی بجائے تھریک طالبان افغانستان کے حق میں اپنی قوت صرف کی اور یہ بات کہی جاتی ہے کہ امریکہ، بھارت اور اس کے حامی افغان دھڑوں نے اس پالیسی کو محسوس کرلیا اور انھوں نے اس کے جواب میں پراکسی تیار کی جو تحریک طالبان، لشکر جھنگوی العالمی اور پھر ان کے سپلنٹر گروپوں کی شکل میں سامنے آئی جس سے نمٹنا پاکستان آرمی کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے-

پاکستان آرمی کے امریکی جنگ کا حصہ بننے اور بڑے پیمانے پر القاعدہ کے لوگوں کو امریکہ کے حوالے کرنے اور پاکستان میں جہادی کاروبار پر روک لگانے سے ایک اثر یہ ہوا کہ خود پاکستان آرمی اور دیگر ریاستی اداروں مین تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروپوں کے جاسوس، سہولت کار اور ریڈکلائز ہوجانے والے پیدا ہوئے، پولیس میں بھی ان کے لوگ پائے گئے جس سے کافی جانی اور لاجسٹک نقصان بھی ہوا لیکن پاکستانی فوج کی یہ کامیابی تھی کہ اس نے مڈل ایسٹ کے کئی ایک ممالک کی فوج میں پیدا ہونے والی مذھبی اور نسلی تقسیم سے اپنے آپ کو بڑی حد تک محفوظ کرلیا اور فوج کی ہائی کمان کے اندر ریڈیکل جہادی باقیات کا خاتمہ کیا اور پھر اس عمل کو وسعت دے کر دوسرے، تیسرے درجے کی قیادت تک پھیلایا اور اب یہ نیچے تک روبہ عمل ہے-

پاکستان افغانستان سمیت جنوبی ایشیا کے اندر چل رہی جیو پالیٹکس اور فوجی پراکسی تصادم میں ایک بڑی شفٹ سے دوچار ہوا ہے اور یہ شفٹ اس طرح سے آئی کہ اس خطے میں جو امریکی سٹریٹجک مفادات تھے ان سے پاکستان کے سٹریٹجک مفادات اور اس کے اتحادی چین کے مفادات کافی الگ ہوگئے پاکستان نے افغانستان بارے امریکی لائن سے انحراف کیا تو امریکی خواہش کے برعکس اس نے چین کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پاکستان کی فوجی قیادت نے یہ فیصلے تن تنہا نہیں کیے تھے بلکہ پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ نواز، ایم کیو ایم، اقتدار کا حصہ بننے والی بلوچ قوم پرست پارٹیوں کی قیادت اور خود پشتون قیادت بھی ان فیصلوں میں شامل تھی-بالکل ایسے ہی جیسے پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام ہر پشتون علاقوں میں جنگ کرنے کا اقدام تھا بلکہ سوات آپریشن کی کامیابی کا کریڈٹ پی پی پی اور اے این پی نے لیا

یہ بات بھی ہر باخبر دوست کو معلوم ہے کہ پاکستان کی پشتون سیاسی قیادت نے ایک مرحلے پر پاکستان کی فوجی قیادت سے مل کر افغانستان میں کرزئی اور پھر اشرف غنی کی افغان طالبان سے بات چیت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی اور مری مذاکرات تک بات پہنچی تھی کہ ملا منصور کو ڈرون اٹیک میں ہلاک کردیا گیا اور مذاکرات سبوتاژ ہوگئے کیونکہ امریکی اور اس کا تزویراتی اتحادی بھارت اس طرح سے افغان ایشو کا حل نہیں چاہتے تھے اور بعد ازاں امریکیوں نے ناکام ہوکر پاکستان کو طالبان سے براہ راست مذاکرات میں مدد دینے کو کہا تب کہیں جاکر بات چیت شروع ہوئی-

افغان طالبان اور امریکیوں کے درمیان صلح کے بنیادی نکات طے ہوگئے ہیں، طالبان نے پاکستان، سعودی عرب، ایران، ترکی وغیرہ کی ضمانت کے ساتھ یہ کہا ہے کہ وہ اپنے نظریات اور اپنے جہاد کو ایکسپورٹ نہیں کریں گے اور نہ اپنے علاقوں میں عالمی دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دیں گے، جبکہ امریکی افواج افغانستان سے نکل جائیں گی

