Original Articles Urdu Articles

شیعہ نسل کشی سے جڑی کچھ باتیں ۔ عامر حسینی

پاکستان میں نائن الیون کے بعد شیعہ نسل کشی کا منظم سلسلہ جب دوبارہ شروع ہوا اور اسے نظریاتی سپورٹ تکفیری فاشزم کے وسیع و منظم نیٹ ورک سے ملنے لگی تو میں نے ٹھیک معنوں میں پہلی بار نسل کشی کے موضوع کو انتہائی سنجیدگی سے لینا شروع کردیا۔اور میں نے نسل کشی معانی و مفاہیم اور اس اصطلاح سے جڑی تعریف کو بھی دیکھنا شروع کردیا اور نسل کشی کے کلاسیکل کیسز بھی اسٹڈی کرنے شروع کردیے۔ اس مطالعے سے میں پاکستان میں شیعہ کمیونٹی کے ساتھ ہونے والی نسل کشی کی اس قسم پہ یقین کرنے لگا جسے آہستہ رو نسل کشی کہتے ہیں۔ نسل کشی صرف بڑے پیمانے پہ قتل و غارت گری کا نام نہیں ہوا کرتی بلکہ یہ کسی نسلی یا مذھبی گروہ کو منظم طور پہ کمتر بنا دیے جانے پہ مشتمل منظم پروسس کا عمل بھی ہوا کرتا ہے۔ یہ اس متاثرہ گروہ کی شناخت کو ہی اس کو نابود کرنے کے مقصد کا نام بھی ہوا کرتا ہے۔

پاکستان میں یہ منظم پروسس انیس سو اسی سے سپاہ صحابہ پاکستان نے شروع کیا اور پھر یہ مائنڈ سیٹ پھیلتا ہی چلا گیا۔ میں مطالعے، مشاہدے، دستیاب شواہد و واقعات سے اس نتیجہ پہ پہنچا کہ یہ جو شیعہ کلنگ اور شیعہ کے خلاف منافرت انگیز مہم ہے یہ صرف پراکسی نہیں ہے۔ نہ ہی یہ محض کسی ریاست کی تزویراتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے بلکہ اس کی مضبوط جڑیں تکفیری فاشزم کے اندر پیوست ہیں جسے بہرحال سرد جنگ کے دوران جہاد افغانستان، ایرانی انقلاب کے دوران شیعی ولایت فقیہ کے سیاسی مذھبی تعبیر کی فتح مندی، مڈل ایسٹ میں مخلف عالمی و علاقائی قوتوں کی غلبے کی لڑائی، پاکستان میں عوامی حمایت سے محروم ضیاء الحق کی آمریت کا اپنے خلاف جمہوری سیاسی حقوق کی تحریک کو تقسیم اور بے اثر بنانے کے لیے ہمارے سماج میں پہلے سے موجود مذھبی و نسلی تضادات کو گہرا کرنے کا عمل اور مخصوص حالات واقعات میں افغانستان اور پھر کشمیر میں عسکریت پسندی کے لیے پیدل سپاہیوں سے لیکر نظریہ ساز ریڈیکل دیوبندی ۔سلفی حلقوں سے ایک مضبوط جہادی۔تکفیری نیٹ ورک کی تعمیر اور اسے پھلنے پھولنے دینے کا موقعہ اور بعد ازاں معاشی کمزوریوں سے پیدا بحران سے بچنے کے لیے سعودی و قطری و دیگر مڈل ایسٹ کے پٹرو ڈالر کے حصول کے لیے ملک میں ریڈیکل دیوبندئزیشن کی راہ ہموار کرنا اور اس کے ردعمل میں دیگر فرقوں کے اندر سے پیدا ہونے والی ریڈیکل ازم کو سپیس دینے نے تکفیری فاشزم کو عفریت بننے کا موقعہ فراہم کردیا اور یہ عفریت ریاستی اداروں کو بلیک میل کرنے تک کی پوزیشن کے حامل ہوگئے۔

