Original Articles Urdu Articles

مدرز ڈے – عامر حسینی

میں نے اپنے اردگرد جتنی بھی عورتیں دیکھیں جن میں گرینڈ گرینڈ مدرز، گرینڈ مدرز، بڑی امی، امی، چھوٹی امی، پھوپھو، خالائیں، بہنیں(بشمول کزنز) اور پھر میرے سامنے بچپن، لڑکپن سے نوجوانی اور کچھ اب جوانی کی آخری سرحدوں کو چھورہی ہیں سب کی سب بطور مائیں (ماں بننے سے پہلے بھی) انتھک محنت کرنے والی، حوصلہ دینے والی، تربیت کرنے والی، بہت بڑے صبر و ہمت کی مثال اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی ساتھ کھڑا ہونے والی تھیں اور ہیں.

میری والدہ نے کئی سطحوں پہ زندگی گزاری. انہوں نے بطور بیٹی اپنے والدین کی ان کی آخری سانس تک خدمت اور مدد کی اور یہی کردار اپنے ساس اور سسر کی آخری سانسوں تک ادا کیا، اپنے بہن اور بھائیوں کی وہ ہمیشہ سے امداد اور تعاون کرتی رہیں ہیں اور ان کی اولاد کے بھی وہ کام آئی ہیں، انہوں نےصرف ہم چھے بہن بھائیوں کو ہی پال پوس کر بڑا نہیں کیا، بلکہ ان کی ربوبیت سے ان کے سب ہی رشتے داروں، حلقہ احباب نے فیض پایا ہے، وہ اپنے پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں کی بھی پرورش کررہی ہیں، وہ گھنے شجر کی مانند سب پہ سایہ کیے ہوئے ہیں

مجھے بچپن میں یاد ہے کہ رات کو میں امی جان سے سب سے پہلے کہانی سنتا جو ہمیشہ پری، دیو، جن وغیرہ کے قصوں پہ مشتمل ہوا کرتی تھیں، دادا کے پاس وہاں سے آٹھ کر جاتا جو مجھے کبھی کسی اڑیل بیل کی کہانی سناتے تو کبھی بارش کے انتظار میں آسمان کو تک رہے کسان کی کہانی سناتے، ان کے ہاں کہانیوں کے کردار عام لوگ جو جیتے جاگتے اور گوشت پوست کے انسان ہوا کرتے تھے، رات میں میرا آخری ٹھکانہ دادی ہوا کرتی تھیں، دادی نے مجھے جتنے بھی قصے کہانیاں میرے ابتدائی بچپن میں سنائیں وہ بعد میں پتا چلا کہ کسی نہ کسی طرز میں اہل بیت کے گھرانے کے افراد کے کرداروں سے جڑی ہوئی تھیں

میری خالائیں اور میرے والد کی کزنز(ہماری حقیقی پھوپھی اور حقیقی چچی یا تائی نہیں تھیں) یعنی ہماری پھوپھیاں بھی ہمیں بہت پیار کرتی تھیں اور آج جو حیات ہیں بھی وہ سب ہم سے آج ایسے ہی سلوک کرتی ہیں جیسے وہ بچپن میں کیا کرتی تھیں اور ہمیں کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ وہ ہمیں اپنی حقیقی اولاد سے کمتر خیال کرتی ہیں

بلکہ میں نے تو یہ بھی دیکھا کہ گھروں میں باہمی کسی تنازعے کے سبب سردمہری آئی تو اس کی سرد لہر ہم تک نہ پہنچنے دی گئی اور نہ کبھی ہمیں یہ کہا گیاکہ فلاں کے ہاں جانا ہے اور فلاں کے ہاں نہیں یہ بہت آئیڈیل صورت حال رہی.

میں ایک تو اپنی تعلیم کے سلسلے میں دوسرا اپنے دادا دادی کی قربت میں زیادہ رہنے کے سبب اور تیسرا تنہائی پسند ہونے کے سبب اپنے اردگرد کی رشتہ داریوں میں زیادہ گھل مل نہیں پایا یہاں تک کہ بہت جلد میرا مکالمہ اپنے گھر والوں سے بھی نہ ہونے کے برابر رہا جو بعد میں کہیں یونیورسٹی کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد کہیں آج سے 22 سال قبل دوبارہ استوار ہوا لیکن اس دوران میں نے اپنے اردگرد میں ماؤں کی اکثریت کو ممتا کی مثالی صورت میں ہی دیکھا.ہمارے سماج میں اور ہماری ذاتی زندگیوں میں ممتا اگر حقیقی ماں کے زریعے کسی بھی سبب نہیں آئی تو یہ دوسری عورتوں کے زریعے ہم تک ضرور پہنچی ہے اور اس کے بغیر ہمارے اندر انسانیت جسقدر بھی ہو باقی رہنا ممکن نہیں تھی. میں نے تو ذاتی تجربے اور اردگرد کے مشاہدے سے یہ بھی دیکھا کہ خود جو عورت ہماری شریک حیات بن کر آتی ہے اس کے اندر کی ممتا ہمیں فیض یاب کررہی ہوتی ہے اور ایک طرح سے ممتا ایک نہ ختم ہونے والا فیض ہے جو ہمیں کئی عورتوں سے ملتا رہتا ہے

یہ فیض میں نے اپنی خواتین اساتذہ اور یہاں تک کہ کولیگ ساتھی خواتین سے بھی پایا…. میری دادی، میری والدہ، میری اھلیہ دیگر رشتہ دار خواتین، کولیگ اور میری گرو سیدہ ھما علی جعفری. یہ سب کی سب مدرز ڈے پہ خراج عقیدت کی مستحق ہیں اور ان سب کو میرا سلام ہے.