Original Articles Urdu Articles

ہندوستان انتخابات 2019ء اور پاکستان کے لیے سبق: لبرل اشراف کو نظر انداز کرو

بہتر سالوں میں بھارت سن سنتالیس کی تقسیم کے جھٹکے سے اب تک نہیں نکل سکا اور زہنوں پہ اس کے اثرات ابتک نقش ہیں

پاکستان بھی اب تک اپنے بنگلہ دیش کے ساتھ اس ناکام اور جبر پہ مبنی سلوک سے خود کو باہر نہیں نکال سکا جو یہ اس وقت کرتا رہا جب دونوں ملک ایک ملک تھے

مسئلہ دونوں ملکوں کے دانشور اشراف ہیں-زرا ایک نظر پاکستان پر ڈالیں

اگر دونوں ممالک میں کچھ کاسمیٹک سی چیزیں ایک جیسی ہیں لیکن پی ٹی آئی کو بی جے پی سے ملاکر دیکھنا نری حماقت ہوگی

ہم بی جے پی کی فطرت بارے جو کہہ سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اس کی نمو اور ترقی بڑی حد تک نامیاتی ہے

بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی دوسری دائیں اور ہندوتوا تنظیمیں پاکستان کی طرح کسی غالب سول-ملٹری نوکر شاہی کی گود میں پرورش اور سرپرستی میں ترقی نہیں پائیں-

شاؤنزم اور تاریخ بارے گمراہ کن و مبالغہ آرائی پر مبنی نکتہ نظر تو ہندوستان میں 1947 سے موجود ہے-فاشزم اور تنگ نظری پہ مبنی نظریہ تاریخ بھی تقسیم کے وقت سے پھل پھول رہا تھا-

ہندوتوا یا ہندؤ قوم پرستی ماقبل نوآبادیاتی دور میں سرہندی، سید شاہ ولی اللہ اور کالونیل دور میں سید احمد بریلوی، شاہ اسماعیل اور پھر دار العلوم کی تین سو سال تاریخ کا فطری آئینہ ہے-

یا یوں کہہ لیجیے کہ 300 سو سالوں میں ہندوستان میں مختلف اقوام کے حملہ آوروں کی فتوحات اور حکومتی ادوار کی جس بنیاد پرستانہ اور مذھبی تنگ نظری پر استوار کی گئی، جس سے غلبے اور تسلط کی مذھبی تعبیر کی گئی، ہندوتوا اسی کا عکس ہے-

دونوں نظریات،آئیڈیالوجیز کی جڑیں گم گشتہ عظمت اور ایک گمراہ کن تخلیق کردہ تصور ماضی میں پیوست ہیں-تو ہمیں پاکستان میں بھی اپنے آپ سے کھلواڑ نہیں کرنا چاہئے-

پاکستان اندر نواز لیگ، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی جیسی جماعتیں کہیں نظر نہ آتیں اگر فوجی آمر اور آئی ایس آئی کے جاسوس ان کی سرپرستی نہ کرتے اور آج بھی ایسا ہی ہوگا-

اور یہی وہ مقام ہے جہاں پر پی پی پی کو یک گونہ احتیاط کی ضرورت ہے

کانگریس اس انتخاب میں اس لیے مار کھا گئی کہ اس کی قیادت اور کاڈر حقیقت سے دور جاپڑے تھے

کانگریس اور بہت ساری بائیں بازو کی جماعتوں بی جے پی کا مقابلہ صرف اور صرف آئیڈیالوجی کے سوال کے ساتھ کرنے کی کوشش کی

جبکہ ان کے مقابلے میں مودی نے جو الیکشن مہم چلائی وہ بہت بھاری بھرکم معاشی ایجنڈے پر تھی جس میں موجود نعروں اور خوابوں کو عام مقبولیت حاصل تھی-

سب سے اہم بات یہ ہے جب بی جے پی کے امیدواروں نے میڈیا سے ویسٹ بنگال میں بات کی تو وہ ہندی میں بولے اور بالکل ایک عام ہندوستانی ناگرک… آدمی کی طرح سے وہ بولتے نظر آئے-

جب کہ کانگریس اور کسی حد تک لیفٹ کے لوگوں کو زیادہ تر انگریزی میں اور جناتی اصطلاحیں استعمال کرتے ہوئے میڈیا پر پایا گیا، جس کا عام ہندوستانی کی بھاشا سے دور کا واسطہ نہیں تھا-

پھر ایک اور بنیادی ناکامی یہ ہوئی کہ لیفٹ، دلت(پسماندہ اور بچھڑی ہوئی جاتیں)جماعتیں اور کانگریس ایک متحدہ انتخابی اتحاد بنانے میں ناکام رہے اور اگر وہ ایسا اتحاد بناتے تو شکست ہوتی بھی تو بہت کم مارجن سے اور لوک سبھا میں مودی سرکار بہت ہی قلیل اکثریت سے قائم ہوتی-

اسی طرح وہ بی جے پی کا جو اکنامک پاپولزم تھا اس کا توڑ کرنے کے لیے برابر کا مقبول عام معاشی ایجنڈا لانے اور اسے لیکر عام ہندوستانی ناگرک کو متحرک کرنے میں ناکام رہے-

