Original Articles Urdu Articles

بسمہ امجد کے آنسو کمرشل لبرل مافیا کے کسی بڑے کو نظر نہ آئے ۔ کیوں؟

بسمہ امجد شہید سانحہ ماڈل ٹاؤن تنزیلہ امجد کی بیٹی اور دوسری شہید شاذیہ کی بھتیجی ہے آج ساڑھے چار گھنٹے وہ لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس سردار شمیم کے کمرہ عدالت میں چار صفحات پہ لکھی درخواست لیکر ملاقات کی آس لیکر بیٹھی رہی اور پھر اس سے نہ صرف ملنے سے انکار کیا گیا بلکہ اس کی درخواست تک وصول نہیں کی گئی۔

بسمہ امجد یہ توقع لیکر جسٹس سردار شمیم کے کمرہ عدالت کے باہر بیٹھی رہی کہ یہ وہ جج ہے جو درخواست گزاروں کو چھٹی کے دن بھی سنتا اور ریلیف دیتا ہے۔ لیکن آج کام کے اوقات میں بھی اسے کئی گھنٹے انتظار کے بعد مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

کیا اس لیے کہ وہ اس ملک کی اشرافیہ سے تعلق نہیں رکھتی، ایک عام سی پولیس کی گولیاں کھاکر مرنے والی ایک عورت کی بیٹی اور ایک کی بھتیجی ہے؟

کیا بسمہ امجد کو یہ پوچھنے کا اختیار نہیں ہے کہ اس کی ماں تنزیلہ امجد اور پھوپھی شاذیہ کو 17 جون 2014ء میں پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے کس کے کہنے پہ منہ اور سر پہ گولیاں مار کر قتل کیا تھا؟

کیا بسمہ امجد کو انصاف نہیں ملنا چاہئیے؟ آخر 5 سال گزرنے کے بعد بھی ذمہ داروں کا تعین کیوں نہیں ہوسکا؟

کیا پاکستان کی عدالتی اسٹبلشمنٹ جو اس وقت وفاداریوں کے لحاظ سے نواز شریف اور عمران خان کے کیمپ میں تقسیم ہے حق اور مخالفت میں فیصلے اپنی وفاداریوں کے تناظر میں دیتی رہے گی؟

آج میں نے دیکھا ہے کہ جو نواز شریف کا وفادار کیمپ ہے اس نے ‘بسمہ امجد ‘ کے آنسوؤں پہ زرا دھیان نہیں دیا۔ اس کیمپ میں کئی بڑے لبرل نام شامل ہیں ،،،،،

جبکہ اگر یہ بسمہ امجد عمران خان کے کیمپ کے کسی آدمی کے خلاف انصاف لینے لاہور ہائیکورٹ پہنچی ہوتی اور وہاں سے روتے ہوئے واپس آتی تو آپ اس کیمپ کے بڑے بڑے ناموں کی اچھل کود دیکھتے اور پھر مقابلے میں یوتھیا کیمپ کی خاموشی کا نظارہ بھی کرلیتے۔