اب معاملہ تعطل کا شکار صرف اس وجہ سے ہے کہ طالبان افغان حکومت سے مذکرات نہیں چاہتے بلکہ کئی حلقے یہ کہتے ہیں طالبان موجودہ افغان حکومت میں شامل کچھ افراد کو مستقبل کے عبوری سیٹ اپ کا حصہ نہیں بنانا چاہتے اور اس لیے فی الحال وہ غیرلچک دار موقف کے ساتھ کھڑے ہیں….. امریکی اس حوالے سے یہ خیال کرتے ہیں اگر پاکستان دباؤ ڈالے تو طالبان مان سکتے ہیں جبکہ پاکستان شمالی اتحاد کی کچھ شخصیات بارے یہ سمجھتا ہے کہ وہ بھارتی پراکسی ہیں اور پاکستان کے خلاف سرگرم عمل جماعت احرار جیسی تنطیمیں ان کی پراکسی ہیں اور یہ پاکستان میں امن کی سب سے بڑی دشمن ہیں اور وہ بھی ان کو مستقبل کے عبوری سیٹ اپ کا حصہ نہیں بنانا چاہتا-

دوسری جانب پاکستان کی جنوبی ایشیا کی جیو پالیٹکس میں امریکی اتحاد سے مخالف سمت سفر بھی امریکہ کے لیے تکلیف دہ ہے اس لیے اسے بلوچ انسرجنسی، پشتون آپ رائزنگ میں اپنے لیے امکانات دکھائی دیتے ہیں جیسے امکانات ہندوستان کو دکھائی دیتے ہیں اور اسی لیے ان ممالک کے زرایع ابلاغ اور تھنک ٹینک ان دونوں تحریکوں کو کافی کوریج اور توجہ دے رہے ہیں –

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پشتون علاقوں میں جو احتجاجی ابھار ہے وہ جعلی اور مصنوعی ہے یا مسائل سرے سے موجود نہیں ہیں یا پاکستان آرمی کے آپریشنوں نے کوئی مسئلہ جنم نہیں دیا-

عسکری اسٹبلشمنٹ مسائل کا حصہ اور اپنی حد تک زمہ دار بھی ہے-اور اس کی اس تحریک کی طرف اپروچ بھی زمینی حقائق سے ہٹ کر ہے-

لیکن کیا ساری کی ساری وہی ذمہ دار ہے؟

انٹرنیشنل میڈیا پر پی ٹی ایم کی لیڈر شپ آزادی سے اپنا موقف پیش کررہی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی آزادی سے وہ ساری باتیں کہہ رہی ہے-

علی وزیر کا انداز اور رویے بہت پہلے سے مسائل پیدا کرتے ہیں اور ڈاکٹر عالم محسود اور منظور پشتین کی وزیرستان میں پشتون فوجیوں کو بغاوت پر اکسانے والی تقاریر موجود ہیں-

پشتین یہاں تک کہتا ہے کہ اب اگر ایک لاش گرائی گئی تو ہم دس گرائیں گے-

وزیرستان کے اندر طالبان نواز فورسز بارے بھی پی ٹی ایم کی گول مول پالیسی ہے-

سب سے بڑھ کر پی ٹی ایم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے کہ پاکستان کے اندر ایسے جہادی نیٹ ورک موجود ہیں جن کا نشانہ فوج، پولیس، انٹیلی جنس ادارے اور عام عوام ہیں اور وہ اس ملک میں کسی اور کے آلہ کار بنکر کاروائیاں کرتے ہیں-

منظور پشتین سمیت پی ٹی ایم کی قیادت کا نظریہ تو یہ ہے کہ داتا دربار پر حملہ ہو یا سہیون پر یا کہیں اور سب حملہ کرنے والوں کے پیچھے پاکستان آرمی ہے یہ نظریہ سراسر شرارت پر مبنی اور پاکستان کو انارکی کی جانب لیکر جانے والا ہے-

پی ٹی ایم گول مول اور دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہے اس کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو کسی اور کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں اس لیے میں ہمیشہ سے پی ٹی ایم کی مشروط حمایت کرتا آیا ہوں جہاں یہ غلط ہوگی میں اسے غلط کہوں گا-

یہ لسانی شاؤنزم کا شکار ہوکر شدت جذبات سے کام لیتی ہے اور فوج کو پنجابی فوج کہتی ہے جبکہ دوسرے سانس میں پشتون فوجیوں سے بغاوت کرنے کو بھی کہتی ہے حالانکہ فوج میں پنجابیوں کے بعد دوسرا بڑا لسانی گروپ پشتون ہے اور اس میں خود سرائیکی خطے جیسے میانوالی، خوشاب، وادی سون سیکسر سے بلوچ، اعوان، گھگھڑ بڑی تعداد میں شامل ہیں-

