Original Articles

رواداری ، نیوزی لینڈ اور ریاستِ پاکستا ن کا مذہبی تعصب

رواداری ، نیوزی لینڈ اور ریاستِ پاکستا ن کا مذہبی تعصب

قلم : روشن آگاہی
تحریر: وجیش پرتاب

پچھلے ہفتے سے بہت سی فون کالز، ایس ایم ایس کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے کہ جناب آپ رواداری کے بارے میں ہمیں آگہی دیں ، پاکستان میں رواداری کو کس طرح بیدار کیا جائے ، قارئین کے زور دینے پر آج اپنی تحریر پیش کررہا ہوں ۔ بھئی ! رواداری کوئی بچوں کا کھلونا نہیں ، بلکہ یہ ایک ایسا علم ہے جو معاشرے میں مختلف مذاہب اور عقائد کے لوگوں کو مجموعی طور اکھٹا رہنے کا سبق سیکھاتا ہے، بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ مختلف مذاہب اور اُن کی روایات و ثقافت کو ساتھ ملکر منانے پر خوبصورت معاشرے کی تشکیل دینا ہے، رواداری کے ذریعے ہم انسانی برتاؤ ، دوسروں کی عقیدت کے احترام کے لیے قوت برداشت ، ہمدردی کا پرچار بھی دیتا ہے۔


رواداری کی پہلی سیٹرھی کسی بھی ریاست پرہوتی ہیں اور ریاست کے قاعدے قانون کے ذریعے سماج کو بہتر بنانے کی ذمہ داری ہوتی ہیں۔ ویسے اپنے بزرگوں اور استادوں سے یہی سیکھا کہ ریاست اپنے شہری کے لیے والدین کی طرح اہمیت رکھتی ہے ۔ اس کی بہترین مثال کا اندازہ گذشتہ ہفتے نیوزی لینڈکے تیسرے بڑے شہر کرائسٹ چرچ میں واقع دو مساجد پر دہشت گردی کا حملہ ہوا ، جس سے پچاس سے زائد مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان تارکین وطن شہید ہوئے۔ اس سانحہ کا حملہ آور کا نام برینٹن ٹیرینٹ ہے ، جس کو وہاں کی مقامی پولیس نے واقعہ کے دو گھنٹے کے دوران ہی گرفتار کرکے عدالت پیش کیا اور مجرم پر فرد جرم بھی عائد کردیا گیا۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم جیسینڈاآرڈرن کا مثالی کردار ، جنہوں نے ہمیں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی یاد تازہ کرنے پر مجبور کردیا۔ اس خاتون وزیراعظم نے ہمدردی اور رواداری کے پرچار کے لیے بہت سے گہر ے اثرات چھوڑے ہیں۔ انہوں نے واقعہ پر پہنچتے ہی مسلم کمیونٹی کے غم میں شریک ہوکر اُن کے ساتھ تعزیت واظہاریکجہتی کرتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور مسلمان برادری سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو تحفظ دینے میں ناکام رہی، لیکن میں یقین دلاتی ہو کہ مقتول کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔خاتون وزیراعظم نے سیاہ لباس اور سر پر دوپٹہ اوڑھ کر اُن کے ساتھ اُن کے غم میں شریک ہوکر اُن کے اظہار ہمدردی اور تحفظات دور کرنے کی بھر پور کوشش کی۔علاوہ ازیں نیوزی لینڈ پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا اور نیوزی لینڈ کی تاریخ میں پہلی بار پارلیمنٹ کا اجلاس قرآنی تلاوت سے شروع ہوا اور نیوزی لینڈ کا 22 سالہ پرانا اسلحہ رکھنے کا قانون میں ترمیم کی گئی ، نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے اس سانحہ کے متاثرین کو خصوصی امداد دینے کا اعلان بھی کیا ۔

