Original Articles Urdu Articles

سید خرم ذکی – امن کی طاقتور آواز کا قتل – عامر حسینی

کل لیٹ اس بلڈ پاکستان کے ایڈیٹر اور انسانی حقوق کی طاقتور آواز سید خرم ذکی کے ناحق قتل کو پورے تین سال مکمل ہوجائیں گے۔ اور پھر وہی احتجاجی آواز ہمیں اٹھانا پڑے گی کہ تین سال گزر گئے ہیں تاحال ان کے قاتلوں کو نہ تو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی ان پہ کوئی مقدمہ چلا ہے۔

سید خرم ذکی کا بیٹا شیعہ مسنگ پرسنز کی رہائی کے لیے کراچی میں چلنے والے دھرنے میں آب دیدہ آنکھوں اور روہانسے لہجے میں حکومت وقت سےپوچھتا ہے کہ اس کے والد کے قتل میں نامزد کردہ ملزمان کو آج تک شامل تفتیشش تک نہیں کیا گیا،کیوں؟ اگر تفتیشی افسران یہ سمجھتے ہیں کہ نامزد کیے گئے ملزمان مبینہ قاتل نہیں ہیں تو پھر سید خرم ذکی کے مبینہ قاتل کون ہیں؟ آج تک اس پہ کوئی روشنی کیوں ڈالی نہیں گئی؟

سید خرم ذکی کا قصور کیا تھا؟ یہی کہ وہ اپنی شیعہ مسلمان کمیونٹی کی نسل کشی، اپنی مذہبی برادری کی مذہبی آزادیوں کے خلاف چلنے والی فرقہ پرست مہم کے خلاف ہی نہیں بلکہ اس ملک میں بسنے والی تمام مذہبی برادریوں اور گروہوں کے خلاف تکفیری فاشسٹوں کے اقدامات پہ آواز اٹھا رہا تھا؟

کیا سید خرم ذکی کا قصور یہ تھا کہ اس نے اس ملک میں شیعہ-سنّی مسلمانوں میں خانہ جنگی کے خواب دیکھنے والے تکفیری ملّاؤں اور ان کے پشتیبانوں کو للکارا تھا؟

کیا اس کا یہ قصور تھا کہ اس نے 26 ہزار شیعہ مسلمانوں کا قاتل اہلسنت(دیوبندی، اہلحدیث ، بریلوی ) کو ٹھہرانے سے انکار کرتے ہوئے اصل تکفیری فسطائی ٹولے کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا جو کاغذوں میں کالعدم تھا لیکن عملی طور پہ اسے مذہبی منافرت پھیلانے کی پوری پوری آزادی تھی؟

کیا سید خرم ذکی کا یہ قصور تھا کہ اس نے تکفیری فسطائی ٹولے کے چہروں پہ چڑھے سنّیت کے نقاب کو نوچ کر پھینکا اور لوگوں کو دکھایا کہ اس ٹولے کا تعلق کسی مسلک کے جمہور اور اکثریت سے نہیں ہے بلکہ یہ تو بیرونی فنڈنگ، اندر کئی ایک کالی بھیڑوں کی سرپرستی کے سبب مسلط ہونے والا ٹولہ ہے جس کا نشانہ صرف شیعہ نہیں بلکہ سنّی بریلوی ڈاکٹر سرفراز نعیمی، سنّی دیوبندی مولانا حسن جان جیسے بھی ہیں اور یہ مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ کرسچن، ہندؤ، احمدی ، سکھ سب کی جانوں کا دشمن ہے کیونکہ وہ اس کی تکفیریت کے آگے سر نہیں جھکاتے؟

کیا سید خرم ذکی کا یہ قصور تھا کہ اس نے شیعہ مسلمان کمیونٹی پہ سخت ترین جبر اور ان کو مذہبی و سماجی طور پہ کمتر بنائے جانے کی سخت ترین مہم اور ریاست پاکستان کے متعلقہ اداروں کی جانب سے اسے روکنے میں پائی جانے والی غفلت کے باوجود اپنی مظلومیت کو کسی علاقائی یا عالمی سامراجی قوت کے ہاتھوں فروخت نہیں کیا اور نہ اپنی برادری کو اس نے ایسا کرنے کی تلقین کی؟

میں سنّی پس منظر سے تعلق رکھنے والا اشتراکی خیالات کا حامل آدمی ہوں۔ میں نے کل چار ملاقاتوں میں اس شخص کو بہتریں خوبیوں کا مالک پایا۔ وہ اپنے خیالات پہ سختی سے کاربند رہنے والا دوسروں کی آزادی رائے کے حق کو تسلیم کرنے والا شخص تھا۔

