Original Articles Urdu Articles

کاش میں سب کے لیے ایسے ردعمل کا مظاہرہ کریں – عامر حسینی

فرشتہ کے بہیمانہ کے بعد قتل کے معاملے میں اے آر وائی کی جانب سے نسل پرستانہ شاؤنزم کے خلاف سوشل میڈیا پہ جو ردعمل آرہا ہے اس میں جتنے جوش و خروش سے کئی ایک بڑے پیمانے کی فالوئنگ رکھنے والی آئی ڈیز ھیش ٹیگ آئی ایم افغان کے ساتھ مظلوم خاندان کے ساتھ اظہار یک جہتی دکھارہی ہیں، مجھے اس سے یہ اطمینان ہے کہ کم از کم پشتون برادری کے خلاف نسل پرستانہ شاؤنزم کے خلاف پاکستان میں رائے عامہ ہموار ہورہی ہے اور جو قوتیں یہ شاؤنزم پھیلارہی ہیں ان کو پسپائی کا سامنا ہے-

میں یہاں پر ایک بار پھر پاکستان کے بڑے شہروں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والی ان لبرل سوشل آئی ڈیز کے چلانے والوں سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں کہ پاکستان میں ایک لمبے عرصے سے شیعہ برادری کے خلاف شناخت پہ مبنی تعصب، نفرت، تشدد، نسل کشی کی مہم چل رہی ہے اور اس مہم کو چلانے والوں کی وجہ سے کل 22 اور بعض کے نزدیک 26 ہزار انسانی جانیں ضایع ہوگئی ہیں اور ہزاروں گھرانے اس نفرت، تعصب شاؤنزم کا شکار ہیں اور ایک پوری نسل جو شیعہ شناخت رکھتی ہے خوف، احساس کمتری، نشانہ نفرت و تشدد و دہشت گردی سے گزری ہے

بڑے سے بڑے واقعہ پہ میں نے سوائے چند ایک لبرل اشراف کے بھاری اکثریت کو ھیش ٹیگ آئی ایم شیعہ چلاتے نہیں دیکھا…. ہزارہ برادری کے معاملے میں یہ ضرور دیکھا گیا کہ ان لبرل اشراف آئی ڈیز کی جانب سے ہیش ٹیگ آئی ایم ہزارہ ضرور اکثریت نے چلایا لیکن اس میں بھی ان کی شیعہ شناخت کو چھپایا یا نظر انداز کیا گیا-

محضر زھرا اور ملالہ یوسف زئی دونوں لڑکیاں تھیں، دونوں تکفیری دہشت گردوں کا نشانہ بنی تھیں لیکن ہم نے دیکھا جو ردعمل ملالہ یوسف زئی بارے دیکھنے کو ملا وہ محضر زھرا کے معاملے میں دیکھنے میں نہیں آیا-

نسلی اور مذھبی شاؤنزم دونوں قابل مذمت ہیں اور دونوں قسم کی شناختوں پر انسانوں کو کمتر بنائے جانے کا پروسس قابل رد ہے-

لیکن اگر ایسا لگے کہ پشتون سے نسلی شاؤنزم پہ ردعمل بہت طاقتور اور بلوچ کے کیس میں یہ کمزور ہے تو سوال ضرور اٹھے گا-

اور ایسے ہی اگر یہ دیکھنے کو ملے کہ کرسچن اور احمدیوں کے معاملے میں سوشل میڈیا پہ لبرل آئی ڈیز زیادہ بلکہ بہت زیادہ متحرک ہوں مگر شیعہ کے معاملے میں مذھبی شاؤنزم پہ ردعمل کمزور بلکہ دکھائی نہ دے یا اس شاؤنزم کے جواز یا اس کے لیے غلط مساوات بنائی جارہی ہو تو پھر امتیازی سلوک کا احساس دوچند ہوجاتا ہے-

ایک معروف لبرل ویب سائٹ نے ایک آرٹیکل شایع کیا جس کا عنوان دیکھ مجھے یہ خیال آیا کہ جب شیعہ کے خلاف مذھبی شاؤنزم کا سوال سامنے آتا ہے اور جب جب شیعہ کی پراسیکیوشن کی مثال سامنے آئی اس ویب سائٹ کے چلانے والے یا اس پہ لکھنے والے کئی ایک معروف ناموں نے ویسی سرخی اپنی تحریر کی لگائی جو فرشتہ کیس میں پشتونوں کے ساتھ نسلی شاؤنزم کے واقعے میں لگائی گئی؟

حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ حکومت پنجاب نے پنجاب کے تعلیمی اداروں میں اسلامیات کے نصاب میں شامل اسلام اور تاریخ اسلام بارے شامل مواد کے جائزے اور اصلاحات کی کمیٹی کا سربراہ ایک اعلانیہ فرقہ پرست اور شیعہ کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے اور ان کے لیے آئین میں اسی مقام کی مانگ کرنے جو احمدیوں کو دیا گیا ہے کا زمہ دار ہے جو ایک کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتا ہے-

لیکن نہ تو پنجاب اسمبلی میں ایسے شخص کے بیٹھے ہونے پہ یوں ردعمل آیا نہ ہی ٹرینڈ سیٹ ہوا کہ اس کو نااہل قرار دینے کی مانگ ہو یا اس کی موجودہ تقرری کو منسوخ کرنے کا مطالبہ سامنے آیا… کیوں؟

اب تک ایسی ویب سائٹس پر تنقیدی مضمون تک نہیں آیا، کیوں؟

یہی اور اس جیسی ویب سائٹس خادم رضوی وغیرہ کے خلاف تو مواد سے بھری ہوئی ہیں…. اور احمدی و کرسچن کے خلاف مذھبی شاؤنزم اور نفرت انگیزی کی اعلانیہ مذمت کو ایک واضح ٹرینڈ کے ساتھ لیکر آتی ہیں مگر یہی طرز عمل اور رد عمل کی شدت شیعہ کے باب میں ٹھس ہوجاتی ہے کیوں؟

میری اس پوسٹ کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ میں فرشتہ کیس میں پشتون برادری کے خلاف نسلی شاؤنزم کے خلاف ردعمل سے توجہ ہٹانا چاہتا بلکہ میں چاہتا ہوں کہ احتجاج اور ردعمل کا معیار یکساں رکھا جائے

Selective Rags and protests over ethnic and religious chauvinistic events and happenings and gross violation of basic human rights damage the movement of civil liberties and create doubts.