Original Articles Urdu Articles

سعودی عرب نے سزائے موت پانے والے شیعہ عالم دین الشیخ باقر النمر کی تحریک اصلاح کے مزید 37 افراد کے سر قلم کر دیئے

سعودی عرب نے چند سال پہلے سزائے موت پانے والے شیعہ عالم دین الشیخ باقر النمر کی تحریک اصلاح کے مزید 37 افراد کے سر قلم کر دیئے۔ تمام افراد کا تعلق سعودی عرب کے شیعہ گنجان علاقہ قطیف سے ہے ۔ ان میں شیعہ مجتہد و سعودی شیعہ فرقے کے عالم دین مجتہد الشیخ محمد العطیہ عبدلغنی بھی شامل ہیں ۔

یہ لوگ تو سر کٹا کر سرخرو ہو گئے ، امتحان اب انکا ہے جنہیں حلب جلنے پر انسانی حقوق کی پامالی نظر آتی ہے اب کیا انہیں سعودی عرب میں اقلیتی فرقے شیعوں کے انسانی حقوق کی پامالی نظر آئیگی یا نہیں ۔ جنہیں میک اپ شدہ بچوں کی مصنوعی لاشیں نظر آتی ہیں ، انہیں ان حقیقی سر بریدہ بچوں کی لاشیں نظر آئیں گی جو ان 37 افراد میں شامل تھے یا نہیں ۔ جنہیں سری لنکا ، نیوزی لینڈ میں دہشتگردی پر تاسف ہوا (ہونا بھی چاہیے) ، وہ آل سعود کے اس غیر انسانی رویے کی مذمت کرینگے یا نہیں ۔ جو مسلسل شیعہ نسل کشی سے انکار کرتے آئے ہیں، وہ اس فہرست کو دیکھ کر شیعہ نسل کشی کا اقرار کرینگے یا نہیں ۔ جو جمال خوشقجی کے قتل پر بلبلا اٹھے تھے ، اس بات سے قطع نظر کہ جمال خوشقجی خود بھی آل سعود کا وفادار رہ چکا تھا ، جنہوں نے جمال خوشقجی کے قتل پر آل سعود کی مذمت کی ، اسے غیر انسانی و غیر اخلاقی کہا ، کیا انکی انسانیت و اخلاقیات کا پیمانہ ان 37 مظلوموں کی شہادت پر بھی وہی رہیگا یا نہیں ؟

میں آپکو بتا دوں ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔ کیونکہ قتل کرنے والی وہابی آل سعود ہے اور قتل ہونے والے زیادہ تر شیعہ ہیں ۔ الباکستانیوں کی روزی روٹی سعودی عرب کی بدولت چلتی ہے ، تو کون سعودی عرب کیخلاف آواز اٹھا کر روزی پر لات مارے گا ؟ اگر کوئی آل سعود کیخلاف آواز اٹھانے کی ہمت اور اخلاقی جرات کر ہی لے تو پی ٹی آئی کی سعودی نواز حکومت کی ایف آئی آر بھگتنے کیلئے تیار رہے ۔ آخر میں رہی بات شیعوں کی ، وہ تو آئے روز مرتے ہی ہیں پھر وہ چاہے پاکستان ہو سعودی عرب ۔

کبھی کبھی مجھے انسانی حقوق کے ان نام نہاد علم برداروں کی منافقت سے نفرت ہونے لگتی ہے جن کا معیار انسانیت نہیں بلکہ مسلک ہے ۔ جو مقتول کی شناخت کیوقت تو مسلک بھول جاتے ہیں لیکن قتل کی مذمت کرنے سے پہلے مسلک ضرور پرکھتے ہیں ۔ اگر مسلک انکے مطلب کا ہوا تو مذمت کرتے ہیں اور اگر مسلک انکی مرضی کا نہ ہوا تو مقتول انکی مذمت تو دور ، ہمدردی کا بھی حقدار نہیں رہتا ۔

*سعودی عرب میں 37 مومنین کو شہید کردیا گیا دہشت گردی کے الزام میں*

منگل 17 شعبان 1440هـ – 23 اپریل 2019م
. أحمد حسن علي آل ربيع.
. أحمد حسين علي العرادي.
. أحمد فيصل حسن آل درويش.
. جابر زهير جابر المرهون.
. حسين حسن علي آل ربيع.
. حسين علي جاسم الحميدي.
حسين قاسم علي العبود.
حسين محمد علي آل مسلم.
. حيدر محمد إبراهيم آل ليف.
. خالد حمود جوير الفراج.
. خالد عبدالكريم صالح التويجري.
. سالم عبدالله عوض العمري الحربي
. سعيد محمد سعيد السكافي.
. سلمان أمين سلمان آل قريش.
. طالب مسلم سليمان الحربي.
. طاهر مسلم سليمان الحربي.
. عباس حجي أحمد الحسن.
. عبدالعزيز حسن علي آل سهوي.
. عبدالكريم محمد الحواج.
. عبدالله سلمان صالح آل اسريح.
. عبدالله عادل حسن العوجان.
. عبدالله هاني عبدالله آل طريف.
. عزيز مهدي عبدالله آل رافع العمري.
. علي حسين علي العاشور.
. علي حسين علي المهناء.
. فاضل حسن عبدالكريم لباد.
. مجتبى نادر عبدالله السويكت.
. محمد حسين علي العاشور.
. محمد سعيد عبدرب الرسول آل خاتم.
. محمد عايض محمد النملان القحطاني.
. محمد عبدالغني محمد عطية.
. محمد منصور أحمد آل ناصر.
. مصطفى أحمد عبداللطيف درويش.
. منتظر علي صالح السبيتي.
. منير عبدالله أحمد آل آدم.
. هادي يوسف رضى آل هزيم.
. يوسف عبدالله عوض العمري.