سفید پوشی میں تنگی و ترشی میں زندگی بسر کرنے والا اور جن دنوں میں اسے ملے تو وہ اس کے بدترین بے روزگاری کے دن تھے، ان دنوں فری لانسر لکھاری کے طور پہ کچھ پیسے کمانے اور اپنی کمپیوٹر سائنس میں ڈگری کے زور پہ کچھ کوچنگ کرکے وہ گھر گھرہستی چلارہا تھا اور اس تنگی کے اندر وہ جتنے بڑے پیمانے کا ایکٹوازم کررہا تھا اس نے مجھے اس کی اور عزت کرنے پہ مجبور کردیا۔

ہر بندہ بشر بشری کمزوریوں سے خالی نہیں ہوا کرتا اور زندگی میں کمزور لمحے آہی جاتے ہیں لیکن وہ کم از کم ایک معاملے میں بلند ترین مقام پہ تھا کہ اس نے کبھی بھول کر بھی اپنے حلقہ اثر اور اپنے سے محبت کرنے والوں کی اتنی بڑی تعداد کو یا سادہ لفظوں میں کہہ لیں کہ اپنے نیٹ ورک کو اس نے کسی طاقت کے ہاتھوں بیچا نہیں ۔

اپنے آخری دنوں میں وہ پاکستان کے اندر تمام مظلوم برادریوں کے درمیان ایک ملک گیر کوارڈینشن نیٹ ورک کی تعمیر کے خواب دیکھ رہا تھا۔ وہ پاکستان میں مذہبی و نسلی جبر کے خاتمے کے لیے ملک بھر کی تمام مذہبی و نسلی برادریوں کا نمائندہ کیمپ تعمیر کرنا چاہتا تھا تاکہ نسلی و مذہبی بنیادوں پہ ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف سارا پاکستان ایک پلیٹ فارم پہ آجائے۔ لیکن اسے زندگی نے مہلت ہی نہیں دی۔

آج پاکستان میں مذہبی و نسلی جبر کا شکار برادریوں میں کٹھ اور اتحاد کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں۔شیعہ کمیونٹی اپنی پراسیکوشن اور اپنے نوجوانوں کے جبری لاپتا بنائے جانے پہ شعور اور بیداری کا مظاہرہ کررہی ہے۔ اہلسنت ان سے ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں اور پاکستان کے دیگر حلقوں میں بھی ان کے حق میں آواز بلند ہورہی ہے

پشتون اور بلوچ باہم تعاون میں ہیں اور سرائیکی وسندھی بھی دیگر اقوام سے ربط و ضبط بڑھارہے ہیں۔

سید خرم ذکی کے کئی ایک ساتھی آج بھی میدان عمل میں سرگرم ہیں۔ وہ جس بلاگ ویب سائٹ کے ایڈیٹر تھے لیٹ اس بلڈ پاکستان وہ بھی پوری آب و تاب سے چل رہا ہے۔ اس کے سو شل میڈیا پیجز کے زریعے سے پیغام امن و آشتی بلامبالغہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔

میں دیدہ نمناک اور دل میں اٹھتی ٹیسوں کے ساتھ ساتھ چند امید سے بھری باتیں بھی لکھے جارہا ہوں۔ تین سال مجھے صدی برابر لگتے ہیں اور چار ملاقاتیں ایسا لگتا ہے جیسے کل ہوئی ہوں۔

پہلی بار ہم ملے تو انچولی سوسائٹی میں بیٹھے بیٹھے مجھے کہنے لگے،’یہ ظفر ہے ان کی تنظیم ہر سال ربیع الاول کو بین المذاہب ہم آہنگی قومی میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انعقاد کراتی ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ نامور سنّی علمائے کرام اس پروگرام میں شریک ہوں۔ کہنے لگے اگر ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید کے بیٹے ڈاکٹر راغب سرفراز نعیمی لاہور سے اور مفتی گلزار نعیمی اسلام آباد سے آجائیں تو کیا ہی اچھا ہو۔ میں نے اسی وقت دونوں سے ان کی بات کرادی اور یہ لوگ پھر اس پروگرام میں شریک بھی ہوئے۔

