Original Articles Urdu Articles

مکران کوسٹل ہائی وے سے ایوان اقتدار کی غلام گردشوں تک – محمد عامر خاکوانی

ایک ہی دن ایک دوسرے سے انتہائی مختلف دوخبریں سامنے آئی ہیں۔ ایک دراصل خبر نہیں ، المیہ، سانحہ کی عکاسی ہے۔ بلوچستان میںمکران کوسٹل ہائی وے پر بسیں روک کر چودہ مسافروں کو اتار کر ، شناختی کارڈ دیکھ کر گولی مار دی گئی۔ خبر پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ تصور کیا جائے کہ بس میں سفر کرتا مسافر جو نصف شب کے وقت اونگھ کر وقت گزار رہا ہے، یہ تصور کہ چند گھنٹوں بعد اپنی منزل پہنچ کر بستر پر پرسکون نیند مقدر ملے گی۔اچانک بس رکے، نامعلوم مسلح افراد گاڑی میں گھس آئیں، شناختی کارڈ دیکھ کر بدقسمت مسافر کو کھینچ کر اتاریں۔ گن برداروں کی آنکھوں سے درندگی اور وحشت ٹپک رہی ہے، تھوڑی دیر میں مختلف بسوں سے اتار گئے مسافر ایک قطار میں کھڑے کر دئیے جائیں اور پھر ان پر گولیوں کی بوچھاڑ ہوجائے۔ان بدنصیب مسافروں کے لئے وہ آخری چند لمحے کس قدر کربناک اور تکلیف دہ ہوں گے، جب انہیں علم ہو کہ ان پر تانی گئی بندوقیں ابھی گولیاں اگلنا شروع کر دیں گی۔ وہ کہیں بھاگ سکتے ہیں نہ کوئی ان کی مدد کو پہنچ سکتا۔سفر والی رات ان کے لئے لامحدود وسعت والی تاریک سرنگ بن گئی۔ قتل ہوجانے والے سب مزدور پیشہ لوگ ہیںجو اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے، بیوی بچوں کی کفالت کے لئے اپنے گھروں سے سینکڑوں، ہزاروں میل دور بلوچستان کے انتہائی کونے پر محنت مزدوری گئے تھے۔

خود کو بلوچ قوم پرست کہلانے والے دہشت گرد درندوں نے نہایت بے رحمی، سفاکی سے انہیں نشانہ بنا کر نجانے کن بدبختو ں کو خوش کیا۔ان کو جو بلوچستان کو لہولہو اور مضطرب دیکھنا چاہتے ہیں یا وہ جو نہیں چاہتے کہ حرماں نصیب بلوچوں پر خوشحالی، ترقی کا دروازہ کھلے۔ وہ قوتیں جو سی پیک کی کامیابی نہیں چاہتیں، جو اپنے گماشتوں کے ذریعے بلوچستان کو سلگتا، زخم زخم رکھنا چاہتی ہیں۔ وجہ جو بھی ہو، قاتل چہرے کوئی سے ہوں،بے رحم حقیقت یہ ہے کہ ان چودہ گھرانوں کے چراغ گل ہو گئے۔

بے حسی اور سنگ دلی کا مظہرصرف یہ سانحہ نہیں، اس کے بعد بھی اسی انداز کی جھلکیاں ملتی رہیں گی۔اگلے چند دنوں میں ہم دیکھیں گے کہ بہت سوں کو سانپ سونگھ جائے گا۔ جوصبح شام ناراض بلوچوں سے مذاکرات، انہیں رضا مند کرنے کی بات کرتے ہیں۔ جن کے خیال میں پاکستان دشمن قوتوں کا ایجنٹ بن جانے والے حیربیار مری، اللہ نذر وغیرہ سے مذاکرات کر کے انہیں پھر سے مسلط کیا جائے ، ان میں سے کسی دانشور، سیاستدان یا لکھاری کو بے گناہ غیر بلوچوں کے قتل کی مذمت کرنے کی توفیق نہیں ہوگی۔ وہ لبرل بھی خاموش رہیں گے جن کے دن کا آغاز ہی پاک فوج کو گالی دینے سے ہوتا ہے۔بلوچستان میں یہ لہو رنگ کھیل کئی برسوں سے جاری ہے، پانچ ہزار سے زیادہ نان بلوچی سیٹلرز قتل کئے جا چکے ہیں، ان میں زیادہ تر پنجابی، سرائیکی اور اردو سپیکنگ ہیں، چند وارداتوں میں پشتون بھی نشانہ بنے، مگرزیادہ تر قیامت اہل پنجاب پر ٹوٹتی رہی۔ وحشت کے اس کھیل میں خواتین پروفیسرز کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ پروفیسر ناظمہ طالب جیسی شفیق استاد کو بھی یونیورسٹی سے گھر جاتے گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ بلوچ روایات میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔

لوک قصے یہ بتاتے ہیں کہ خواتین کی درخواست پر طویل عرصے سے لڑی جانے والی جنگیں روک دی گئیں۔ اسی بلوچستان میں نہ صرف خواتین اساتذہ نشانہ بنیں بلکہ اعلانیہ ان کے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کی گئی ۔ سندھی ، بلوچی روایات سے واقف، انگریزی جریدے نیوز لائن کے ایک سابق رپورٹر حسن مجتبیٰ نے اپنے ایک کالم میں ستر کے عشرے کے اس جلسے کا ذکر کیا تھا جس میں ایک بڑے بلوچ سردار نے جوایک ریاستی آپریشن کے نتیجے میں موت کے باعث لیجنڈ بن چکے ہیں، اس بگٹی سردار نے تقریر میں کہا کہ نان بلوچی کی جان کی قیمت(دیت) جَو، گندم یاکسی دوسری جنس کی ایک بوری کے برابر ہے۔چشم فلک نے وہ وقت بھی دیکھا جب بے گناہ، نہتے نان بلوچی سیٹلرز کی جان کی قیمت اتنی بھی نہ رہی۔ جب چاہا، انہیں قتل کر کے لاش پھینک دی گئی۔ یہ بھی عجب ستم ظریفی ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی بلوچ مسنگ پرسن کی لاش کہیں سے ملے تو اسے مسخ لاش کہا جاتا ہے، نان بلوچوں کی لاشوں کو بھی مسخ لاش کہنے کی زحمت نہیں کی جاتی۔ پچھلے سال ڈیڑھ میں ریاستی اداروں نے بھرپور آپریشن کر کے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا تھا، یہ مگر ختم نہیں ہوئے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی پھر سے ابھرتی لہر سے اندازہ ہو رہا ہے کہ معاملات دوبارہ سنگین صورت اختیار کر لیں گے۔ صوبائی حکومت، فورسز اور تمام ریاستی اداروں کو نہایت مستعد اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ کوئٹہ میں ہزارہ کو نشانہ بنانا، چمن میں فورسزپر حملہ اور اب بسوں سے مسافر اتار، شناختی کارڈ دیکھ کر گولی مارنا ایک ہی شیطانی کھیل کا حصہ ہے۔

اس بھیانک خبر کے بعد ویسے کالم میں کچھ اور لکھنے کی ضرورت نہیں رہتی، کچھ جگہ مگر ابھی باقی ہے۔ سیاسی پیش رفت پر لکھنا اخبارنویسوں کی مجبوری بھی ہے۔ تحریک انصاف کے معاشی جادوگراسد عمر کی رخصتی نہ صرف حکومت کے لئے بڑا دھچکا ہے ، بلکہ یہ ایک تبدیل شدہ سوچ اور نئے ٹرینڈ کی خبر دے رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسد عمر بری طرح ناکام ہوئے ۔ تحریک انصاف کے کسی ایک شخص کو اقتدار ملنے کی صورت میں وزارت ملنے کا یقین تھا تو وہ اسد عمر تھے۔ ہر ایک جانتا تھا کہ عمران خان وزیراعظم بنے تو ان کے وزیرخزانہ اسد عمر ہی ہوں گے۔ اندازہ یہی تھا کہ اسد عمر کے پاس معیشت چلانے کا ایک جامع منصوبہ موجود ہوگا۔ اقتدار میں آنے کے بعد اندازہ ہوا کہ اپوزیشن میں اعداد وشمار سے لیس شستہ تقریریں کرنا الگ بات ہے،معیشت چلانے کے مگر کچھ اور ہنر درکار ہے۔

