Original Articles Urdu Articles

زرداری فوبیا کا گرفتار میڈیا ۔ عامر حسینی

کل سندھ ہائیکورٹ کے بنچ نے مبینہ جعلی کھاتے کیس کی سماعت نیب راولپنڈی منتقل کرنے کے خلاف آصف علی زرداری اور دیگر کی درخواست کو مسترد کردیا۔

اس خبر پہ انگریزی روزنامہ ڈان نے اپنی تین اپریل کی اشاعت میں بیک پیج پہ تین کالمی سرخی جمائی

SHC Throws Out Zardari’s plea against transfer of fake accounts case

اس سرخی کا اردو میں ممکنہ ترجمہ یہ بنتا ہے کہ

سندھ ہائیکورٹ نے آصف علی زرداری کی جعلی کھاتے کیس کی منتقلی کے خلاف درخواست اٹھاکر باہر پھینک دی۔۔۔۔

جبکہ ڈی نیوز، ٹرائبیون ایکسپریس، ڈی نیشن ، پاکستان ٹوڈے، جیو انگلش سب نے لفاظ ڈس مس یا ریجیکٹ کے الفاظ اپنی سرخیوں میں استعمال کیے۔

جعلی کھاتوں کے کیس میں ڈان میڈیا گروپ کے اس انگریزی روزنامے کی رپورٹنگ اور اداریے دونوں کے دونوں جانبدار نظر آئے اور ساتھ متعصب بھی۔

روزنامہ ڈان نے

Throws out

کے ساتھ میاں نواز شریف کی طبی بنیاد پہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست برائے ضمانت کے مسترد ہونے کی خبر کی سرخی نہیں جمائی تھی۔ اور نہ ہی سپریم کورٹ سے کئی ایک درخواستوں پہ مسترد ہونے پہ اس قسم کی جارحانہ اور معاندانہ سرخی لگائی۔

اسی انگریزی اخبار نے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ کی جانب سے بلاول بھٹو کا نام اسی کیس میں ای سی ایل سے نکالے جانے پہ مخالفانہ اداریہ تحریر کیا تھا اور جب اس کیس پہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آئی تو جے آئی ٹی کی رپورٹ پہ سپریم کورٹ کے فیصلے آنے سے پہلے ہی آصف علی زرداری اور دوسرے لوگوں کو

Proved and unimaginable white collar crimes

کا مرتکب ٹھہرا دیا تھا۔

آج جبکہ نیب کے ترجمان نے اس کیس کے حوالے سے چھت ریفرنس دائر کرنے کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ آصف علی زرداری ان ریفرنس میں

Prime suspect

نہیں ہیں تو کیا روزنامہ ڈان اپنے اداریہ میں لگائے گئے الزام پہ معافی مانگے گا؟

یہی روزنامہ ڈان نواز شریف کے خلاف بنائے کیسز اور نیب میں کاروائی کو سیاسی انتقام اور جمہوریت کو مارجنلائز کرنے جیسے بیانات اپنے لکھے اداریوں میں شامل کرتا رہا ہے۔

لیکن آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے خلاف اس میڈیا گروپ کی جمہوریت پسندی کے آڑے نفرت اور تعصب کی دیوار کھڑی ہوجاتی ہے۔
ڈان میڈیا گروپ سے وابستہ ایک خاتون صحافی نے دو اپریل دوہزار انیس کی اشاعت میں شایع ہوئے آرٹیکل

Bilawal’s Two fold challenge

میں جہاں یہ بات تو تسلیم کی کہ اگر اس وقت ملک میں ٹھیک معنوں میں کوئی مین آف اپوزیشن ہے اور شاندار طرز سے اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کرسکتا ہے تو وہ بلاول بھٹو زرداری ہے۔

لیکن باقی کے سارے کالم میں اس صحافی نے ایک تو آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے درمیان اختلافات اور بلاول کے ناراض ہوکر لندن جابیٹھنے جیسی خودساختہ افواہوں کو مصدقہ خبر سمجھ کر بلاول کے سیاسی سفر میں آصف علی زرداری کو روکاوٹ قرار دیا اور ساتھ ہی بلاول بھٹو کی جانب سے جعلی کھاتہ کیس کے خلاف بیانات اور آصف علی زرداری کے دفاع میں بیانات کو یہ صحافی کس نظر سے دیکھتی ہے ملاحظہ ہو:

He may have exercised the Bhutto charisma and shown his mettle at public speaking…. but in the process, his attacks on a accountability a d the fake accounts case are simply bringing him closer to his father .

یعنی یہ کس قسم کا تجزیہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری عوام کی نظر میں اس وقت بھٹو کرشمہ رکھنے والے سیاست دان کے طور پہ ابھر سکتا ہے جب وہ پاکستان میں نیب کے احتساب کے طریقہ کار پہ تنقید بند کردے اور آصف علی زرداری پہ لگائے جانے والے الزامات جو آج تک کسی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے مان کر آصف علی زرداری کا دفاع نہ کرے۔

ڈان میڈیا گروپ نے اس تھرڈ کلاس تجزیہ کو اپنے ادارتی صفحہ کے سب سے اوپر جگہ دی ہے۔

حالانکہ وزیراعظم عمران خان کے اٹھارویں ترمیم بارے بیانات کے بعد بہت واضح ہوگیا تھا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کا موقف ٹھیک ہے کہ ان کے خلاف احتساب کا ڈرامہ اٹھارویں ترمیم پہ سرنڈر نہ کرنے کی وجہ سے رچایا جارہا ہے۔

لیکن ڈان میڈیا گروپ کا مالک یا اس کا ایڈیٹر ظفر عباس کیونکہ پہلے دن سے اپنا ذہن بناچکے کہ جعلی کھاتہ کیس میں آصف علی زرداری نے ناقابل تصور اور ثابت شدہ وائٹ کالر جرائم کا ارتکاب کیا ہے تو وہ پیپلزپارٹی کا میڈیا ٹرائل جاری رکھے ہوئے ہے۔

انگریزی اخبار روزنامہ ڈان کا پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اور اس کے خلاف محلاتی سازشوں بارے رویہ ہمیشہ جانبدارانہ رہا ہے کیونکہ اس اخبار کے مالکان کی کراچی اور خاص طور پہ لیاری میں آمروں کے ساتھ ملکر سیاست کو ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی پیپلزپارٹی نے دفن کردیا تھا۔ اس شکست کی خفت مٹانے کے لیے اس اخبار کا ایک مالک عبداللہ ہارون ضیاء الحق کے دور آمریت میں سندھ کا گورنر بنا تھا۔

اس اخبار نے یکم جنوری 1968ء کی اشاعت میں پیپلزپارٹی کے قیام کی ایک کالمی خبر شایع کی اور اس خبر میں پیپلز پارٹی کے حامیوں کی غربت و بے سروسامانی کا مذاق اڑایا اور ساتھ کہا کہ اس کے زیادہ حامی وہ نوجوان ہیں جن کا ووٹ بھی نہیں ہے۔

یہ اخبار بار بار پاکستان پیپلزپارٹی اور بھٹو کے خلاف بھٹو دشمن بیانیہ کے ساتھ جوان ہونے والی اربن چیٹرنگ کلاس کی اکثریت کی ‘ذھنیت’ کی عکاسی کرتا ہے۔ اور ایک طرح سے نام نہاد لبرل آڑ میں یہ تعصب اور جانبدارانہ صحافت کا مرتکب ہوتا رہتا ہے۔