Original Articles Urdu Articles

عمران خان کی حکومت اور آئی ایم ایف فنڈ پروگرام

نوٹ: حکومتی زرایع سے یہ پتا چلا کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جو تین سالہ مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کا معاہدہ طے پارہا ہے اس میں دونوں فریق اس بات پہ متفق ہوگئے ہیں کہ دو سالوں میں حکومت قریب قریب 750ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کردے گی جبکہ مالیاتی سال دوہزار انیس – بیس کے بجٹ میں 350 ارب روپے کے ٹیکس استثنا ختم کردیا جایے گا جبکہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے پہ بھی اتفاق کیا گیا

یہ بھی طے کیا گیا کہ پاور انیڈ انرجی و اریگیشن یعنی واپڈا کو حکومتی کنٹرول سے آزاد کردیا جائے گا تاکہ بجلی و گیس کی قیمتوں کے تعین میں حکومتی. مداخلت ختم ہوجائے

یعنی ایسی قانون سازی ہو جس سے عوامی نمائندوں سے بجلی و گیس کی قیمتوں کے تعین میں مداخلت بالکل ہی نہ رہے.

خرم حسین نے روزنامہ ڈان میں آئی ایم ایف کے مصر اور پاکستان میں آئی ایم ایف پروگرام کے اطلاق سے پیدا ہوئی اور ممکنہ پیدا ہونے والی صورت حال کا دلچسپ جائزہ پیش کیا ہے…. اس سارے جائزے کا عوامی مفاد کے لحاظ سے اہم نکتہ یہ ہے کہ مصر میں بھی آئی ایم ایف نے اشیائے ضرورت پہ حکومتی سبسڈی ختم کرنے پہ زور دیا اور یہاں بھی ایسا ہی ہوگا.

کافی دیر کے بعد آخرکار ایک ٹیم،ایک ڈائریکشن اور ایک آئیڈیا سامنے آرہا ہے جو یہ حکومت اب کرنے جارہی ہے۔

آٹھ ماہ کے ہچکولے کھاکر چلنے کے بعد یہ ہوا ہے،لیکن آخرکار ایک ٹیم اپنے مقام پہ لائی گئی ہے۔اس ٹیم کے لوگ کم از کم جن عہدوں پہ لائے گئے ہیں ان عہدوں کے لیے سنجیدہ امیدوار تصور ہورہے ہیں۔

عمران خان کے لیے صرف مشکل اس سے یہ ہوگی کہ اصل میں معیشت کی جو شکل اب ابھر رہی ہے وہ ان سے پہلے آنے والوں کے ادوار سے مختلف نہیں ہوگی_ معیشت کی سمت اور راہ اسی جانب ہوگی جس پہ ان سے پہلی کی تین حکومتیں گامزن رہ چکی ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اہم ترین راستوں پہ ڈرائیونگ کرنے والے بھی وہی ہیں جو گزشتہ حکومتوں میں تھے۔

ایک مرتبہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت میکرواکنامک ایڈجسمنٹ پروگرام شروع ہوجائے گا تو یہ اس حکومت کے کام کی مکمل صورت گری کرے گا اور اس کی رہنمائی بھی۔

ایڈجسٹمنٹ بس چند ہی فیتہ کاٹنے کی تقریبات ، لا ابالی پن کے ساتھ کیے گئے چند ہی وعدے کرنے اور فوٹو سیشن کے انتہائی کم مواقع دے گا لیکن یہ سب خالی ہی ثابت ہوں گے کیونکہ بڑے پیمانے پہ سکڑاءو معیشت میں دیکھنے کو ملے گا جس سے قوت خرید نچوڑ لی جائے گی اور نوکریوں میں بڑے پیمانے پہ کمی ہوگی۔

سیاست دان جو شرح مہنگائی میں اضافے اور بے روزگاری کے بڑھنے کے دنوں میں اپنے حلقوں میں ہاتھ لہراتے اور مسکراتے ہیں اکثر تمسخر اور تضحیک کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کو اپنے طرز سیاست اور بیانیہ کو پیش آمدہ صورت حال کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

سٹیٹ بنک میں رضا باقر کی آمد کے ساتھ،مصر کے بارے میں اور اس کے آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ تجربے کے متعلق سرگوشیاں گردش میں ہیں۔

وہ مصر میں آئی ایم ایف کا مستقل نمائندہ ان سالوں میں رہا جس دوران مصر پہ ایک انتہائی سخت پروگرام مسلط کیا جو 2016ء سے ابتک چل رہا ہے۔

یہ 12 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت پہ مبنی پروگرام تھا جوکہ اب ختم ہونے کے قریب ہے جبکہ اس پروگرام کے آخری آخری نکات کو نافذ کیا جارہا ہے۔

آئی ایم ایف کے سارے پروگرام فاصلے سے دیکھنے پہ ایک جیسے لگتے ہیں،لیکن ان کو قریب سے دیکھنے پہ ان کے درمیان فرق نظر آجاتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر ملک کی کچھ اپنی خاصیت ہوتی ہے۔

