Original Articles Urdu Articles

مذھبی جبر اور شیعہ نسل کشی کی کمپئن کا خاتمہ کیوں نہیں ہوتا؟ – عامر حسینی

جسٹس فائز عیسی کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تحریک لبیک کے دھرنے بارے دیے گئے فیصلے کے خلاف سات نظرثانی کی درخواستیں دائر۔ آئی ایس آئی نے بھی اٹارنی جنرل پاکستان کے ذریعے سے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کردی۔
اس کیس پہ نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کے لیے تیس دن کی حد کو بھی ختم کیا گیا۔

آئی ایس آئی کا موقف ہے کہ اس فیصلے میں مسلح افواج، سول و ملٹری خفیہ اداروں کے ذمہ داران کو ( فیصلے میں کسی کا نام نہیں لیا گیا) کو آئین میں دی گئی حدود سے تجاوز کرنے، سیاسی عمل میں مداخلت اور تحریک لبیک کو اختیارات سے تجاوز کرکے سہولت فراہم پہنچانے کو اختیارات سے تجاوز قرار دیا گیا۔

آئی ایس آئی کا موقف ہے کہ اس فیصلے سے سیکورٹی اداروں اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کی دہشت گردی کا گند ختم کرنے کے لیے جو کوششیں ہیں ان کو دھچکا لگا ہے اور ان کا مورال بھی ڈاءون ہوا ہے۔

آئی ایس آئی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس فیصلے کو لیکر پاکستان کے دشمنوں کو مزید پروپیگنڈے کا موقعہ ملے گا۔ اور فوج اور سیکورٹی اداروں کے خلاف جاری (مبینہ) عالمی کمپئن کو تقویت ملے گی۔

جسٹس فائز عیسی بنچ نے دھرنے پہ جو فیصلہ دیا اس کے بارے میں اکثر ماہرین قانون کی رائے یہ تھی اور ہے کہ اطلاق اور عملی طور پہ اقدامات اٹھائے جانے کے لحاظ سے یہ بے ضرر اور بے اثر فیصلہ ہے۔ کیونکہ اس میں مسلح افواج، آئی ایس آئی، آئی بی،ملٹری انٹیلی جنس کسی سے تعلق رکھنے والے کسی مجاز افسر یا اہلکار کا نام سامنے نہیں آیا اور نہ اس پہ ذمہ داری ڈالی گئی۔

جسٹس فائز عیسی اس وقت نواز شریف کو قومی جمہوری انقلاب کا قائد اور لبرل جمہوریت کی بالادستی کے لیے اقتدار قربان کرنے والا بناکر پیش کرنے والے لبرل اشراف صحافیوں، تجزیہ کاروں اور کالم نگاروں کے ھیرو اور نواز شریف کی قائم کردہ بادشاہت کی حامی قوت جو اسٹیبلشمنٹ بشمول فوج، عدلیہ، سول نوکر شاہی میں موجود ہے کے خلاف سرگرم دوسرا دھڑا جسٹس فائز عیسی کو ولن مانتا ہے۔ دونوں دھڑے اس وقت ہیروز اور ولن کی تقسیم دکھاتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی نہ تو عدالتی ریفارمز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں اور مسلح افواج کے افسران کو آئین کی مقررہ حدود میں کام کرنے کو یقینی بنانے کے لیے درکار اصلاحات پہ کوئی بات کرتا ہے اور نہ ہی اصل مسئلے کی جڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔
نواز شریف کی مسلم لیگ نواز نہ تو نیب کے قانون کو بدلنے پہ راضی ہوئی اور نہ ہی اس نے عدالتی ریفارمز کے سوال کو افتخار چودھری سمیت ایک دفعہ کے پی سی او ججز کی بحالی کے مطالبے سے اوپر اٹھ کر دیکھنے کی کوشش کی۔

ہم بجا طور پہ محسوس کرسکتے ہیں کہ نواز شریف کے حامی کمرشل لبرل مافیا نے جس طرح کی منظم مہم تحریک لبیک کے خلاف لانچ کی اور اس فلم کو ڈبے میں بند کرانے کے لیے جس سطح پہ جاکر زور لگایا اس طرح کا علمی و صحافتی جہاد اس ٹولے نے سپاہ صحابہ، لال مسجد بریگیڈ اور ان مذھبی جنونیوں کے خلاف نہیں کیا جو پاکستان میں شیعہ، صوفی سنی، اعتدال پسند دیوبندی، اھلحدیث، کرسچن، ہندءو، سکھوں کی عبادت گاہوں، مزارات، مساجد، امام بارگاہوں، گرجا گھروں، مندروں اور گردواروں پہ حملوں میں ملوث اور پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے شیعہ قتل عام میں ملوث تھے اور ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ اور دائیں بازو کے سیاسی دھڑے چاہے وہ نواز شریف کے کیمپ سے ہوں یا پی ٹی آئی کیمپ سے ہوں وہ تحریک لبیک کے خلاف تو غداری کے مقدمات تک کے قیام کی جانب جاتے ہیں۔ بڑا کریک ڈاءون دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن اس طرح کا آپریشن دہشت گردی اور انتہاپسندی کی بڑی پروفائل رکھنے والی سپاہ صحابہ /اہل سنت والجماعت کے خلاف دیکھنے کو کہیں نہیں ملتا۔ کیوں؟ پاکستان کے مین سٹریم اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا جس شدت سے تحریک لبیک کے خلاف سامنے آتا ہے وہ شدت ہمیں سپاہ صحابہ کے باب میں نظر نہیں آتی کیوں؟