تو جب یہ غیر سائنسی تجزیہ کرتی ہے تو پھر اس پر تنقید کرنا ضروری ہوجاتا ہے-

پی ٹی ایم پاکستان میں پشتون علاقوں میں جنگ کی مخالف ہے لیکن اس نے آج تک پڑوسی ملک افغانستان میں امریکی اور افغان کٹھ پتلی حکومت کی جانب سے پشتون نسل کشی پر کوئی ایک بیان جاری نہیں کیا-

افغانستان میں امریکی جنگ کو یہ پشتونوں کی نسل کشی کا سب سے بڑا سبب قرار نہیں دیتی اور تو اور پی ٹی ایم میں وہ سارے فاٹا اور کے پی کے کے مدارس اور ملا شامل ہیں جو خود پشتونوں کو امریکی جنگ کا اسی کی دھائی سے ایندھن بناتے آئے-

یہ اکوڑہ خٹک کے مدرسہ جاکر تعاون مانگنے گئے جو امریکی سی آئی اے اور پاکستانی آئی ایس آئی کی سرپرستی میں پشتون علاقوں میں جہادی پراکسی چلاتے رہے

یہ ایک طرح سے اس خطے میں مذھبی بنیادوں پر چل رہی ساری مارا ماری کا الزام صرف اور صرف پاکستانی فوج پر ڈالنے کا نظریہ ہے اور باقی کے کرداروں کو این آر او دینے کا-

کچھ لوگ بہت سادگی سے یہ کہہ کر الگ ہورہے ہیں کہ باہر کیا ہورہا ہے ان کو معلوم نہیں، اندر جو ہورہا ہے ان کو تو وہ بھی نظر نہیں آرہا

شام میں کیا ہوا تھا؟ جو ہوا وہ پاکستان میں نہ ہو

امریکی سامراج، سعودی عرب اور دیگر اتحادی یہ سارے کے سارے تکفیری وہابی جہادی پراکسیوں اور چند کمرشل لبرل جعلی جمہوریت پسندوں کے ساتھ شام کے ٹکٹرے کردینے کے درپے تھے-

انہوں نے وہاں آگ لگائی، شامی فوج کو تقسیم کرنے کی کوشش کی اور پورے ملک میں نسلی و فرقہ وارانہ بنیادوں پر خانہ جنگی کرادی

اس زمانے میں کئی ایک سوشلسٹ، بائیں بازو کے لوگ لبرل کے ساتھ مل کر اسے بہار شام اور شام میں انقلاب کا نام دے رہے تھے-

لیکن آج سب کے سب منہ چھپاتے پھر رہے ہیں

یہی محسن داوڑ تھا اور یہی ڈاکٹر عالم محسود تھا اور ان کے لبرل پشتون سرپرست تھے جنھوں نے نائن الیون کے بعد امریکی جنگ کا ساتھ دیا اور پاکستان کا اس جنگ کا ساتھ دینے کا خیر مقدم کیا

سارے کے سارے لبرل پشتون امریکی جنگ سے بنیاد پرستی، مذھبی جنونیت کے خاتمے اور افغانستان کو ایک ترقی پسند ملک بنتا دیکھ رہے تھے-

لیکن عملی طور پر ہوا کیا؟ طالبان آج اتنے طاقتور ہیں کہ امریکہ ان کے سامنے گھٹنے ٹیک گیا اور پاکستان میں پی ٹی ایم کا محسن داوڑ اور علی وزیر یہ دونوں کے دونوں افراسیاب خٹک جیسے پشتون لبرل کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے سوات، باجوڑ، اورکزئی سمیت پورے فاٹا میں فوجی آپریشنوں کی حمایت کررہے تھے

اس زمانے میں لبرل یہ کہتے تھے کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن نہ کیا گیا تو طالبان اسلام آباد پر قبضہ کرلیں گے-

پی پی پی، اے این پی اور بلوچ قوم پرست اعلانیہ امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حامی تھے اور انہوں نے مشرف کی طرح حکومت میں آنے کے بعد پشتون علاقوں میں فوج کو اپنے آپریشن بڑھانے کے لیے کہا..

