Original Articles Urdu Articles

لشکر جھنگوی : جھنگ میں یا کوئٹہ میں ؟ (حصہ اول) – گل زہرا رضوی

چار دن قبل کوئٹہ ہزار گنجی کے مقام پر دہشتگردوں نے کاروائی کی جسکے نتیجے میں بیس ہزارہ افراد شہید ہو گئے ۔ ان بیس میں سے انیس کا تعلق شیعہ مسلک سے تھا ۔ تادم_تحریر شہداء کے ورثاء اور کچھ مقامی ہزارہ افراد کوئٹہ میں احتجاجی دھرنا جاری رکھے ہیں ۔ دھرنے کے دوران کچھ مقررین نے تقریر کرتے اور کچھ ہزارہ ایکٹوسٹس نے بصورت دیگر یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ یہ حملہ فرقہ وارانہ نہیں تھا ، شیعہ مسلک پر نہیں تھا بلکہ یہ مسئلہ بلوچستان کے مسئلے کیساتھ جڑا ہوا ہے ۔ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ لشکر جھنگوی پنجاب میں ہے جہاں شیعوں کے گھروں پر علم لگے ہوئے ہیں ، وہاں چھوڑ کر کوئٹہ میں ہزارہ شیعوں پر ہی کیوں حملہ کرنا ؟ تو چنانچہ یہ شیعہ مسلک پر حملہ نہیں بلکہ ہزارہ قوم پر بلوچستان ایشو کیوجہ سے حملہ ہے ۔

اس موضوع پر میں نے کچھ دن پہلے ایک تحقیق “ہزارہ نسل کشی یا ہزارہ شیعہ نسل کشی” کی تھی جس میں یہ ظاہر تھا کہ کوئٹہ میں ہونے والے نوے فیصد حملے ہزارہ شیعوں پر ہوتے ہیں نہ کہ ہزارہ قوم پر ۔ آج میں اس دوسرے سوال یعنی لشکر جھنگوی جھنگ چھوڑ کر کوئٹہ میں حملے کیوں کریگی ، کا جواب دینے کی کوشش کرتی ہوں ۔

اس بات سے تو آپ واقف ہونگے کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا آغاز جنرل ضیاء الحق کے دور میں سال 1984ء سے اس وقت ہوا جب جھنگ میں انجمن سپاہ صحابہ کی بنیاد رکھی گئی ۔ اسوقت سے اب تک پاکستان میں پچیس ہزار کے قریب شیعہ ، کراچی کوئٹہ سے لیکر گلگت بلتستان تک ، لشکر جھنگوی اور اسکی ہم خیال تکفیری تنظیموں کا نشانہ بن چکے ہیں ۔ زیر نظر چارٹ عارف رفیق کی ایک رپورٹ سے لیا گیا ہے جس میں 2007 سے 2013 کے دوران ہونے والی شیعہ نسل کشی کی وارداتوں کو صوبوں کے حساب سے دکھایا گیا ہے ۔ پنجاب میں ایسی کاروائیاں اسلام آباد کیبعد سب سے کم ہیں ۔ دوسری تصویر میں سپہ صحابہ لشکر جھنگوی کی کانفرنسوں کے مقامات دکھائے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گروہ سب سے زیادہ فٹ پرنٹ پنجاب میں رکھتی ہے ۔

اگرچہ لشکر جھنگوی، سپہ صحابہ کی بنیاد جھنگ میں رکھی گئی اور اس گروہ کا نیٹورک پنجاب میں مضبوط ترین ہے ، اسکے باوجود ہمیں دہشتگردی کی سب سے کم وارداتیں پنجاب میں ہی کیوں نظر آتی ہیں ، آئیے اسکی وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔

