Original Articles Urdu Articles

اسد عمر کو اپنی نااہلی کی سزا ملی – محمد عامر خاکوانی

اسد عمر معیشت کو ، مارکیٹ کو سنبھال ہی نہیں سکے۔ انہیں اپنا منہ بند رکھ کر سٹیک ہولڈر سے مشاورت کے بعد آگے بڑھنا چاہیے تھا۔ متضاد بیانات دے کر وہ ہر ایک کو کنفیوز کرتے رہے۔ سٹاک مارکیٹ کریش ہوتی رہی، سرمایہ کار خوفزدہ ، پریشان ہوئے، ڈالر کے معاملے پر بھی بلا سوچے سمجھے کھلواڑ ہوا، آئی ایم ایف جانے نہ جانے کا معاملہ بھی تدبر سے ڈیل نہ کر سکے، سب سے بڑھ کر یہ کہ عمران خان کا پورا فنانشل ماڈل وقت پڑنے پر نظر ہی نہیں آیا۔ اوورسیز پاکستانیوں کو انوالو کرنے ، اچھی ٹیم بنانا، سب کچھ ادھورے، تشنہ خواب ثابت ہوئے اور اس فنانشل ماڈل ، ان خوابوں کا معمار عمران نہیں اسد عمر تھا۔ اسے ہی جانا تھا پھر۔

ایک لحاظ سے اس نے عمران خان کی بینڈ بجا دی ۔ اب یہی پچاس لاکھ گھروں، بیس لاکھ ملازمتوں والی بات دیکھ لیں۔ ایسی چول مارنے، اتنی مبالغہ آمیز بات منشور میں ڈالنے ، الیکشن نعرہ بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟وقت آیا تو اس کا دس فیصد بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ انہوں نے یہ موٹی سی بات تو سوچ لی کہ اگر گھر بنتے ہیں تو تیس چالیس دوسری صنعتیں حرکت میں آ جاتی ہیں، معیشت کو فائدہ ہوتا ہے۔ یہ بات تو میرے جیسے ناسمجھ کو بھی معلوم ہے۔ سرمایہ نہ ہونے کی صورت میں یہ لاکھوں گھر کیسے بنیں گے ؟ اتنی سمینٹ، کاریگر، دیگر انفراسٹرکچر کیسے اور کہاں سے آئے گا؟ کون یہ فنانس کرے گا؟ یہ سب اسد عمر کی شاہکار دماغ سے اوپر کی چیز تھی۔

وہ ایسے راستے نہیں ڈھونڈ سکے، اپنے گرد ایسے تجربہ کار مشیر اکٹھے نہیں کر سکے جو حالیہ پیچیدہ معاشی گمبھیرتا سے باہر نکلنے کا طریقہ سجھا سکے۔ یہ بھی ان کی ناکامی ہے۔ ہر گزرے لمحے کے ساتھ اسد عمر عمران کے لئے بوجھ ثابت ہو رہے تھے۔ انہوں نے جانا ہی تھا

مجھے پی ٹی آئی کے ان کارکنوں، حامیوں پر حیرت ہے جو اسد عمر کو ہیرو بنا رہے ہیں، جن کے خیال میں مافیاز نے انہیں ہٹایا۔ بھائی اسد عمر کو اپنی نااہلی کی سزا ملی۔ وہ کون سا انقلاب لا رہا تھا کہ مافیاز اس کے درپے ہوتے ؟ مافیاز تو چاہتے ہوں گے کہ بھائی صاحب سال دو اور رہ جائیں تاکہ عمران خان اپنی ہی کھودی خندق میں دفن ہوجائے ۔ ان پر بھی حیرت ہے جو اسد عمر کو نظریاتی چیمپین سمجھتے ہیں۔ کون سا نظریہ؟ ٹھیک ہے کہ وہ اچھا بولتے تھے، معقول ، شائستہ ، سمارٹ آدمی تھے۔ اوسط درجے کے سیاسی تدبر اور اس سے کچھ کم درجے کی معاشی سمجھ بوجھ کے ساتھ ۔ کسی عام وزارت میں ہوتے تو ممکن ہے اسے چلا لیتے یا شائد اچھا چلا لیتے، مگر وزارت خزانہ اسد عمرسے اوپر کی سطح کی چیز تھی۔ ناتجربہ کاری ، خوش فہمی اور نااہلوں سے مشاورت ان کا بڑا عیب تھا۔ وہ اسی انجام تک پہنچے ، جس کے وہ مستحق تھے۔ جذباتی کارکنوں کے ساتھ معذرت، مگر ہمیں تو اس پر کوئی تاسف نہیں۔