وزارت خزانہ اسد عمر کی گرفت میں گویا آئی ہی نہیں، وہ پچھلے چند ماہ سے بس ٹامک ٹوئیاں ہی مارتے رہے ۔ وہ متضاد بیانات ہی دیتے رہے۔ بھلے آدمی، ضروری ہے کہ ہر روز میڈیا پر ایک بیان داغا جائے۔ آپ کو جو کرنا ہے، کرو،اس کے لئے اتنی سراسیمگی پھیلانے کی کیا ضرورت ؟اگر آدمی کے پاس کوئی پلان نہ ہو، تب بھی وہ اچھے مشیر اکٹھے کر کے متبادل پلان بنا سکتا ہے۔ اسد عمر اس میں بھی ناکام رہے۔اس وقت سب کو حیرت ہوئی جب وزیرخزانہ نے اپنا کام چھوڑ کر اپوزیشن لیڈروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ کبھی بلاول کی انگریزی تقریر پر طنز، کبھی کسی اور کو ٹارگٹ کرنا۔ بات واضح ہوگئی تھی کہ آنجناب کے پاس کرنے کو کچھ نہیں اور یہ سخت سیاسی بیانات صرف اپنے پرجوش وزیراعظم کو خوش کرنے کے لئے دئیے جا رہے ہیں۔ ایسا مگر چل نہیں سکتاتھا۔ کسی غیر اہم وزارت کا نالائق وزیر تو شائد کچھ عرصہ مزید نکال سکتا تھا، وزارت خزانہ مگر اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ اسد عمر اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔ اپنی آخری پریس کانفرنس میں ان کے دائیں بائیں کی کرسی خالی تھی۔ کامیابی کے سو وارث بنتے ہیں، ناکامی کو کوئی رشتے دار نہیں ملتا۔ ایک تجزیہ کار نے ٹوئٹ میں پھبتی کسی ، ایک آدمی دو خالی کرسیوں کے درمیان براجمان ہے، یہ ہے اختتام۔

اسد عمر کی کہانی ختم ہوئی، وزیراعظم عمران خان کے پاس غالباً یہ آخری بڑا موقعہ ہے کہ وہ وسیع پیمانے پر حکومت میں تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ کئی وزیر توقعات پر پورا نہیں اترے۔ حکمران جماعت کو قومی اسمبلی میں چند ارکان کی اکثریت حاصل ہے، زیادہ تبدیلی وہ افورڈ نہیں کر سکتی، مگر جس حد تک ہو سکتا ہے، تبدیلی ضرور لائی جائے۔ سب سے زیادہ ضرورت پنجاب میں ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو اب تبدیل کر دینا چاہیے۔ عمران خان نے ممکن ہے یہ فیصلہ کچھ سوچ سمجھ کر کیا ہو۔ حالات اور وقت نے اسے سو فی صد غلط ثابت کیا۔ پنجاب کی سب سے پسماندہ تحصیل کے عثمان بزدار اتنے بڑے منصب کے لئے تیار تھے اور نہ ہی ان میں ایسی مخفی صلاحیت تھی جو اس بڑے چیلنج کا مقابلہ کر سکتی۔ ان کا قصور نہیں۔یہ ایسا ہی ہوا کہ کسی نوجوان کھلاڑی کو جس میں پریشر لینے کی صلاحیت نہیں، اسے مناسب تجربہ دلائے اور گروم کئے بغیر ہی ورلڈ کپ کھلا دیا جائے۔ ہر کھلاڑی انضمام ، مشتاق یاوقار، وسیم نہیں ہوتا۔دنیا بھر میں کئی کھلاڑی قبل از وقت کھلائے جانے پر ناکام ہوئے۔

ویسے بعض میں انٹرنیشنل سطح پر کھیلنے کا ٹمپرامنٹ ہی نہیں ہوتا، گرومنگ اور تجربہ بھی انہیں اس اہل نہیں کر پاتا۔ عمران خان یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ عثمان بزدار پر مزید وقت ضائع کرنے کے بجائے کسی دوسرے نوجوان، ٹیلنٹیڈ سیاستدان کو موقعہ ملنا چاہیے۔ اگر وہ سرائیکی خطے سے وزیراعلیٰ رکھنا چاہتے ہیں تو حسنین بہادر دریشک جیسی آپشن پر غور کریں۔ سرائیکیوں کو ایک ایسا سمارٹ، اہل نمائندہ چاہیے جو ڈیلیور کرے اور سرائیکیوں کے لئے باعث افتخار بھی ثابت ہو۔ خان صاحب کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وقت کا تیز رفتار ریلا ہر بار غلطیاں سدھارنے کا موقعہ نہیں دیتا۔ اسد عمر کی تبدیلی کے ساتھ وہ اپنی دیگر غلطیاں بھی سنوار سکتے ہیں۔ ممکن ہے بعد میں اس کی مہلت نہ ملے۔