Original Articles Urdu Articles

تنظیم او آئی سی نے ایک فرقہ پرست ملّا کو امن ایوارڈ دے ڈالا – عامر حسینی

تنظیم او آئی سی نے ایک فرقہ پرست ملّا کو امن ایوارڈ دے ڈالا۔ دیوبندی مسلک میں اگر امن ایوارڈ کا کوئی واقعی مستحق ہے تو وہ مولانا طارق جمیل ہوسکتا ہے جس نے کم از کم اپنے قول اور فعل سے بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کا ثبوت پیش کیا۔ صوفی سنّیوں میں اس ایوارڈ کا سب سے زیادہ مستحق ڈاکٹر طاہر القادری ہے۔

طاہر اشرفی کو یہ ایوارڈ دیا جانا اس لیے ٹھیک نہیں ہے کہ اس نے سلمان تاثیر کے خلاف کافی اشتعال انگیز مہم چلائی تھی اور وہ تکفیری عناصر کے ساتھ روابط میں بڑا بدنام رہا ہے۔

لیکن کیا کیا جائے پاکستان کا کمرشل لبرل مافیا جیسے نجم سیٹھی اور ان کے دیگر ساتھی ہیں وہ طاہر اشرفی کو زبردستی اعتدال پسند ملّا ثابت کرتے رہے ہیں جبکہ یہ ملّا پاکستان میں سعودی عرب کی یمن کے خلاف جنگ اور شام میں عالمی طاقتوں کی مڈاخلت کی حمایت کرتا رہا اور اس نے سعودی عرب ڈے بھی منایا جب سعودی عرب نے یمن کے خلاف جنگ چھیڑی تھی۔

طاہر القادری جنھوں نے دنیا کی بڑی زبانوں میں خوارج،تکفیری اور وہابی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف بہت ساری کتابیں لکھیں، دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف مسلمان نوجوانوں کے لیے نصاب تشکیل دیا اور دنیا بھر میں اپنے لیکچرز کے زریعے سے امن کے قیام اور مسلمانوں کو ریڈیکل ہونے سے بچایا ہمارے کمرشل لبرل مافیا کو اس لیے ناپسند ہیں کہ وہ نواز شریف اور اس کی سلطنت کے سخت ترین ناقد ہیں اور انھوں نے اپنے تعلیمی و سماجی نیٹ ورک کو نہ تو سعودی عرب کی خدمت کے لیے پیش کیا اور نہ ہی اسے امریکہ سامراج اور اس کے اتحادیوں کی حوشنودی کی خاطر مڈل ایسٹ کی جنگ میں جھونکا۔ اگر وہ بھی کئی ایک سلفی و دیوبندی مولویوں کی طرح(سب نہیں) یا شیعہ ایران نواز ملّاؤں کی طرح(سب شیعہ ملّا نہیں) اپنے آپ کو کسی ایک ملک کی چاکری کے لیے وقف کردیتے یا امریکہ نواز ہوجاتے تو بہت آسانی سے ان کو ایسے کئی ایوارڈ دے ڈالے جاتے۔ بلکہ ہوسکتا ہے کہ نوبل انعام بھی دے دیا جاتا۔

ویسے یہ امن ایوارڈ تو مفتی سرفراز نعیمی ، مولانا حسن جان جیسے علماء کو بھی دیا جانا چاہئیے تھا جنھوں نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں خودکش حملوں اور سویلین افراد پہ حملوں کو خلاف اسلام قرار دینے کا فتوی دیا اور اپنی جان دے دی۔

کیا ستم ظریفی ہے کہ امن ایوارڈ ایسے ملّاؤں کو دیا جارہا ہے جو نوجوانی میں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، حرکۃ الجہاد السلامی افغانستان جیسی تنظیموں کے ساتھ ملکر قتل و غارت گری کا جواز اور مذہبی منافرت پھیلانے میں آگے آگے رہے۔