مصر اور پاکستان کے کیس میں بھی یہی بات ہے۔

مثال کے طور پر 2011ء کے واقعات اور حسنی مبارک کے اقتدار سے باہر کردیے جانے کے بعد سے معیشت تیزی سے سست روی کا شکار ہوئی اور غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی آگئی۔

سال 2011_2016 کے دوران شرح نمو اوسطا 2.5 سالانہ ،بیروزگاری 13 فیصد،افراط زر 14 فیصد ، مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 14 فیصد 2013ء میں اور 2014ء میں حکومتی قرضے کل جی ڈی پی کا 90 فیصد ہوگئے تھے۔

پاکستان کی معیشت کے اشاریے مصر کی معیشت کے اشاریوں سے آج کچھ بہتر ہیں۔ کل حکومتی قرضے جی ڈی پی کا 86 فیصد، افراط زر 9 فیصد سے کم،گروتھ ریٹ 3فیصد کے قریب ہے۔مالیاتی خسارہ بدترین صورت حال میں بھی 8 فیصد ہے۔

مصر نے جو بیرونی قرضوں کی اقساط دینی ہیں وہ اب بھی پاکستان سے کم ہیں۔اس اعتبار سے مستقبل پاکستان کے لیے زیادہ نازک ہے ۔ لیکن پاکستان کے لیے اور معاملات میں یہ آسان نظر آتا ہے۔
مصر کے لیے سب سے مشکل بات یہ تھی کہ حکومتی اخراجات میں سبسڈیز کا حصہ بہت زیادہ تھا جسے کم کرنا تھا۔

وہ ایندھن سے لیکر روٹی اور تمباکو تک سب پہ سبسڈی دے رہے تھے۔اور یہ کل حکومتی اخراجات کا ایک چوتھائی بنتا تھا۔ جبکہ ہمارے یہاں سبسڈیز مصر کے مقابلے میں چار فیصد کم ہیں۔

خوراک اور انرجی مصر ساری کی ساری امپورٹ کرتا ہے، اس لیے ان سبسڈیز کو واپس لینا آبادی پہ بدترین بوجھ ڈالے بنا ممکن نہیں تھا۔

پروگرام کے تحت ان کو یہ کرنا پڑا۔جس کے سبب مصری کرنسی پاءونڈ کی قدر صرف ایک سال یعنی 2016ء میں 48 فیصد گرگئی۔ فیول کی مد میں انھوں نے سبسڈی بالکل ختم کردی ہے اور پوری پوری قیمت بشمول ٹیکسز کے وہ وصول کررہے ہیں۔

اگرچہ ان کے اخراجات میں سے سبسڈیز کو جتنے پیمانے پہ ختم ہونا چاہئیے تھا وہ نہیں ہوا ہے۔

جنرل السیسی کی حکومت اور آئی ایم ایف پروگرام نے مصر کی معیشت کو انتہائی سخت حالت میں رکھا۔ ان کو آئی ایم ایف کے تین سالہ پروگرام میں مالیاتی خسارے کو کل جی ڈی پی کے 5.5 فیصد تک لانا تھا جبکہ پاکستان کو یہ 4.5 فیصد تک لانا ہوگا۔

مصر اور آئی ایم ایف کے درمیان اعتماد کی فضا پاکستان اور فنڈ کے درمیان سے کہیں بہتر ہے۔ مصر کو سال میں دو مرتبہ معیشت کا ریویو پیش کرنا ہوتا تھا لیکن پاکستان کو ہر چار ماہ بعد بعد پیش کرنا ہوگا۔

رضا باقر یہ سب کچھ اچھے سے جانتا ہے کیونکہ وہ مصر کے میکرواکنامک ایڈجسٹمنٹ کے تجربے کے دوران اگلی قطار کی نشست پہ براجمان رہا ہے۔

مصری حکومت کا خزانہ زیادہ اشیائے صرف کی برآمدات میں خرچ ہوجاتا ہے ۔

جبکہ پاکستان کے اخراجات زیادہ تر حکومتی بلوں کی ادائیگی اور ترقیاتی اخراجات پہ خرچ ہوتا ہے۔

مصر میں اس پروگرام کے آخر میں مصری حکام کو مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کا دو فیصد دکھانا ہے جبکہ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے اب بھی 8 فیصد پہ کھڑا ہے۔ اور یہ سراسر ناممکن ٹاسک نظر آتا ہے۔ اور ان کو یہ سرپلس کئی سالوں تک برقرار رکھنا ہوگا اگر وہ مجموعی قرضوں کی شرح نیچے لانا چاہتے ہیں تو۔

اب یہی دوا یہاں بھی دینے کیایک ایسا پروگرام جس کا مقصد حکومتی خزانے کو ابتدائی سرپلس میں لانا، مجموعی مالیاتی خسارے میں کمی، کرنسی کی قدر میں لچک لانا ہے تاکہ معیشت بارے کسی حد تک استحکام کی کیفیت پیدا ہو۔

یہ کرنے کے راستے پہ عمران خان کی حکومت آخر میں اپنے سے پہلی حکومتوں سے ذرا مختلف نہیں لگے گی۔