Original Articles Urdu Articles

ہزارہ نسل کشی یا ہزارہ شیعہ نسل کشی؟

کوئٹہ میں شہید ہونے والے آٹھ ہزارہ شیعوں کو دفنا دیا گیا ۔ بہشت_زینب قبرستان میں علم والی مزید آٹھ قبروں کا اضافہ ہو گیا ، یا یوں کہہ دوں بہشت_زینب میں آٹھ اور سرخ گلاب لگ گئے ۔

ہزارہ شیعہ اب نہیں ، ضیاء الحق کے دور یعنی 1980 سے بالخصوص کوئٹہ میں تکفیری گروہوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں ۔ 6 جولائی 1985 کو جب ہزارہ برادری نے محرم کا جلوس نکالا تو اس پر ضیاء الحق کے پالے وردی پوش غنڈوں نے فائرنگ کی ، تیس افراد شہید ہوئے ۔ وہ دن اور آجکا دن ، ہزارہ شیعوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے ۔ لشکر_جھنگوی کے کھلے دھمکی آمیز خط کیبعد اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ان افراد کو انکے شیعہ مسلک کی بناء پر قتل کرنے والی دیوبندی فکر کی حامل لشکر جھنگوی / سپہ صحابہ ہے ۔ ٹارگٹ کلنگ میں ہزارہ شیعہ علماء ، پروفیشنلز اور عام افراد کو مارا جاتا اور لشکر جھنگوی کا ملک اسحاق کھلے عام بڑے فخر سے اسکا اعلان کرتا ۔ ہزارہ شیعوں پر اور قیامت اسوقت ٹوٹی جب سپہ صحابہ کا بانی اعظم طارق ایم این اے بنا ، اور کوئٹہ میں شیعہ نسل کشی زور پکڑ گئی ۔ سینکڑوں کی تعداد میں ہزارہ شیعہ ہجرت کر گئے ، جو وطن سے محبت لئے بیٹھےرہے ، ان میں اکثر آج منوں مٹی تلے سو رہے ہیں ۔ ان میں ہائی پروفائل افراد بھی ہیں اور عام لوگ بھی ۔

یہاں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے ۔ ہزارہ نسل کشی ، ہزارہ شیعہ نسل کشی ہے ۔ ظاہر ہے ہزارہ وال کو اسلئے نہیں مارا جاتا کہ وہ پاکستانی ہیں بلکہ اسلئے مارا جاتا ہے کہ ہزارہ کی اکثریت شیعہ ہے اور آسان ہدف اسلئے کہ یہ لوگ اپنے مخصوص خدو خال کیوجہ سے باآسانی پہچانے جاتے ہیں ۔کچھ کمرشل لبرلز اپنے فکری مغالطے میں مبتلا اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ یہ فرقے کی بنیاد پر قتل نہیں ہوتے ۔ ایسے لوگوں کیلئے ذیل میں کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر ہونے والے حملوں کی تفصیل دے رہی ہوں ۔ مقام دیکھئے ، جگہ دیکھئے ، نام دیکھئے اور پھر بھی تسلی نہ ہو تو دیکھئے قتل کیبعد انکی لاشیں امامبارگاہ میں ہی کیوں رکھی جاتی ہیں ۔ پھر بھی تسلی نہ ہو تو جائیے ، بہشت_زینب کا ایک چکر لگا آئیے ۔ ان لوگوں کی قبروں کے کتبے، کتبوں پر پنجتن کے نام اور ابوالفضل کا علم آپکے غلط بیانئے کی جڑیں خود اکھاڑ دیگا ۔ ہزارہ برادری پر ہونے والے چند بڑے حملے درج ذیل ہیں:

