Original Articles Urdu Articles

مکتوب بنام مفتی تقی عثمانی صاحب – کامران نفیس

جناب مفتی تقی عثمانی

السلام و علیکم

امید کرتا ھوں آپ بخیر و عافیت ھوں گے اور رمضان المبارک کی برکتوں سے فیضیاب ہو رہے ھوں گے۔

حضور بعد از سلام عرض یہ ھے کہ آپکا ایک بیان نظر سے گزرا جس میں آپ فرماتے ہیں کہ

“موجودہ حالات میں ڈالر خریدنا ملک کے ساتھ غداری اور گناہ ھے”

عرض یہ ھے حضور کہ ھوسکتا ھے آپ شرعی حوالوں سے درست فرمارہے ہوں لیکن اس بابت کچھ ارشاد کہ وہ اسلامک بینکنگ جس کی ترویج کی خاطر آپ نے پوری عمر صرف کردی اور پاکستان سمیت خلیجی ریاستوں کے تمام بڑے بینکوں میں آپ اسلامک بینکنگ کے سرخیل ٹھہرے۔۔۔!!!! اس اسلامک بینکنگ کو آخر کیوں گناہ، حرام اور امت کیساتھ غداری قرار نہیں دیتے؟؟ جبکہ کموڈیٹی ایکسچینج، انوسٹمنٹ پراڈکٹس پر مشتمل تمام اسلامی بینکنگ یہودی مالیاتی کمپنی Dawnay Day اور LME لندن میٹیل ایکسچینج کے زریعے ھوتی ھے۔ جن کے ساتھ آپ باقاعدہ اپنے دستخطوں کیساتھ معاہدے کرتے ہیں اور ساری خریداری اور لین دین ڈالر اور پونڈز میں کرتے ہیں

جناب مفتی صاحب.کیا پاکستان کے موجودہ حالات آپ سے اس بات کا تقاضہ نہیں کرتے کہ دنیا بھر کے اسلامک بینکس کو آپ ملک کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتے اور اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ھوئے ملک کی معاشی صورتحال کے لئے کوئی مثبت حل تجویز کرتے بجائے یہ کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں آئی ایم کے چنگل میں پھنسنے کے بعد آپ عوام پر ڈالر نہ خریدنے کا فتویٰ صادر کرتے ھیں! جبکہ خود آج بھی دنیا کے مختلف بینکوں کے لئے اسلامی بینکنگ کے ڈھکوسلے کہ نام پر ڈالر، پونڈ، درھم و دینار میں بھاری تنخواہیں وصول کرتے ھیں

کتنے دکھ اور افسوس کی بات ھے کہ نہ صرف آپ بلکہ آپ کے صاحبزادے بھی ملک کے ایک بڑے بینک میں اسلامی بینکنگ کے شعبے میں اہم عہدے پر فائز ھیں جس کی ساری بنیاد اسی ڈالر پر رکھی ھے۔۔ اصولا تو اس فتوے سے پہلے آپ کو اپنی ملازمتوں سے مستعفی ھونا چاہئیے تھا۔ ڈالر کی خریداری پر عام فرد پر فتویٰ لاگو کرنے سے پہلے کیا اچھا ھوتا کہ آپ احباب خود ایک سادہ سی مثال پر عمل کرتے ھوئے دارالعلوم کورنگی اور جامعۃ البنوریہ العالمیہ سائٹ کے ریستورانوں سے “یہودیوں کی کمپنیوں” پیپسی کولا اور کوکا کولا کے استعمال پر پابندی عائد کرتے. سادہ پانی پینے کا کوئی ایک ایسا فتویٰ دیتے جس سے پہلے آپ اور آپ کے غیر ملکی مہمانان “نیسلے اور ایکوا فینا” کا پانی پینا اپنے اوپر حرام کرتے.جنکے عقب میں ساری ادائی درحقیقت ڈالرز میں ھی ھوتی ھے

حضور ڈالر نہ خریدنے کا فتویٰ اس وقت صفر ھوجاتا ھے جب ھم یہ دیکھتے ھیں کہ آپ نے اسلامی ممالک کے تیل، سونا، چاندی جیسی اجناس اور قدرتی وسائل کو یہودیوں کے ھاتھوں گروی رکھ کر اسلامی بینکنگ کی نام پر ان تمام قدرتی وسائل کو ڈاونے ڈے اور لندن میٹل ایکسچینج جیسی کمپنیوں کے رحم وکرم پر لا چھوڑا ھو اور جسکا بنیادی مقصد فقط زیادہ سے زیادہ نفع کا حصول ھو۔ جناب مفتی صاحب دنیا جانتی ھے کہ آپ کی لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے ماہانہ کی آمدنی کے پیچھے اسلامی بینکنگ کی جو بنیاد ھے وہ مسلمانوں کو دین کے پردے میں بے وقوف بنا کر استعماریت کو مضبوط بنانا ھے۔ سرمایہ دارانہ مشین کا آپ وہ چھوٹا سا پرزہ ھیں جو ھمہ وقت اس فکر میں رواں رہتا ھے کہ بینکوں کو زیادہ سے زیادہ منافع کما کر دیا جائے! اور جسکے حصول کے لئے گزشتہ تیس برسوں سے آپ اپنی کوششوں میں مصروف ھیں۔

حضور۔۔۔۔آپکی دینی حیثیت کتنی ھی مسلمہ ھو لیکن وہ فتویٰ کس کام کا جو ایک عام مسلمان پر لاگو ھو اور مفتیان کرام پر نہیں!!! کیا آج ملک وملت کی جو حالت ھے اس میں سب سے زیادہ قصور ان فتویٰ فروش مفتیان کا نہیں جو اپنے ظاہر میں اپنے باطن سے مختلف ھوں!!!! کیا آپ خود احتسابی کے اس عمل سے گزرنے کو تیار ھیں جہاں دین تقوی کے بہترین معیار متعین کرتا ھے اور ہر مسلمان کو اسکا پابند بھی کرتا ھے!!!! یا صرف ایک عام مسلمان پر ھی آپ کے فتاوی پر عمل کرنا فرض و واجب ھے

بصد معذرت حضور مجھے اس موقع پر اقبال کا ایک شعر یاد آرہا ھے جو آپکی صلہ رحمی اور لطف و عنایات کو پیش نظر رکھ کر لکھنے کی جسارت کر رہا ھوں، امید کرتا ھوں آپ اپنی عنایات خاص کو بروئے کار لاتے ھوئے گستاخی معاف فرمائیں گے

تیری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال
تیری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام

طالب امید کرتا ھے کہ اس مکتوب میں جن سوالات کو اٹھایا گیا آپ جناب فدوی کو ان کے تسلی بخش جواب عطا فرما کر اسکی کج فہمی دور فرمائیں گے۔

طالب دعا

کامران نفیس