انھوں نے پھر مجھ سے کہا کہ وہ جامعہ اشرفیہ کے مولانا عبید اللہ انور(اللہ ان کو غریق رحمت کرے) تحریک منھاج القرآن کے علامہ نور المصطفی قادری، سابق وفاقی وزیر مذہبی امور علامہ حامد سعید کاظمی، ناظم اعلی اہلسنت پیر ریاض حسین شاہ سے ملنا چاہتے ہیں،ان سے بھی ملاقات ان کی ممکن ہوئی۔ وہ کئی بشپ، فادرز سے بھی ملے اور ایسے ہی امن کے لیے سرگرم کئی سنّی(دیوبندی،بریلوی، اہلحدیث)، کرسچن، سکھ، ہندؤ ایکٹوسٹوں سے بھی ملے۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ پاکستان میں مذہبی منافرت، فرقہ پرستی اور مسلکی و فرقہ بنیادوں پہ پیدا ہونے والی دوریوں اور فاصلوں کو کیسے دور کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

مست ملنگ آدمی تھے۔ ان کی سرگرمیوں سے اگر کوئی تنگ تھا وہ تکفیری فاشسٹ ٹولہ تھا۔ وہ ٹولہ جو پاکستان میں گلی گلی محلے محلے فرقہ کی بنیاد پہ جنگ کروانا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ شیعہ یہ ماننے لگ جائیں کہ ان کے قاتل سنّی ہیں اور سنّی یہ مان لیں کہ ان کو قتل کرنے والے شیعہ ہیں اور ایک طرف شیعہ -دیوبندی خانہ جنگی ہو تو دوسری طرف دیوبندی-بریلوی جنگ ہو اور یہ ملک شام/عراق/لیبیا بن جائے۔ یہی خواہش غیر ملکی طاقتوں کی بھی تھی۔

ان کو ملنے والی دھمکیوں کو انھوں نے کبھی زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔ وہ جس چوک میں جس تھڑے پہ گولیوں کا نشانہ بنے وہاں کچھ ماہ پہلے میں رات گئے تک ان کے ساتھ بیٹھا رہا تھا۔

وہ میرے ساتھ کراچی کی سڑکوں اور گلیوں میں یونہی گھومتے پھرتے رہے اور مجھ جیسا آدمی جو خود بھی بے خوف ہوکر چلتا پھرتا ہے اس کو کہنا پڑا

‘خرم ذکی ! تھوڑا دھیان کیا کرو۔احتیاط کرو۔’

یہ سنکر جواب میں مجھے سوال کرنے لگا،’ تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟

میں نے بے دھیانی میں کہہ دیا کہ ،’میری بات اور ہے۔’

یہ سنکر خرم ذکی ایک دم چمک گئے اور مجھے بے اختیار کہنے لگے،’ اس غلط فہمی میں مت رہنا کہ سنّی گھرانے کے چشم و چراغ ہو بچ جاؤ گے۔

جو بھی ‘صلح کل ، سب کے لیے امن اور شیعہ-سنّی ہم آہنگی کی بات کرے گا اسے نشانے پہ کب رکھ لیا جائے کچھ پتا نہیں چلتا۔

ایسا کوئی فرق نہیں ورنہ تبلیغی مرکزپہ بم دھماکہ نہ ہوتا، صوفی مزارات نشانہ نہ بنتے، مولانا حسن جان نہ شہید ہوتے اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت نہ ہوتی،۔۔۔۔۔۔ تاریخ بتاتی ہے کہ خوارج نے سب مسلمانوں کے ولی و مولا کو تلوار کے وار سے شہید کردیا تھا اور اس پہ کوئی ندامت نہیں تھی۔۔۔۔۔ تکفیری فاشسٹ کسی سنّی، کسی شیعہ، کسی کرسچن، کسی ہندؤ، کسی احمدی ، کسی یزیدی کو نہیں بخشتا۔’

اللہ پاک سید خرم ذکی کی مغفرت فرمائے۔ ان کے درجات بلند کرے۔

وبشر الصابرين الذين إذا أصابتهم مصيبة قالوا إنا لله وإنا إليه راجعون أولئك عليهم صلوات من ربهم ورحمة وأولئك هم المهتدون.

اور خوش خبری ہے صبر کرنے والوں کے لیے کہ جن کو جب مصیبت کا سامنا ہوتا ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، وہی لوگ ہیں جن پہ اللہ کی جانب سے سلامتی اور رحمت کے سزاوار ہوتے ہیں اور وہی لوگ راہی ہدایت ہوتے ہیں۔