Original Articles Urdu Articles

حکومت اور پالیسی ساز ادارے کس کے مفادات کے محافظ ہیں – عامر حسینی

شبر زیدی چیئرمین ایف بی آر نے پہلے کہا کہ ان کی اجازت کے بغیر کسی کا کمپنی کا یا سرمایہ دار کا بینک اکاؤنٹ منجمد نہیں ہوگا اور آج کہا کہ وہ ایف آئی اے اور نیب سے کہتے ہیں کہ تاجروں، صعنت کاروں کے خلاف کاروائی مت کریں

مشیر خزانہ کل کراچی پہنچے اور سٹاک ایکسچینج سے وابستہ بروکروں کی منت ترلے لیتے رہے اور پھر ان سے 20 ارب روپے کی سپورٹ کا وعدہ کرلیا-

سٹیٹ بینک کے صدر رضا باقر نے بروکروں کو یقین دہانی کرائی کہ سٹیٹ بینک کی مانٹیری پالیسی جو دس روز تاخیر سے آئے گی میں شرح سود کا تعین کرتے ہوئے ان کے مفادات کو مدنظر رکھاجائے گا

اس سے پہلے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت نے 1600 سی کاروں پہ دس فیصد عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کردی، یہی رعایت ملٹری کو سپورٹس گاڑیوں کی برآمد کی مد میں فراہم کی گئی-

دوسری جانب عوام کے لیے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے پاس رمضان پیکج کی مد میں صرف دو ارب روپے کی سبسڈی تھی اور حال یہ ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز سے چینی، آٹا، گھی، آئل غائب ہوگیا ہے، یعنی دو ارب روپے کی سبسڈی بھی غریب عوام تک نہیں پہنچ پائی

بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل پہ پہلے سے حاصل کچھ ٹیکسز کی رعایت واپس لے لی گئی، روپے کی قدر میں ایک ہفتے میں مزید پانچ فیصد کمی ہوئی اور اس کا اثر یہ ہے کہ چینی 55 روپے سے 70 روپے فی کلو ہوگئی ہے، دودھ کی قمیت چھوٹے شہروں میں 55 سے بڑھ کر 65 روپے فی کلو…. آئل اس وقت 190 روپے فی کلو جبکہ یہ آٹھ مہینے پہلے 150 روپے فی کلو گرام تھا، دالوں میں بھی فی کلو پچاس روپے کا اضافہ ہوا ہے، ایسے کپڑے دھونے، برتن دھونے کے صابن، صرف، تیزاب کی قیمتوں میں بھی ایک دم سے بیس سے تیس روپے کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، سبزی کی قیمتوں میں اضافہ الگ سے ہے

پنجاب میں اساتذہ کی ریٹائرمنٹ کی حد 55 سال رکھی جارہی ہے تاکہ 50 ہزار اساتذہ فارغ کردیے جائیں، ایم آئی ٹی ایکٹ پنجاب میں بھی نافذ کیا جائے تاکہ ڈاکٹرز، نرسوں اور دیگر ملازمین گریجویٹ، پنشن، اور دیگر مراعات نہ دی جاسکیں اور عام آدمی کے لیے مفت/سستے علاج کی سہولت ختم ہوجائے-

بچھے کچھے سرکاری سیکٹر میں شامل اداروں کی نجکاری مطلب پھر لاکھوں ملازمین کی بے روزگاری اسٹیٹ لائف کارپوریشن، پاکستان اسٹیل ملز، سرکاری پاور پلانٹس وغیرہ وغیرہ

یہ ہے حکومت کا پیسے بچانے کا فارمولا معشیت کا خسارہ کم کرنے کا فارمولا یہ کڑوی گولی نگلنے کے لیے انتخاب ہے مزدوروں، کسانوں اور سفید پوش طبقے کا جو سب ملکر اس ملک میں معشیت کی گاڑی چلاتے ہیں اور جو اس ریاست کے اندر سرمایہ کی پیدائش کرنے والے ہیں اور ان ہی کو سب سے زیادہ رگیدا جارہا ہے-

اگر دیکھا جائے تو حکومت نے معشیت کا خسارہ کم کرنے اور آمدنی بڑھانے کا سستا سا فارمولا بنایا اور وہ یہ ہے کہ بوجھ کا سب سے بڑا حصہ اس ملک کے مزدوروں، کسانوں، مڈل کلاس خاص طور پہ نچلے متوسط طبقے پر ڈالو

جبکہ سخت گیر مالیاتی پالیسی کا جو منفی اثر اس ملک کے لارجر سکیل مینوفیکچرر، سٹاک بروکرز، بڑے امپورٹرز و ایکسپورٹرز پہ پڑے اس کو کم کرنے کے لیے ان کو ٹیکسز میں چھوٹ دو، 20، 20 ارب روپے کا سپورٹ فنڈ حاضر ہے-

اگر دیکھا جائے تو اس ملک میں حکومت اور اس کے پالیسی ساز ادارے کسی کی بلیک میلنگ اور پریشر کو محسوس کرتے ہیں تو وہ اس ملک کے بڑے نجی مالیاتی سرمائے کے مالکان، بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کرنے والے، سٹاک بروکرز، بینکرز، رئیل اسٹیٹ مافیا کے اراکین، ملک بھر کی چیمبرز آف کامرس اور بڑے ٹریڈرز کی ایسوسی ایشن ہیں

اس ملک کے مزدوروں، کسانوں، دیہی و شہری غریبوں اور سفید پوش طبقات کی نمائندگی کہیں موجود نہیں ہے نا ہی ان کے غم و غصے اور احتجاج کی ٹھوس شکل سامنے ہے

اپوزیشن کی سیاست کو دیکھیں تو اس کی سب سے بڑی ڈیمانڈ نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر کی صعنت کاروں، سٹے باز بروکرز، چیمبرز آف کامرس اور بڑے اثاثے رکھنے والوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا تدارک ہے اور خود حکومت بھی اب یہی تو کررہی ہے.وہ بھی تو اشراف کی بے چینی دور کرنے کی کوشش کررہی ہے

کیا اس ملک کی مین سٹریم سیاست میں اس وقت مزدوروں، کسانوں سمیت ورکنگ کلاس کے مفادات کی پاسداری کرنے والی سیاست کسی بھی جماعت کے ترجیحی ایجنڈے میں شامل ہے؟

کیا اس ملک میں اس وقت کوئی مین سٹریم سیاست میں کھڑی اپوزیشن پارٹی کلاسیکل سوشل ڈیموکریسی کی حد تک بھی ورکنگ کلاس کے مفادات کے تحفظ کے لیے درکار احتجاج کرنے کو تیار ہے؟

فی الحال تو اس کا جواب نفی میں ہے