سوات آپریشن کا کریڈٹ پی پی پی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے لیا اور ایسے ہی شمالی وزیرستان میں آپریشن کا کریڈت بھی، پھر نواز لیگ آئی تو اس دور میں جنوبی وزیرستان آپریشن شروع ہوا اور یہ کل جماعتی کانفرنس اور نیشنل ایکشن پلان سامنے آنے کے بعد شروع ہوا

دیکھا جائے تو جنوبی وزیرستان میں بھی فوجی آپریشن، آبادی کا بڑے پیمانے پر انخلا کو لبرل پشتون کی مکمل حمایت حاصل تھی –

سوال یہ جنم لیتا ہے کہ پاکستان کی سیکولر لبرل، قوم پرست سیاسی جماعتیں اور ایسے ہی لبرل انگریزی پریس اور اس سے وابستہ تجزیہ نگار اور لبرل سول سوسائٹی جب خود پاکستان کے پشتون علاقوں میں فوجی آپریشنوں کی منظوری دینے اور ان علاقوں میں جنگ کرنے کی حامی تھی تو پھر وہ اس سارے عمل سے پیدا ہونے والی مشکلات اور مسائل کی ذمہ داری سے خود کو بری کیسے سمجھتے ہیں؟

اور ساری ذمہ داری فوج، ایف سی وغیرہ پر کیوں ڈالتے ہیں؟

اور نعرے صرف فوج کے خلاف کیوں لگتے ہیں؟

باقی زمہ داروں کے خلاف کیوں نہیں لگتے؟

افغانستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں سے انسانی حقوق کی وہ ساری خلاف ورزیاں ہوئی ہیں جو پاکستان میں فوجی آپریشنوں کے دوران رونما ہوئیں اور وہاں بھی حکومت اور سیکورٹی فورسز اس کی برابر زمہ دار ہیں بلکہ امریکی فوج نے تو شہری آبادی کے انخلا کو ممکن بنائے بغیر آپریشن کیے اور لاکھوں جانیں اس جنگ میں ضائع ہوئیں، افغان عوام کا نقصان پاکستانی پشتون علاقوں کے نقصان سے کہیں زیادہ بڑا ہے، ان علاقوں میں بھی کئی بار فوج اور ایجنسیوں کی زیادتی کے خلاف قبائل نے مظاہرے کیے، کئی تنظیمیں آج تک کام کررہی ہیں لیکن امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور ہندوستان کے زرایع ابلاغ افغانستان میں جنگ مخالف رجحان اور مظاہروں کو کتنا کور کرتے ہیں؟ اور وہاں کا نیشنل پریس اسے کتنی کوریج دیتا ہے؟

پشتون لبرل قوم پرست بورژوازی زمہ داری سے کیسے بھاگ سکتی ہے؟

یہ سوال زرا پی ٹی ایم کے علی وزیر اور محسن داوڑ سے، افراسیاب خٹک سے ضرور کرنے چاہیں

پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں ہوں یا موجودہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں ہوں ان سب کی قیادت سے یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ یہ اعلانیہ اور آفیشل طور پر یہ بتائیں کہ پشتون علاقوں میں اور بلوچستان کے علاقے میں فوج ان کی رضامندی کے بغیر آپریشن کرنے گئیں؟

اور دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر تو پشتون علاقوں میں دہشت گردی کا نیٹ ورک ختم کردیا گیا ہے اور جنگ ختم ہوگئی ہے تو پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتیں حکومت سے کیوں نہیں کہتیں کہ پشتون علاقوں سے فوج واپس بلائی جائے اور اگر جنگ ختم نہیں ہوئی تو اس کو برملا تسلیم کرتے ہوئے ان علاقوں میں انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے –

یاد رکھیں کہ میں پاکستان کی فوجی قیادت کے موجودہ مسائل اور بحران میں کردار کی نفی نہیں کرتا اور نہ ان کو زمہ داری سے بالکل فارغ کرتا ہوں لیکن اس مسئلے اور بحران کے تنہا وہ زمہ دار نہیں ہیں بلکہ اس کی زمہ داری سیاسی قیادتوں اور اس ملک کی لبرل سوسائٹی اور دائیں بازو کی جہادی انڈسٹری سب پر عائد ہوتی ہےسب سے پہلے سب کے سب اپنا قصور تسلیم کریں پاکستان کے سیکورٹی ادارے کے نچلے درجے کے سپاہیوں نے جو حکم ملا اس پر عمل کیا، ان کو اس سارے عمل کا زمہ دار ٹھہرانا، چیک پوسٹوں پر ان سے الجھنا اور ان سے گالم گلوچ کرنا اس سے سوائے انتشار اور انارکی کے اور کیا چیز جنم لے گی؟