غالبا مئی 2012 کی بات ہے جب معاویہ اعظم نے سرگودھا میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دس سال تنظیم نے بہت مشکلات دیکھیں ، جب مشرف کا دور تھا ۔ ہمیں فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا ، گرفتاریاں ہوئیں لیکن اب “اسلام کا دشمن” (یعنی مشرف) جا چکا ہے ۔ سورج طلوع ہو چکا ہے اور ہماری منزل قریب ہے ۔ معاویہ اعظم کی یہ تقریر درحقیقت نون لیگ کے دیئے گئے اعتماد کی غماز تھی جو شہباز شریف بحیثیت وزیر اعلی پنجاب دے چکے تھے ۔ 2011 میں نون لیگ نے لشکر جھنگوی کے بانی ملک اسحاق کو چودہ سال کی قید کیبعد رہا کر دیا ، یہ رہائی شہباز شریف اور لشکر جھنگوی/ سپہ صحابہ کی سیاسی ڈیل کا نتیجہ تھی ۔ اس رہائی کے بدلے نون لیگ کو پنجاب میں سپہ صحابہ کا ووٹ بنک درکار تھا جو احمد لدھیانوی کے دعوے کے مطابق پنجاب میں ساٹھ ہزار کے قریب ہے ۔ یاد رہے یہ وہی ملک اسحاق ہے جس نے خود اعتراف کیا کہ وہ سو سے زیادہ قتل کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے ۔ چودہ سالہ قید کے دوران اس پر کئی مقدمات چلے اور حیران کن طور پر اسکے مقدمے کی سماعت کرنے والے ججز، گواہوں حتی پولیس والوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ ملک اسحاق نے خود ایک گواہ کو جج کی موجودگی میں کہا ” مردے بات نہیں کرتے” ۔ ان تمام باتوں کے باوجود نون لیگ نے ملک اسحاق کو آزاد کیا ، سپہ صحابہ کیساتھ سیاسی اتحاد کیا اور کئی رہنمائوں (بشمول شہباز شریف ، رانا ثناء اللہ) نے سپہ صحابہ کے رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں ۔

یہ تمام ملاقاتیں ، آزادیاں اس ڈیل کا نتیجہ تھیں جسکے مطابق سپہ صحابہ کو اپنا ووٹ نون لیگ کو ڈالنا تھا ، نوں لیگ کو سپہ صحابہ کو سپورٹ کرنا تھا اور سپہ صحابہ نے پنجاب میں کہ جہاں نون لیگ کی صوبائی حکومت ہوتی ، کم سے کم نون کے دور حکومت میں امن قائم رکھنا تھا ۔

آزاد ہونے کے دو مہینے بعد ہی ملک اسحاق نے اعلان کیا کہ صحابہ کے دشمنوں کیخلاف جنگ جاری رہیگی ۔ ایسے کئی شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ملک اسحاق بلوچستان میں بھی ہزارہ شیعوں پر حملوں میں ملوث تھا ۔ فروری 2014 میں جیو نیوز پر ایک رپورٹ نشر ہوئی جس میں پنجاب پولیس کا حوالہ دیتے کہا گیا کہ ملک اسحاق آزادی کیبعد بھی لشکر جھنگوی کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے ۔

یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ ملک اسحاق کی آزادی کیساتھ نون لیگ نے جھنگ میں 2002 سے بند پڑے سپہ صحابہ کا دفتر کھلوا دیا ۔ ظاہر ہے ، یہ بھی اسی سیاسی ڈیل کا حصہ تھی جسکا ذکر اوپر ہو چکا ہے ۔ نون لیگ نے اپنے ووٹ بنک ، صوبے میں وقتی امن کی شرط پر بقایا قوم کا ایسا نقصان کیا جسکا ازالہ آجتک ممکن نہ ہو سکا ۔ جس دوران سپہ صحابہ کو پنجاب میں کھل کھیلنے ، تنظیم سازی کرنے کی اجازت تھی ، س دوران اس گروہ نے اپنے ہاتھ پائوں پورے ملک میں مضبوط کئے ۔ نئے دفاتر قائم کئے ، ممبرز کی تعداد میں اضافہ کیا ۔ سپہ صحابہ نے بدلے میں نون لیگ کے سیاسی امیدواروں کو سپورٹ کیا حتی لدھیانوی خود PP-82 میں رانا ثناء اللہ کیلئے الیکشن کیمپین چلاتا رہا ۔ شہباز شریف کے مد مقابل سپہ صحابہ کے امیدواروں کو بٹھا دیا گیا اور وہ بھکر میں بلا مقابلہ الیکشن جیتتا رہا ۔ نون لیگ کے عقیل انجم نے سپہ صحابہ کیساتھ سیاسی اتحاد کیا ، اسی طرح نون لیگ نے سپہ صحابہ کے عابد رضا جیسے کارکن امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دیئے ۔ سپہ صحابہ لشکر جھنگوی کے سیکرٹری جنرل خادم دھلون نے یہاں تک کہا کہ ہمارے ہر حلقے میں ہزاروں ووٹ ہیں اور نون لیگ کے پاس ہمارا دروازہ کھٹکھٹائے بغیر کوئی چارا نہیں ۔

