Original Articles Urdu Articles

چھوٹے کسان کی بربادی – عامر حسینی

منڈی میں بیٹھے آڑھتی اور ان کے ساتھ ملکر گندم سے منافع کمانے کی کوشش میں مصروف انویسٹرز، فلور مل مالکان اور ان کی گندم خریداری سنٹرز کے ہاں موجود مضبوط روابط، جعلی کاشتیں۔۔۔۔ یہ سب کچھ ملکر چھوٹے کسانوں کو فوری نقدی حاصل کرنے اور اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے گندم کو ہزار روپے سے گیارہ سو پچاس روپے من فروخت کرنے پہ مجبور کررہے ہیں۔ گیارہ سو پچاس روپے من اس گندم کا ریٹ ہے جو سونے جیسی دکھتی ہے دانہ موٹا ہے اور اس میں ریت و فالتو جڑی بوٹیوں کی ملاوٹ بالکل بھی نہیں ہے۔

ریاست کے ادارے جن میں محکمہ فوڈ، محکمہ مال اور حکام جیسے وزیر خوراک و زراعت اور ایسے ہی سیکرٹری خوراک و زراعت ڈپٹی کمشنر، اے ڈی جی سی، اے سی اور دیگر عملہ یہ کسی حد تک بڑے زمینداروں، جاگیرداروں، زمیندار اشرافیہ کے من پسند تھوڑے متوسط طبقے کے باثر زمینداروں کی گندم خریداری کے لیے اقدامات اٹھاتا ہے لیکن اکثر غریب اور لوئر مڈل کلاس کے کسانوں کی بھاری اکثریت اس پورے سسٹم میں سستے داموں اپنی گندم کھلی منڈی میں فروخت کرنے پہ مجبور ہوتی ہے۔

گندم اڑانے والا کسان اگلی فصل بونے کے لیے پھر ادھار پہ کھاد، سپرے اور بیج لینے پہ مجبور ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر یوریا کھاد کا بیگ نقدی میں 1820 روپے کا ہے تو ادھار میں وہی بیگ 2200 سے 2400 روپے کا ملتا ہے۔ اور اگر کسان زرعی قرضہ لے یا سونا رکھوا کر زمین گروی رکھ کر قرضہ لے تو سونے یا زمین سے ہی محروم ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

چھوٹی ملکیت والے کسانوں کو بتدریج بے زمین کسانوں والی حالت میں آنا پڑتا ہے۔ اس گھر کے نوجوان مردوں کو بڑے شہروں میں کچے مزدور بنکر اور اس گھر کی عورتوں کو مختلف ڈومیسٹک لیبر کے کام کرنا پڑتے ہیں۔

پاکستان کی اس وقت جتنی بھی بڑی سیاسی پارٹیاں چاہے وہ وفاقی پارلیمانی سیاست کرتی ہوں یا قوم پرستانہ بنیادوں پہ کچھ علاقوں کی سیاست پہ قابض ہوں ان کی سیاست کی طاقت دیہی علاقوں میں صرف اور صرف بڑی زرعی ملکیت یا متوسط زمیندار مستحکم طبقہ ہے اور چھوٹی ملکیت کے مالک ہوں یا بے زمین کسان ہوں یا دیہی کھیت مزدور ہوں ان کے لیے ان لوگوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

پاکستان میں بدقسمتی سے غریب کسانوں اور محنت کش طبقے کی سیاست کو اپنے منشور میں بنیادی اہمیت دینے والی کسی پارٹی کا وجود نہیں ہے۔

پیپلزپارٹی ، اے این پی، بی این پی جیسی جماعتیں اپنے سوشل ڈیموکریٹک سیاست کو نیو لبرل ڈیموکریٹک سیاست میں بدل چکے ہیں۔ جہاں پہ کسان اور مزدور کا نام زیب داستاں کے لیے ہے۔

پیپلزپارٹی کا ریکارڈ اگرچہ یہ ہے کہ یہ فصلوں کی قیمتوں کو اوپر کی سطح پہ لیکر جاتی ہے جس سے سب سے زیادہ فائدہ تو اگرچہ بڑی زمیندار اشرافیہ ہی اٹھاتی ہے لیکن ٹرکل ڈاءون ہوکر اس کا فائدہ چھوٹے کسان کو بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہ کوئی اتنا بڑا فائدہ نہیں ہے کہ جس کو لیکر ڈھونڈرا پیٹا جائے۔
اس وقت مہنگائی کی شرح دس فیصد ہے جس میں مزید اضافہ ہونا ہے اور فصلوں پہ لاگت میں بڑھتا ہوا اضافہ چھوٹے کسان کی موت ہے۔