نیوزی لینڈ کے اکثریت عوام (غیر مسلم برادری) نے بھی مسلمانوں کے غم میں برابر شریک ہوئے اور انہیں ہر طرح کا تعاون دیا ، وہاں کی سکھ اور ہندؤ برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شہداء کے لواحقین اور دیگر متاثرین کے لیے کھانے پینے کے اسٹال کا اہتمام کیا ۔ اس کے علاوہ حکومت نے مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی سیکورٹی کے لیے خصوصی بجٹ بھی مختص کیے اور ساتھ ہی وہاں کی مسیحی برادری کے لوگوں نے مساجد کے باہر حفاظتی پہرا دیا ، تاکہ اس سانحہ کے بعد کوئی احساس محرومی کا شکار نہ ہو۔اور سانحہ کے اگلے جمعہ کے روز خاتون وزیراعظم نے جمعے کی نمازاور اذان باقاعدہ طور پر ٹی وی اور ریڈیو پر نشر کی گئی۔ اس کے علاوہ ٹی وی پر خواتین نیوز کاسٹر ز نے بھی مسلمانوں سے ہمدردی کے لیے اپنا سر حجاب سے ڈھکا، اور یہ عمل دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی مغربی غیر مسلم خواتین نے بھی اپنایا۔
ریاستِ نیوزی لینڈ اور عوام نے رواداری کا وہ اعلیٰ پرچار کیا ہے جو کہ بین الاقوامی سطح پر عام فہم کیا جارہا ہیں اور اسلامی دنیا ان کے اقدامات کو سہراتے ہوئے نیوزی لینڈ کی تعریف اور حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور یہ ہونا بھی چاہیے کیونکہ جب ریاست کا سربراہ اپنے شہریوں کے ساتھ ایماندار ، سچا، ہمدرد ، انسانی حقوق کی اہمیت ، بین المذاہب پر یقین رکھنے والا ہوگا تو اس ریاست کی انتظامیہ اور ہر شہری بھی ویسے ہی ہوگا۔ نیوزی لینڈ کے رواداری کے اس پرچار سے مسلم اُمہ کو اس بات کا احساس دلایا کہ مغربی دنیا میں مسلمان اقلیتی طور پرتصور کیاجاتے ہیں لہٰذا انہیں بھی برابری کے حقوق حاصل ہونے چاہیے ۔ اس حوالے سے میں اپنا نقطہ نظر پیش کرنا چاہتا ہوں کہ مسلم امہ کو مغربی دنیا میں بنیادی حقوق بہت تیزی حاصل ہورہے ہیں ، اُس کی مثال یہ بھی ہے امریکہ ، کینیڈا جیسے ممالک میں مذہبی آزادی ہے اور یہاں تک کہ ان کے پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری اجلاس کا آغاز مذہبی روایت کے تحت ہوتا ہے۔مغربی دنیا میں مسلم امہ کے لوگ یہ توقعات رکھتے ہیں کہ انہیں غیرمسلم ممالک میں برابری کا درجہ دیا جائے جو کہ بہت اچھی بات ہے ، خاص کر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نیوزی لینڈ کے ان اقدامات کو سہرایا جارہا ہے اور پاکستانی مسلمانوں کے علاوہ کرسچن ، سکھ اور ہندؤ برادری نے سانحہ کرائسٹ چر چ پر بھر پور مذمت کی اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کی بلکہ ہندؤ برادری نے اپنا مذہبی تہوار ہولی نہایت ہی سادگی سے منانے کا اعلان کیا۔مگر ہمارے ملک میں کرکٹ بڑی شان و شوکت سے منایا گیا۔
میرے یہ کہنا بکل درست ہوگا کہ ریاست پاکستان کے سربراہ سے لیکر اکثریت عوام ( مسلمان) کا اقلیتی برادریوں کے ساتھ رویہ تعصب پر مبنی کیوں ہے۔ہندؤ وں کے ہولی تہوار پر صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی کے علاقے ڈھرکی کی دو نابالغ دلت ہندؤ لڑکیا ں کو سرعام اغوا کرلیا اور متاثرین کو کوئی قانونی تعاون نہیں دیا جارہا بلکہ پولیس نے بھی فوری طور پر کوئی مدد نہیں کی ، جب یہ معاملہ سوشل میڈیا پر عام ہوا تو پولیس نے دباؤ میں آکر ایف آئی آر درج کی ، مگر کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ کی جاسکی۔ اس کے علاوہ دیگر ہندؤ نابالغ لڑکیوں کو بھی اغواکیا گیا مگر کوئی پُرسانے حال نہیں۔لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ریاست پاکستان کا ہندؤ برادری کے ساتھ منافقت پر مبنی برتاؤ کیوں؟ اور پاکستان کے مسلمان جن کی ذہنیت انتہا پسندانہ اور وہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ رواداری کا سلوک کیا جائے ، مگر خود سے اس پر عمل نہ کیاجائے ، اس لیے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 2 کے مطابق ریاست پاکستان کا مذہب اسلام ہے۔بڑی افسوس کی بات ہے ابھی تک حکومت وقت نے نہ تو اس واقعہ پر مذمت کی اور نہ ہی کوئی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت جاری کی۔ ۔۔ آئین پاکستان کی روشنی میں آرٹیکل 25-1مطابق ریاست کے تمام شہری برابر ہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھتا ہو۔کیا اس قانون کے تحت پاکستان کی اقلیتی شہری برابری کو حقوق حاصل ہے؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان آئین کے مطابق آرٹیکل 36 اقلیتوں کا تحفظ کی وضاحت کرتا ہے کہ ریاست اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادا ت کے لیے تحفظ فراہم کریگی بشمول وفاقی اور صوبائی سطح پر غیرمسلم شہریوں کی نمائندگی کو یقینی بنائے گی۔میرا سوال ہے کہ ریاست پاکستان اس قانون کے تحت پاکستان کی غیرمسلم اقلیتوں کو ان کے مفادات اور حقوق کے لیے تحفظ فراہم کر رہی ہے؟ 2013میں حکومت سندھ نے نابالغ لڑکیوں کی شادی پر پابندی کا قانون بنایا تھاتاکہ سماج کی کم عمر لڑکیوں کی شادی کو رُکا جاسکے۔ہاں ! اس قانون کا اطلاق صرف مسلمان نابالغ لڑکیوں پر ہی ہوتا نظر آرہا ہے اور غیر مسلم نابابغ لڑکیا ں کو اس قانون سے کوئی استعفاد حاصل نہیں۔۔۔کیوں؟یہ وہ چند سوالات ہیں جو اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ بہتر سلوک نہیں کیا جاتا۔ریاست کا رویہ غیر مسلم لوگوں کے ساتھ تعصب پر مبنی ہے ۔کیوں؟ جس طرح نیوزی لینڈ کی وزیراعظم بے لوث ہوکر مسلمان مظلوموں کی حمایت میں آئیں اور نیوزی لینڈ کی عوام ، ریاستی ادارے اور میڈیا نے بھی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنے ملک کی اقلیتی برادری(مسلم) کا ساتھ نبھایا۔۔۔ میرے پاکستانی مسلمان بہن بھائیوں سے یہ سوال ہے کہ آپ لوگ مغربی دنیا سے برابری حقوق کے حصول کی توقعات رکھتے ہیں مگر خو د اس پر عمل کرنے سے گریز کیوں کرتے ہیں۔۔۔ذرا غور کریں ۔۔۔یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے۔