Original Articles Urdu Articles

نیولبرل سرمایہ دارانہ نظام اور عام آدمی کی صحت ۔ عامر حسینی

مسلم لیگ نواز کے سرپرست میاں محمد نوازشریف کی سپریم کورٹ آف پاکستان نےسات ہفتوں کے لیے طبی بنیادوں پہ ضمانت منظور کی اور وہ رہا ہوگئے۔ اس دوران ان کے ذہنی دباؤ اور تناؤ کا بہت چرچا رہا۔

اسی دوران وزیراعظم عمران خان نے غربت کے خاتمے کے لیے ‘احساس’ پروگرام کے نام سے کچھ اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

سرمایہ دارانہ میڈیا پہ دن رات حکومت اور اپوزیشن کے درمیان زیادہ تر میاں صاحب کا ذہنی دباؤ ہی زیر بحث رہا۔ اس دوران کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ خود پاکستان کے اندر جو لوگ قید خانوں سے باہر ہیں ان کے ذہنی دباؤ کی صورت حال کیا ہے اور یہ جو جذباتی دباؤ ہے کس طرح سے ہماری نوجوان نسل تک کو متاثر کررہا ہے؟

خوش باش ملکوں کے سروے میں پاکستان کا نمبر 75 ہے اور سو میں سے پانچ افراد کی خوش رہنے کی شرح ہے اور اپنی مرضی کی صحت مند زندگی گزارنے کی شرح بھی صفر اعشاریہ آٹھ سو دس ہے۔ ویسے تو اس ذہنی دباؤ کے معاملے میں برطانیہ جیسے ملک کا نمبر 38 ہے۔

پاکستان میں نوجوان مرد و عورتوں کے اندر اتنے بڑے پیمانے پہ جذباتی بیچارگی کی کیفیت پائی جانا المناک اور افسوس ناک ہے۔ ذہنی غیرصحت مندی کا رجحان پاکستان کی قریب قریب سب ہی سماجی پرتوں میں پایا جاتا ہے۔ عالم ادارہ صحت نے عالمی سطح پہ معذوری میں سب سے بڑا کردار ڈپریشن یعنی ذہنی دباؤ کو قرار دیا جبکہ اینگزائٹی کو معذروری میں چھٹا بڑا عامل قرار دیا گیا۔

سوشلسٹ ورکرز پارٹی اسکاٹ لینڈ کے رکن لین فرگوسن نے ایک کتاب ‘ پالیٹکس آف مائنڈ: مارکسزم اینڈ مینٹل ڈس سٹریس’ لکھی ہے۔اس کتاب میں انھوں نے تفصیلی اعداد و شمار کے ساتھ بتایا کہ مینٹل ڈسٹریس کا کس طرح سے براہ راست تعلق سرمایہ دارانہ ریاستوں کی نام نہاد ‘کفایت شعاری، کٹوتیوں اور فنڈ میں کمی’ کی پالیسیوں سے بنتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صحت کے عالمی دن پہ اکتوبر 2018ء میں ایک رپورٹ میں بتایا دنیا بھر میں ذہنی مرض 14 سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے اور ہر پانچ میں سے ایک بچہ دنیا میں ذہنی مرض کا شکار ہے اور یہ دنیا کی کل آبادی کا بیس فیصد بنتے ہیں جبکہ پوری دنیا میں جو صحت کا بجٹ ہے اس کا چار فیصد ہی ذہنی صحت پہ خرچ ہوتا ہے۔

پاکستان میں تو صحت کے بجٹ کا بہت کم حصّہ یعنی اعشاریہ صفر ۔۔۔ ذہنی صحت پہ خرچ ہوتا ہے۔ پاکستان میں ایک رپورٹ کے مطابق پانچ سالوں میں 26 فیصد بچوں کو ذہنی دباؤ کا شکار پایا گیا لیکن ان میں سے 25 فیصد بچے کسی قسم کے علاج و معالجہ سے سرے سے محروم رہے جبکہ ایک فیصد میں سے سے بھی نصف کو ہسپتالوں کے امراض ذہنی کے شعبہ میں یہ کہہ کر داخلہ نہ ملا کہ وہاں پہلے سے ہی اس سے زیادہ شدید خراب حالت کے مریض داخل تھے۔

