Original Articles Urdu Articles

تکفیری دہشت گرد فرقہ واریت روکنے والی کمیٹی کا حصہ کیسے؟ ۔ عامر حسینی

پنجاب اسمبلی میں نصابی کتب میں اسلامی تاریخ کو مسخ کرنے یا فرقہ واریت کو پھیلانے سے روکنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اس کے اراکین میں معاویہ اعظم بھی شامل ہیں جو کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے کے باوجود اور پاکستانی شیعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی پھیلانے کے باوجود صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے اور پھر جیت جانے میں کامیاب رہے تھے، اس کمیٹی کے رکن ہیں۔

بھلا جس آدمی پہ خود فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کا الزام ہو اور ثبوت کے طور پہ اس کی تقاریر یو ٹیوب سمیت سوشل میڈیا سائٹ پہ موجود ہوں وہ آدمی کیسے نصابی کتب سے فرقہ وارانہ مواد خارج اور اسلامی تاریخ کو کیسے مسخ ہونے سے بچا پائے گا؟

ویسے یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ فرقہ وارانہ مواد کے خاتمے کے لیے نصابی یا غیر نصابی کتب کے جائزہ کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے کمیٹی بنائی گئی ہو اور اس میں فرقہ پرستی پھیلانے والے مولویوں کی شمولیت نہ کی گئی ہو۔


عارف نکئی کے دور میں بھی ایک ایسا بورڈ تشکیل پایا تھا اور اس بورڈ میں فرقہ پرست مولوی ضیاء الرحمان فاروقی کو شامل کیا گیا تھا اور ایسے ہی اعظم طارق بھی اس بورڈ کا حصہ تھے تو اس زمانے میں دلچسپ صورت حال پیدا ہوگئی کہ سپاہ صحابہ نے شیعہ مسلمانوں کے ہاں انتہائی مقدس کتاب ‘نہج البلاغہ’ پہ پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ۔۔۔۔ اس بات سے خود دیوبندی ، بریلوی اور اہلحدیث علماء کی بڑی تعداد نے بھی اتفاق نہیں کیا تھا بلکہ دوران بحث یہ دلچسپ صورت حال سامنے آئی کہ بورڈ کے اراکین میں سے کئی ایک نے کہا کہ خود صحاح ستہ۔۔۔ بخاری و مسلم و نسائی و سنن ابن ماجہ و سنن ابی داودوسنن ترمذی میں بھی شیعہ، قدری، خارجی و دیگر فرق کے راویوں سے لی گئی روایات موجود ہیں تو کیا ان پہ بھی پابندی لگادی جائے گی۔۔۔۔ جبکہ تاریخ کی قدیم ترین کتب جیسے طبری و البدایہ والنھایہ۔۔۔۔۔۔ کا معاملہ تو اور بھی گھمبیر ہے۔

نجانے ہم کب اس حقیقت سے آنکھیں چرانا بند کریں گے کہ جسے ہم اسلامی تاریخ کہتے ہیں وہ پہلی صدی ھجری سے ہی اختلاف،انتشار،افتراق سے بھری ہوئی ہے۔


کیا فرقہ واریت ہے؟ اس کا تعین کرنا قریب قریب ناممکن ہے۔

کس چیز کو تاریخ کا مسخ کہا جائے گا؟ یہ بہت مشکل کام ہوجاتا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ آپ کو مذھبی فرقوں کے ماننے والوں کے درمیان سرپھٹول مقصود اور کسی کی مذھبی بنیادوں پہ پراسیکوشن مقصود ہے تو یہ کام شوق سے کیا جاسکتا ہے۔


پاکستان کی تاریخ میں اکثر دیکھا گیا ہے یہاں جب حکومت بحران میں ہو اور وہ کسی طرح سے جواب طلبی سے بچنا چاہتی ہو تو پھر مذھبی جذبات کو بھڑکانے کا کام بڑی خوبصورتی سے کرلیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ لیاقت علی خان نے جمہوریت کے نام پہ آمریت برقرار رکھنے کے لیے قراداد مقاصد منظور کرائی تو سول و فوجی نوکر شاہی نے سیاست دانوں پہ اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے پنجاب میں قادیانی مخالف فسادات کروائے۔


مجھے تو اب یہ خدشہ محسوس ہورہا ہے پی ٹی آئی جس بری طرح سے سیاسی و معاشی میدان میں ناکام ہوئی ہے اور پاکستان کی غیر منتخب مقتدرہ قوتیں اپنے مقاصد کے حصول میں جیسے ناکامی کا منہ دیکھ رہی ہیں تو اس صورت میں فرقہ پرست ملاءوں کے ذریعے مذھب کا ھتیار استعمال کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