پی ٹی ایم اگر پشتون علاقوں میں سے پاکستان آرمی کا انخلاء چاہتی ہے تو اس کے پاس آپشن ہے کہ وہ سینٹ کی انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں چل رہی کاروائی میں یہ مطالبہ رکھ دے-

اگر پارلیمنٹ ان کا یہ مطالبہ پورا کرنے میں ناکام ہوجائے تو پھر پی ٹی ایم اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دے دے لیکن اس طرح سے عام فوجیوں سے تو تکار کرنا اور لڑنے سے فساد ہی پھیلے گا اور کچھ نہیں ہوگا-

پی ٹی ایم یہ نعرہ لگانا بھی بند کرے کہ دہشت گردی کے پیچھے فوج ہے کیونکہ یہ نعرہ پاکستان میں امریکہ و بھارت نواز کمرشل لبرل سرمایہ داری کی حامی دانش کا ہے اور وہ منافقت اور دوغلے پن کی سب سے بلند ترین سطح پر ہے

پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی قیادتوں کا اپنا رویہ دوغلا ہے وہ دہشت گردی کے جنگ کا حصہ بن کر غیرملکی امداد اور مراعات میں تو جرنیلوں کی حصہ داری کرتی ہیں لیکن جہاں ڈس کریڈٹ ہونے کی باری آئے وہاں ملبہ صرف فوج پر ڈالا جاتا ہے، جیسے سی پیک کا کریڈٹ لیتے ہیں لیکن ان پروجیکٹس کی حفاظت کے نام پر بلوچ علاقوں میں فوجی آپریشنوں سے پیدا شدہ صورت حال کی زمہ داری میں شراکت داری سے انکار کردیا جاتا ہے-

اقتدار لینے اور ڈیل کرنے میں حرج محسوس نہیں کیا جاتا اور پھر جن پالیسیوں میں غالب کردار فوج کا مان لیا جاتا ہے اس پالیسی کو جب کریڈٹ کا وقت ہو تو اسے اپنے سے منسوب کرنے میں حرج نہیں سمجھا جاتا جیسے سوات آپریشن تھا اس دوران جو ماورائے قتل ہوئے، جبری گمشدگیاں ہوئیں اور دیگر مسائل سامنے آئے ان کی زمہ داری کوئی بھی سویلین حکومت کیوں نہیں لیتی؟ لیکن آپریشن کی کامیابیوں کا زکر اپنے کارناموں میں تواتر سے کیا جاتا ہے، کیوں؟

اگر دہشت گردی کے خلاف پشتون علاقوں میں فوجی آپریشنز کی کامیابی کے کریڈٹ میں سویلین سیاسی قیادتیں شریک ہوتی ہیں تو ڈس کریڈٹ میں بھی شریک ہوں، یہ ان کی ناکامی بھی بنتی ہے کہ وہاں پرماورائے آئین و قانون واقعات ہوئے اور ان کا سدباب کرنے کے لیے کوئی پالیسی نہیں بنائی جاسکی-

سیاسی جماعتوں نے وتیرہ بنالیا ہے وہ اقتدار کی مراعات فوج کے ساتھ شراکت اقتدار ہوکر وصول کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے لیکن. جہاں عوام کے حقوق کی پامالی ہورہی ہو، وسائل کی لوٹ مار ہو اور لوگ جبری گمشدہ ہورہے ہوں تو یہ اسی زمانے میں سپیشل آرڈیننس کے زریعے 11 نئے ڈی ایچ اے قائم کرنے کی منظوری دے رہے ہوتے ہیں اور لوگوں کو کہتے ہیں کہ اپنی لڑائی خود لڑلو ہم تو بے بس ہیں اقتدار میں شراکت و سمجھوتے کرکے مراعات لینے کے عمل سے بغاوت کردینے کا خیال کبھی نہ تو سیاسی جماعتوں کی قیادت کو آیا اور نہ ہی پاکستان کے لبرل اشراف کو یہ مراعات بھی لیتے ہیں اور زمہ داری میں شریک بھی نہیں ہوتے

میں اس لیے پیپلزپارٹی کی قیادت سے کہتا ہوں کہ وہ ملکی اور انٹرنیشنل نیولبرل اشرافیہ کو خوش کرنے اور ان کی رضامندی کے چکر میں پڑنے کی بجائے عوامی مسائل میں اپنی کمی کوتاہی کا بھی اعتراف کرے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے کریڈٹ اور ڈس کریڈٹ دونوں کا اعتراف کرے