مغربی بنگال میں بی جے پی کا نعرہ تھا ‘انیس میں آدھا-اکیس میں صاف’ مطلب لوک سبھا انتخاب انیس میں وہ نصف نشستیں لیں گے اور 2021ء کے بنگال اسمبلی کے چناؤ میں بنگال سے لیفٹ و گانگریس اور دلت پارٹیوں کا مکمل صفایا کریں گے-مغربی بنگال میں بی جے پی نے دیہاتوں پرخاص طور پر فوکس کیا، یہاں اس نے بنگالیوں کی ایک بڑی تعداد کو بنگلہ دیشی قرار دیکر واپس بھیجنے کی مہم چلائی اور بھوک، گریبی اور بدحالی کی تشریح اس نے ایسے کی کہ مغربی بنگال کے لوگوں کو مشرقی بنگال سے ہونے والی بڑے پیمانے کی مہاجرت اور مغربی بنگال مین ان کی آباد کاری کو قرار دے ڈالا اور پہلی بار 20 ہزار کے قریب فل ٹائمر کاڈر مغربی بنگال کے دیہی علاقوں میں بھیجا گیا اور نتیجہ سامنے ہے کہ سولہ نشستیں بی جی پی کی جھولی میں ہیں اور لیفٹ کے پاس 22 جبکہ کانگریس کے پاس ایک نشست ہے-

اب آتے ہیں ہم پاکستان میں پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب…. بلاول بھٹو کے ٹویٹس کا اگر ہم ڈسکورس دیکھیں تو ایک تو وہ بہت زیادہ انگریزی پن سے عبارت ہے- دوسرا عام پاکستانی کے لی جناتی اصطلاحوں سے بھرا ہوا ہے-تیسرا اوسط پاکستانیوں کے ہاں جو تقاضے ہیں یہ اس سے کہیں زیادہ بے گانہ اور اجنبی ہے-

بلاول بھٹو کی ٹوئٹس اور ان کے بیانات کا ایک جائزہ یہ بتاتا ہے کہ ان کا ڈسکورس شعوری یا غیر شعوری طور پہ سمجھوتہ باز اور بددیانتی لبرل اشراف کو خوش کرنے کی طرف زیادہ ہے-

کیا لبرل اشراف کو خوش کرکے عام آدمی کی سوچ، احساسات اور مقبول عام رجحان کو نظر انداز کرکے پی پی پی اگلے الیکشن میں وہاں سے جیت پائے گی جہاں سے یہ مسلسل دو انتخابات سے بری طرح سے ہار رہی ہے؟

لبرل اشراف اور این جی او ہجوم عوام مخالف ہیں- پی پی پی اپنا قیمتی اور گھٹ چکا مینڈیٹ ناکارہ اور بے کار و بددیانت پرت پہ خرچ کررہی ہے جو کبھی بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑی نہیں ہوگی-

نہرو اور اندرا گاندھی دونوں کو اکنامک پاپولزم /عوامی معشیت کی سیاست کے مظہر کو اچھے سے سمجھتے تھے، ایسے ہی بھٹو اور بے نظیر بھی اچھے سے سمجھتے تھے-

بلاول بھٹو زرداری کو اپنے سیاسی ورثے کی طرف واپس لوٹنے کی ضرورت ہے ناکہ اسے بار بار لبرل اشراف کو خوش کرنے کی ضرورت ہے جو ہمیشہ پی پی پی کی پیٹھ میں چھرا گھونپتا رہا ہے

عام پاکستانی پی ٹی آئی کی حکومت کے اندر معاشی گراوٹ سے جنم لینے والی دہشت کا مشاہدہ کررہا ہے

پی پی پی کو عام آدمی کی مشکلات اور اس کے مطالبات پر دھیان دینے کی ضرورت ہے-مقبول معاشی ایجنڈا سامنے لانے کی ضرورت ہے-اور اپنے آپ کو بددیانت، سمجھوتے باز اور کرائے پہ دستیاب امیج بلڈنگ کرنے کا دعوٰی کرنے والے لبرل اشراف کی عام آدمی کی سمجھ سے کوسوں دور بھاشا میں چیزوں کو بیان کرنے سے دور رہنے کی ضرورت ہے

بلاول بھٹو زرداری کو پنجاب، خیبرپختون خوا اور دیگر علاقوں میں عام آدمی کے ساتھ گھل ملنے کی سٹریٹجی بنانا ہوگی کیونکہ انگلش ٹوئٹ اور ہر پندرہ بیس دن بعد کراچی، اسلام آباد میں محفوظ گوشے میں پریس کانفرنس یا قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی نااہلی کا بھاشن یہ کام دینے کا نہیں ہے، آج ہر دوسرا آدمی پی ٹی آئیکو موجودہ معاشی ابتری کا زمہ دار ٹھہرا رہا ہے اور اس کے لیے اپوزیشن کی نشاندہی کی ضرورت بھی نہیں لیکن کیا ہر دوسرا آدمی پیپلزپارٹی کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ اس کے پاس عوامی معاشی ایجنڈا ہے؟ جو اسے مشکل وقت سے نکلنے میں مدد دے گا؟ اس سوال کس فی الحال جواب نفی میں ہے

پاکستان میں پیپلزپارٹی دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی طرح عوامی معاشی ایجنڈے سے دور ہےاسے اپنے آپ کو ثابت کرنا ہے کہ وہ عوامی امنگوں اور خواہشات کی تشفی کرانے والا ایجنڈا رکھتی ہےورنہ پنجاب و کے پی کے میں اس کی دبنگ واپسی ناممکن ہوجائے گی