ویسے تو پاکستان میں گزشتہ چالیس سالوں میں جو بھی حکومت آئی اس نے کفایت شعاری، کٹوتی اور فنڈز میں کمی کے نام پہ ورکنگ کلاس کے اوپر خرچ کی جانے والی رقوم میں ہی کمی کی ہے اور بتدریج سوشل سروسز سے دست برداری کی ہے لیکن موجودہ دور میں تمام وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا معاشی ایجنڈا یہی ہے کہ ویادہ سے زیادہ عوام کی سماجی بھلائی کے لیے مختص کی جانے والی رقوم پہ کٹ لگائے جائیں۔ اور عام آدمی کی صحت کو نیو لبرل سرمایہ دارانہ نظام براہ راست بدترین بناتا جارہا ہے۔

نیل فرگوسن نے برطانیہ سمیت یورپ کے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں باقاعدہ اعداد و شمار سے ثابت کیا ہے کہ ایک تو وہاں پہ بڑھتی ذہنی امراض اور دیگر سنگین امراض کا براہ راست تعلق سرمایہ دارانہ نظام کے نیولبرل مارکیٹ سے ہے اور دوسرا انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ورکنگ کلاس کی معذوری اور اپاہج ہونے میں بڑا کردار ڈپریشن کا ہے جو لبرل مارکیٹ میکنزم سے جنم لیتا ہے۔

ہم نیل فرگوسن کی تحقیق کا اطلاق پاکستان پہ بھی آسانی سے کرسکتے ہیں ۔

اگر پاکستان میں دل،گردے اور جگر کی بیماریوں سمیت بڑی بیماریوں کی ملک بھر میں سہولیات کا جائزہ لیں اور وہاں پہ مریضوں کے داخلے کا جائزہ لیں تو صاف پتا چلے گا کہ مشکل سے ان بیماریوں میں مبتلا ایک فیصد مریضوں کو ان ہسپتالوں میں داخلہ ملتا ہے اور کئی ایک بڑی تعداد میں مریضوں کو سال یا ڈیڑھ سال کی تاریخ دی جاتی ہے جبکہ اس سے کہیں زیادہ کو ویسے ہی داخل کرنے سے انکار کردیا جاتا ہے۔اور مریضوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ پرائیویٹ ہیلتھ سیکٹر سے رجوع کریں اور اس طرف جانے کی استعداد مسترد کردہ مریضوں کی اکثریت کے پاس نہیں ہوتی ہے۔

لین فرگوسن کا کہنا ہے کہ ایک طرف نیو لبرل سرمایہ دارانہ نظام عوام کی بڑی تعداد کو ڈپریشن میں دھکیل کر زہنی مریض بناتا ہے وہیں پہ اس کی کٹوتی، کفایت شعاری اور فنڈنگ میں کمی کی پالیسیوں کا براہ راست اثر ہیلتھ کئیر کے لیے مختص فنڈ پہ پڑتا ہے وہ کم سے کم ہوتے جاتے ہیں۔ ہیلتھ سیکٹر میں نام نہاد اصلاحات متعارف کرائی جاتی ہیں جن کا مقصد صحت کے سرکاری شعبے کی نجکاری ہوتا ہے۔ اور یہ سب کام صحت کی فراہمی کرنے والے سرکاری ہسپتالوں کو خودمختار بنانے کے نام پہ ہوتا ہے۔ جیسے پنجاب میں ایم آئی ٹی ایکٹ آیا ہے۔ جب تک ان نام نہاد اصلاحات کے خلاف اقدام نہ اٹھایا جائے تو ان کو نہیں روکا جاسکتا ہے۔

فرگوسن کا کہنا ہے کہ نیا سرمایہ دارانہ نظام انسانی ضرورتوں کی نفی کرتا اور اس پہ بےگانگی اور طبقاتی لڑائی ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتی ہے۔