آخر دہشت گردی اور مذھبی جنونیت سے لتھڑی تکفیری ذھنیت کے خلاف پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور دائیں بازو کے جملہ سیاسی دھڑوں اور ان میں تقسیم مین سڑیم پریس و سول سوسائٹی کا ردعمل ہے کیا ؟

جس کا وائلنس، انتہاپسندی کا پروفائل چھوٹا ہو اور دہشت گردی میں ماس سکیل پہ ملوث ہونے کا ثبوت ہی نہ ہو وہ تنظیم سپریم کورٹ کے فیصلوں میں اپنے انجام کو پہنچے۔

اس تنظیم کی مرکزی قیادت ریاست کی مدعیت میں غداری، دہشت گردی کے مقدمات کا سامنا کرے۔

اس تنظیم کے گراس روٹ لیول کے کارکن تین ایم پی او کے تحت گرفتاریوں اور نظر بندی کا سامنا کرے۔

اس تنظیم کو الیکشن کمیشن میں بطور سیاسی پارٹی رجسٹریشن ملنے پہ سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن سے باز پرس ہو ۔۔۔۔۔

جس تنظیم کا دہشت گردی، انتہا پسندی اور بڑے پیمانے پہ اقلیتوں اور یہاں تک کہ مذھبی اکثریت صوفی سنی مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے، ان کو کمتر بنانے کا ریکارڈ ہو، جس کی شیعہ کے خلاف مذھبی منافرت کی مہم کا نتیجہ 26 ہزار شیعہ بشمول آٹھ سو ڈاکٹرز، کئی درجن اساتذہ، شعراء ، ادیب، مذھبی دانشوروں کا قتل ہو اور شیعہ کمیونٹی کے اندر گھیٹوز کا بڑھتا ہوا رحجان ہو، مذھبی جبر کی بنا پہ تارک الوطنی ہو، جو تنظیم کوئٹہ کے گراونڈ میں سو ہزارہ کے مارے جانے کو سنچری اسکور قرار دے کر جشن منائے اور سربراہ اہل سنت والجماعت/ سپاہ صحابہ محمد احمد لدھیانوی اس کی صدارت کرے اور پھر ہم کبھی اس تنظیم کی قیادت کو نواز شریف بطور وزیراعظم یا وزیر داخلہ چودھری نثار یا صدر پاکستان ممنون حسین یا چیف منسٹر پنجاب شہباز شریف یا چیفس آف آرمی سٹاف اشفاق پرویز کیانی، راحیل شریف، قمر باجوہ کے ساتھ دیکھیں۔ پھر پی ٹی آئی کے وفاقی منسٹر شہریار آفریدی کے ڈنر میں وفاقی وزیر کے ساتھ ایک ٹیبل پہ دیکھیں۔

کون سا سپریم کورٹ یا بلوچستان، لاہور، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس تھے جنھوں نے اس تنظیم کے خلاف سو موٹو نوٹس لیا ہو؟ کوئٹہ سنچری جشن پہ ہی لے لیا ہوتا لیکن نہیں لیا۔

حکومت، فوج آئی ایس آئی سمیت خفیہ ایجنسیوں اور سیکورٹی اداروں کے سربراہوں کو اپنے اداروں کے مورال کا بہت خیال ہے۔ عدلیہ کے جج صاحبان اپنے ادارے کی عزت بارے بہت حساس ہیں۔ لیکن ان اداروں کے ذمہ داروں کی تصاویر جب کالعدم و دہشت گرد و فرقہ پرست تنظیموں کے ساتھ دکھائی دیتی ہیں تب کیا دہشت گردی کا شکار ہونے والے، فرقہ پرستی اور مذھبی جنونیت کے سبب عدم تحفظ کے احساس کا شکار اقلیتوں کا مورال بلند ہوتا ہے؟

ہمارا یہ احساس گہرے سے گہرا ہوتا جارہا ہے کہ حکومت اور اداروں کا مذھبی منافرت کے وسیع پروفائل رکھنے اور نسل کشی کی حد تک جانے والے تکفیری عناصر کی طرف رویہ نرمی کا ہے اور میزبانی کا ہے۔ اور اس نرمی و میزبانی کی طرف خود کمرشل لبرل مافیا بھی نرم ہی ہے جبکہ تحریک لبیک جیسی تنظیموں کے معاملے میں کمرشل لبرل کا رویہ جتنا سخت اور جس قدر غیظ و غضب والا ہے وہ دہشت گردی کی بڑی پروفائل رکھنے والوں کی طرف نہیں ہے۔

شیعہ کے خلاف مذھبی جبر نسل کشی کی حد تک پہنچا ہوا ہے۔اور جو اس جبر اور نسل کشی کی مہم چلانے والے ہیں ان کے ساتھ حکومتی وزراء اور ریاستی اداروں کے سربراہوں کے یارانے ہیں۔ یہ روش پاکستان میں مذھبی جبر کے ختم نہ ہونے میں اب سے بڑی روکاوٹ ہے۔

کچھ تصویریں ضرور ملاحظہ کیجیے گا….. ایسی سینکڑوں تصاویر آپ کو بتا دیں گی کہ مذھبی جبر اور شیعہ نسل کشی کی مہم کیوں ختم نہیں ہوتی؟