ایسے میں پاکستان میں عملی طور پہ مجھے لگتا تھا کہ شیعہ نسل کشی کے خلاف ایک بڑے پیمانے پہ سول رائٹس نیٹ ورک تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو شیعہ نسل کشی کے خلاف ہمارے معاشرے میں عوامی مزاحمت کو سامنے لائے اور اس نیٹ ورک کا سب سے بڑا حصہ خود اس ملک کی سنی عوام کے اندر سے لوگ بنیں۔ اور شیعہ ہیومن رائٹس ڈیفنڈر کی ایک بڑی چین پورے پاکستان کے اندر سامنے آئے جو شیعہ نسل کشی کو فرقہ وارانہ جنگ، مذھبی تنازعوں کی لڑائی یا اسے اسلام کے چودہ سو سال کی تاریخ کے مذھبی نزاعات کا شاخسانہ بتلانے یا اسے ایران۔سعودی فریم ورک میں بٹھا کر دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے سماج کو شیعہ نسل کشی پہ خاموش کردینے والے لوگوں کو بے نقاب کرے۔

پاکستان میں یہ سوشل موومنٹ کے طور پہ ابھرنے کا پوٹینشل رکھ سکتی تھی۔

میں نے اس سلسلے میں شیعہ نسل کشی کے خلاف پہلے سے متحرک کراچی، لاہور، اسلام آباد وغیرہ کے کئی ایک گروپوں سے جب رابطہ شروع کیا تو میں یہ دیکھ کر حیران ہوگیا کہ ان میں سے اکثر لوگ اسے اپنی کمیونٹی کے انسانی حقوق کے تحفظ کا ایشو سمجھنے کی بجائے مذھبی ایشو ہی خیال کرتے تھے اور ان میں سے کئی ایک ایران کے سیاسی مذھبی رجیم کو اپنا سب کچھ خیال کرتے تھے۔اور یہاں پہ دلچسپ امر یہ تھا کہ ایک گروپ جو سول سوسائٹی کے نام پہ اپنے آپ کو سامنے لیکر آتا تھا وہ اپنے چھوٹے اور باقی ماندہ آبادی سے کٹے احتجاج اور مارچ میں مذھبی مناظرانہ ٹرمنالوجی استعمال کرتا اور سپاہ صحابہ سے باقاعدہ مذھبی مناظرے بھی کرتا تھا۔

میں نام لیے بغیر یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ایسے چند ایک گروہ سرے سے عوامی تحریک کی طاقت پہ یقین رکھنے سے کہیں زیادہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور مرکز میں اپنے مطلب کا آدمی تلاش کرنے پہ زور دیتے تھے۔

ان کا خیال تھا کہ اداروں کی پالیسی سربراہ کے آنے جانے سے بدل جاتی ہے۔

ایسے ہی ایک گروپ نے جس کا اسلام آباد بھی کافی اثر تھا اور وہ متبادل سول سوسائٹی کا نعرہ مار رہے تھے کیانی کو تکفیری چیف کہتے رہے اور جب راحیل شریف آیا تو ایک دن اس گروپ کے دو تین انتہائی سرکردہ لوگ مجھ سے رابطہ کرکے کہنے لگے کہ راحیل شریف کے آنے سے حالات بدلنے والے ہیں کہا کہ اس کے ننھیالی شیعہ اور ددھیالی صوفی سنی اور یہ فوجی جوانوں کے ساتھ ٹرکوں میں مجالس عزا اور میلاد کی محافل سننے جاتا رہا ہے۔
گویا ایک ادارے کی پالیسی کو یہ کسی شخص کے ذاتی رجحانات و میلانات کا پابند سمجھتے تھے۔اور اس حوالے سے یہ حقیقت بھی نظر انداز کر ڈالتے تھے کہ جنرل ضیاء کے دور میں آئی ایس آئی کے افغان ڈیسک پہ اور پاکستان کی مسلح افواج کے انتہائی اہم ترین عہدوں پہ کتنے شیعہ اور کتنے صوفی سنی پس منظر کے لوگ تھے اور اس زمانے میں وفاقی وزیر مذھبی امور حاجی حنیف طیب تھے ، ٹی وی پہ فہم القرآن ڈاکٹر طاہر القادری کررہے تھے اور ٹی وی ڈراموں پہ ایک اور صوفی اشفاق احمد اور قدسیہ بانو جیسوں کا راج تھا تو اس کے باوجود پورے ملک میں ریڈیکل دیوبندی ازم اور سلفی ازم کیوں ترقی کررہا تھا؟