۔ 2001 میں علمدار روڈ پر آٹھ افراد کو گولیاں ماری گئیں ، ذمہ داری لشکر جھنگوی نے قبول کی
۔ 2003 میں کوئٹہ میں شیعوں کی مسجد پر نماز جمعہ کے دوران حملہ ہوا جس میں پچاس افراد شہید اور ڈیڑھ سو زخمی ہوئے
۔ 2004 میں کوئٹہ عاشورہ کے جلوس پر پہلے فائرنگ اسکے بعد بم دھماکہ ہوا جس سے 60 شیعہ شہید اور سو سے زیادہ شدید زخمی ہوئے
۔ 2007 میں آغا غلام علی کو شہید کیا گیا ، انکے والد آغا عباس علی کو بھی 2002 میں شہید کیا گیا تھا ۔ نام سے آپکو مسلک کا اندازہ ہو ہی گیا ہو گا ۔
۔ 2010 میں القدس ریلی پر حملہ ہوا، پچھتر افراد شہید اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے ۔ طالبان نے ذمہ داری قبول کرتے کہا یہ شیعہ “کافروں” کیلئے سزا ہے۔
۔ 2011 میں پاکستانی اولمپیئن باکسر ابرار حسین کو لشکر جھنگوی نے شہید کیا
۔ 2011 میں ہی شیعوں کی عید گاہ پر نماز عید کے دوران خود کش حملہ ہوا ، تیس افراد شہید اور بائیس زخمی ہوئے
۔ 2011 میں ہی سانحہ مستونگ ہوا جب تافتان بارڈر کے قریب زائرین کی بسوں کو روکا گیا اور گولیوں سے بھون دیا گیا ۔ اس میں چھبیس شیعہ شہید ہوئے
 ۔ 2011 میں ہی مزید پانچ شیعوں کو کوئٹہ میں وین روک کر فائرنگ کیبعد شہید کر دیا گیا
۔ مارچ 2012 میں سپنی روڈ پر وین پر گولیوں کی بارش کی گئی جس سے سات شیعہ شہید ہوئے ۔ یہ بھی ہائی پروفائل افراد تھے اور یو این او میں کام کرتے تھے ۔
۔ 2012 میں 3 اپریل کو علی اکبر اور علی رضا کو شہید کیا گیا ۔ چھے دن بعد 9 اپریل کو مزید چھے شیعوں کو پرنس روڈ پر شہید کیا گیا ۔ اسکے تین دن بعد 12 اپریل کو تین شیعہ بزنس من، ایک شیعہ چائے کے تاجر، دو شیعہ جو آئس کریم پارلرز کے مالکان تھے کو ٹارگٹ کل کیا گیا ۔ 14 اپریل کو آٹھ ، 21 اپریل کو مزید دو شیعوں کو شہید کیا گیا ۔ ان سب کی ذمہ داری لشکر جھنگوی نے قبول کی ۔
۔ 2013 جنوری علمدار روڈ کا سانحہ کسے بھول سکتا ہے ؟ کئی دھماکوں کے نتیجے میں ڈیڑھ سو کے قریب شیعہ شہید ہوئے اور ڈھائی سو سے اوپر زخمی ہوئے
۔ 2013 فروری میں پھر شیعوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ بم دھماکوں کے نتیجے میں 73 شہید اور دو سو زخمی ہوئے

آپ یقین کریں یہ فہرست بہت بہت لمبی ہے ۔ اس میں ابھی سپنی روڈ پر شہید ہونے والے موٹر مکینک بھی شامل ہونگے، وہ باپ بیٹا بھی جنہیں انکی دکان پر شہید کیا گیا اور وہ شیعہ نوجوان بھی جسے بازار کے بیچ میں گولیاں ماری گئیں ۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں ، شیعوں کی نسل کشی ہے ۔ یہ صرف جنازے نہیں ، ایک مسلک پر ہونے والے حملوں کے ثبوت ہیں ۔ یہ علم کا نشان لیے قبریں نہیں ، پاکستان میں شیعوں کی مظلومیت کا اعلان ہیں ۔ ایک بہت بنیادی اور سادہ ڈیسک ریسرچ آپکو ان تمام واقعات کے لنکس، شواہد فراہم کر دے گی ۔

افسوس تب ہوتا ہے جب کوئی جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتا کہ آخر کیوں شیعوں کو اتنے جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس تب ہوتا ہےجب یہ اعداد و شمار ، یہ حقائق ، یہ قبروں کی قطاریں دیکھ کر بھی شیعہ نسل کشی کا انکار ہوتا ہے۔

لیکن سب سے زیادہ افسوس اسوقت ہوتا ہےجب کمرشل لبرلز اپنے ذاتی مالی و نفسانی مفادات کی خاطر شیعہ نسل کشی کو محض ایک برادری پر حملے کا نام دیکر غلط بیانی کرتے ہیں ۔

میں پاکستان میں خون کی ہولی کھیلنے والی تکفیری کالعدم جماعتوں پر دل سے لعنت بھیجتی ہوں ۔ میں ان جماعتوں کے سرپرستوں پر بھی دل سے لعنت بھیجتی ہوں اور ساتھ ہی ان کمرشل لبرلز پر جو اس مظلوم قوم شیعہ کا ساتھ دینے کے بجائے اسکے خون کا سودا کرتے ہیں ، ان پر بھی دل سے لعنت بھیجتی ہوں ۔ یہ سب بالواسطہ یا بلاواسطہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی میں ملوث ہیں