Original Articles Urdu Articles

خوردبینی سیاست کی بجائے عوامی سیاست ہی وقت کا تقاضا ہے -عامر حسینی

“دوہزار سترہ-اٹھارہ کا پاکستان اقتصادی سروے رپورٹ پیش کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے دعوی کیا تھا کہ جنگلات میں 17۔7 شرح نمو دیکھی گئی ہے اور اس کی وجہ کے پی کے میں رپورٹ ہونے والی ریکارڈ ٹمبر پڑوڈکشن ہے۔

عمران خان تو ہے ہی جھوٹوں کا سردار ٹخنے جوڑ کر جھوٹ بولتا ہے کہ پانچ ارب درخت اگائے کہ دس ارب درخت اگائے،،،، اکرم درانی سچا ہے کہتا ہے کہ دو لاکھ بھی نہیں اگائے لیکن یہ جو 2017-18 کے پاکستان اکنامک سروے میں جو فارسٹری کی گروتھ 17 اعشاریہ 7 دکھائی تھی کے پی کے کی ٹمبر کی ریکارڈ پروڈکشن رپورٹ پہ وہ سچی تھی کہ جھوٹی۔

پی ٹی آئی والے 90 فیصد وہی معاشی پالیسیاں چلارہے ہیں اور وہی مجوزہ اقدامات اٹھارہے ہیں جو نواز لیگ اٹھارہی تھی بس جھوٹ اتنا بولا تبدیلی لانے کا کہتے ہوئے شرماتے ہیں ۔ سابق نالائق حکومت کا بوچھ حاضر نالائق حکومت نے اٹھا رکھا ہے دونوں کے پاس شہری و دیہی غریبوں، کسانوں کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے لیکن فوجی اور سویلین سرمایہ داروں کو دینے کے لیے سبسڈی، ایکسائز ڈیوٹی معاف کرنے، ایمنسٹی لاکر وائٹ کالر مجرموں کا کالا دھن صاف کرنے کی اجازت دینے کے لیے بہت کچھ ہے

نواز لیگ پنجاب اور وفاق کے ٹیچنگ ہسپتالوں کو ہی نہیں ضلعی سطح کے ہسپتالوں کو بھی خودمختاری کے نام پہ نجی شعبے کو دینے کا منصوبہ پانچ سالوں میں بناتی رہی، ینگ ڈاکٹرز جب بھی ہڑتال پہ گئے تو مسلم لیگ نواز کا حامی میڈیا ان کو بدنام کرنے اورعوام سے گالیاں دلوانے کی پوری پوریی پلاننگ کے ساتھ میدان میں آیا

آج تک اپوزیشن لیڈر نے پنجاب کے ہسپتالوں کی نجکاری کے مجوزہ قانون ایم آئی ٹی کے خلاف ایک بیان بھی نہیں دے پائے اور ان کے ابو جان بھی لندن جاکر خاموش بیٹھے ہیں۔

پاکستان اکنامک سروے 2017-18 کی دستاویز کو زرا تنقیدی نظر سے کھنگھالیں آپ کو نواز لیگ اور پی ٹی آئی کی پالیسیوں میں مقداری فرق تو نظر آئے گا کیفیتی فرق ڈھونڈے نہیں ملے گا

پیپلزپارٹی سنٹرل پنجاب اور جنوبی پنجاب کے صدور قمر زماں کائرہ اور مخدوم احمد محمود پیپلزپارٹی پنجاب کے بڑے بڑے نام (یہ بڑے نمایاں نام جو وفاق اور سندھ میں پارٹی کی حکومتوں سے بے پناہ فوائد اٹھاتے ہیں دو ہزار سے اوپر ہیں) ہی اکٹھے کرکے پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دیں اور ہسپتالوں کی نجکاری ، جامعات کے فنڈزمیں پچاس فیصد کمی اور کسانوں کی فصلوں کی تباہی پہ معاوضہ نہ دینے پہ احتجاج کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کیسے نہیں واپس آتی۔

پنجاب میں پیپلزپارٹی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ‘ٹرولنگ تکنیک’ سیکھنے یا یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے کہ ان سے بڑا ‘بے حیائی اور جنسیت زدہ ‘حملوں کا ترکی بہ ترکی جواب دینے والا کوئی پایا ہی نہیں جاتا وہ مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی کی عوام دشمن پالیسیوں اور طرز حکومت کا پول کھولنے کے لیے اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بات تلخ ضرور ہے لیکن یہی کڑوی گولی پنجاب میں پیپلزپارٹی کے احیاء کا سبب بن سکتی ہے۔

لاہور میں پیپلزپارٹی کی دونوں صوبائی تنظیموں کی قیادت و عہدے دار، لاہور کارپوریشن حدود میں موجود پی پی پی کے تمام عہدے دار بشمول ونگز عہدے دار پنجاب کے عام آدمی اور کسان کی مشکلات اور مسائل کے بارے میں حکومت پہ دباؤ بڑھانے کے لیے اپنے ہاتھ پاؤں پیر ہلائیں اور حکومت کو مجبور کردیں کہ وہ ہسپتالوں میں عوام سے مفت علاج اور ادویات کی فراہمی اور ڈاکڑوں کو غیر سرکاری ملازم بنانے کی پالیسی سے باز آئے۔

اگر پنجاب میں پیپلزپارٹی کے ہوتے مفت علاج کی سہولت عام آدمی سے چھین لی گئی اور پیپلزپارٹی سنٹرل پنجاب اس پہ خاموش رہی تو کون سنٹرل پنجاب کا غریب اس کی بات سنے گا اور اگر سولہ لاکھ ایکٹر رقبے پہ فصلوں کی تباہی سے متاثر ہونے والے کسانوں کو معاوضہ دلانے کے لیے پی پی پی جنوبی پنجاب نے بڑا احتجاج منظم نہ کیا تو کیسے یہ جنوبی پنجاب کے غریب کسانوں کو کہے گی کہ اس کی سپورٹ کریں؟

بلاول بھٹو اگر پنجاب میں شہری و دیہی غریبوں کسانوں اور مزدوروں میں پارٹی کی واپسی چاہتے ہیں تو پنجاب میں ان کے مسائل کے گرد سیاست کو منظم کرنا ہوگا ٹرولنگ اور عمران خان کے جھوٹ پکڑنے اور اس کی زبان اور چال کے گرد خوردبین لگاکر بیٹھنے سے عوام میں واپسی نہیں ہوگی۔ خورد بین لگاکر عمران خان کی ٹرولنگ کی سیاست نواز لیگ اور کمرشل لبرل مافیا کے حوالے ہی رہنے دیں آپ آئیں اور غریبوں، مزدوروں، سفید پوش طبقے کے مسائل کے حل کی سیاست کریں،