پنجاب میں گورنر پنجاب ملک غلام جیلانی سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس آئی اختر عبدالرحمان اور ان کی سرپرستی میں وزیرخزانہ اور پھر چیف منسٹر بننے والا میاں نواز شریف تو کٹر بریلوی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور اس زمانے میں آئی بی کا چیف( جو اب بھی باقیات ہے) ایک ممتاز شیعہ گھرانے کا فرد تھا۔۔۔۔ اس سے ریاستی اداروں کے کردار پہ کیا فرق پڑا۔۔۔۔۔ تزویراتی گہرائی ہو، ڈیپ سٹیٹ کا معاملہ ہو، جہاد افغانستان و کشمیر سے جڑا سیاسی اسلام پسندی کا رجحان ہو ان سب کے خلاف اگر مزاحمت تھی تو وہ اس زمانے میں ایم آر ڈی کی تحریک تھی ۔۔۔۔ سول رائٹس کی تحریک تھی۔ اور ضیاء بھی اور اس کی باقیات بھی اسے ہی اپنا حریف سمجھا کرتی تھی۔

خیر ایک وقت وہ بھی آیا جب اسلام آباد اور چند اور شہروں میں متحرک اسی گروپ کے ممتاز رہنماوں نے مجھ سے کہا کہ وہ تکفیر ازم کے خلاف بڑے پیمانے پہ مہم منظم کریں گے۔ نئے چیف کے آنے سے حالات بدل گئے ہیں۔ اور ان کی فلاں فلاں سے ملاقات طے ہے اور مجھے بھی اس ملاقات میں ہونا چاہئیے۔

میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ مظلوموں کی تحریکیں کسی ادارے کے سربراہ کے ذاتی رجحانات و میلانات کو دیکھ کر یا کسی کے گرین سگنل سے نہ شروع ہوتی ہیں نہ ہی ان کی اجازت کی مرہون منت ہوا کرتی ہیں۔

خیر ہم نے دیکھا کہ اسی چیف کے دور میں ہی شیعہ نسل کشی کے خلاف انتہائی طاقتور آواز خرم ذکی دہشت گردوں کا نشانہ بن گئے اور پھر ہم نے اسی گروہ کے کئی ایک ناموں کو بعد ازاں کمرشل لبرل مافیا کے ساتھ ملکر شیعہ نسل کشی کو ‘ بنو امیہ و بنو عباس ‘کی لڑائیوں سے جوڑ کر غلط مساوات بناتے بھی دیکھا۔

شیعہ نسل کشی ہو یا احمدی کمیونٹی کی مارجنلائزیشن ہو یا پھر دیگر مذھبی اقلیتوں سے ہونے والا سلوک ہو اسے کے خلاف سول سماجی تحریک کے لیے بنیادی نیٹ ورکنگ اس لیے بار بار پیچھے ہوجاتی ہے کہ اسے

False binaries

کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خود مظلوم مذھبی گروہ کے اندر ایسے لوگ بکثرت موجود ہوتے ہیں جو اسے مذھبی مناقشہ قرار دینے پہ مصر ہوتے ہیں اور اس ایشو کے گرد مذھبی جنونیوں کے خلاف معاشرے میں عمومی بے زاری، نفرت، اور پھر مزاحمت پیدا کرنے کے آڑے آجاتے ہیں۔

پس نوشت: ویسے جب راحیل شریف سعودی فوجی اتحاد کے سربراہ بنے اور ان کا نیا منصب اور اس کے تقاضے سامنے آئے تو میں نے راحیل شریف کے ذاتی رجحانات و میلانات بارے خبریں دے کر گرم ہونے والوں سے پوچھا کہ ہاں بھئی اب کیا کہتے ہو تو کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔۔کچھ عرصے بعد یہ عمران خان اور ان کے کچھ ساتھیوں کو امید کی کرن بنا کر پیش کرنے میں لگ گئے اور ایک بار پھر کسی کے شیعہ پس منظر ( علی زیدی، ذوالفقار بخاری وغیرہ) تو کسی کے بریلوی پس منظر ( جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی) کو لیکر خوش فہمی کے پہاڑ کھڑے کرلیے گئے۔ آج تو وفاقی وزرات مذھبی امور بھی ایک بریلوی پیر کے پاس ہے اور آرمی چیف اپنے گھر میلاد کی محافل منعقد کراتا ہے تو کیا پالیسی بدل گئی ہے؟