یہ ہے نون لیگ اور لشکر جھنگوی سپہ صحابہ کی عجب پریم کی غضب کہانی

نون لیگ کے اس وقتی معاشقے نے پنجاب کو تو دہشتگردی کی وارداتوں سے نسبتا محفوظ رکھا ، لیکن کراچی اور بلوچستان بالخصوص کوئٹہ کو اسکی بھاری قیمت چکانی پڑی ۔ آپکو یاد ہو کہ 90 کی دہائی میں پنجاب تکفیری دہشتگردوں کی ہٹ لسٹ پر تھا اور اس صوبے میں کئی اہم شیعہ شخصیات کو شہید کیا گیا ۔ نون لیگ نے اپنی صوبائی حکومت کو بچانے ، اپنا ووٹ بنک قائم کرنے کو ایک شارٹ ٹرم ڈیل کی ، جسکے لونگ ٹرم اثرات نہایت بھیانک ہیں ۔ دوسرے صوبے تو اسکے اثرات دیکھ ہی رہے ہیں ، محفوظ خود پنجاب بھی نہیں ۔ اس سیاسی ڈیل کی وجہ سے لشکر جھنگوی سپہ صحابہ کو نیٹورکنگ کا موقع ملا ، رپورٹس کے مطابق اس گروہ نے اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کر لیا ۔بیچ میں کئی بار لدھیانوی اور نون لیگ کے درمیان قومی اسمبلی کی نشستوں پر گرما گرمی بھی ہوئی ، دونوں ایکدوسرے کو دھمکاتے رہے ۔ اب بھی نون لیگ کا اس متشدد دہشتگرد گروہ کیساتھ سیاسی اتحاد بارود کا ڈھیر ہے ، وقت پڑنے پر یہ گروہ اس ڈھیر کو آگ لگانے سے نہیں چوکتا، 2013 کا سانحہ راولپنڈی اسکی ایک مثال ہے ۔ ایک اور بڑا نقصان یہ بھی ہوا کہ لشکر جھنگوی کے ہم خیال گروہوں کو پنجاب میں قدم جمانے میں مدد ملی جس میں کالعدم تحریک طالبان سرفہرست ہے ۔ احمد علی انتقامی ، تحریک طالبان کے پنڈی چیپٹر کے لیڈر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا شیعہ قوم جلسے جلوسوں کی نہیں صرف گولی کی زبان سمجھتی ہے ، ساتھ ہی سپہ صحابہ کے کارکنوں کو جلسے چھوڑ کر تحریک طالبان کے کیمپ میں آنے کی ترغیب دی ۔ یہ وہی احمد علی انتقامی ہے جس نے علامہ ناصر عباس پر قاتلانہ حملہ کیا تھا اور وہ شہید ہو گئے تھے ۔

یہاں تک قارئین سمجھ گئے ہونگے کہ اس سوال کہ لشکر جھنگوی جھنگ میں ہونے کے باوجود وہاں حملے کیوں نہیں کرتی ، کا جواب کیا ہے ۔ سوال کے اگلے حصے یعنی لشکر جھنگوی کوئٹہ میں ہی بھلا حملے کیوں کریگی، کا جواب تحریر کے دوسرے حصے میں دونگی ۔

فی الحال اتنا یاد رکھئے کہ سچ کو چھپانا ، جرم ہے اور آدھا سچ بتانا اس سے بھی بڑا جرم ۔ آپ مجرم کی شناخت چھپا رہے ہیں ، اسکا مسلک چھپا رہے ہیں تو بہت بڑا گناہ کر رہے ہیں ۔ ساتھ ہی اگر آپ مظلوم کی شناخت بھی چھپائیں اور اسے بدل کر میڈیا و عوام کے سامنے پیش کریں تو یہ گناہ پہلے والے گناہ سے بھی بڑا ہے ۔ پاکستان میں شیعہ مسلک کے افراد کو انکے عقیدے کی بناء پر مارا جا رہا ہے ، تسلسل سے مارا جا رہا ہے ، ہزارہ شیعوں پر حملے بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ اس حقیقت کو چھپائیں مت ، چھپائیں گے تو آپ مظلوم کیساتھ نہیں ظالم کیساتھ ہیں ۔