Original Articles Urdu Articles

تقی عثمانی صاحب پر انہی را کے ایجنٹوں نے حملہ کیا ہے جنہوں نے 80 ہزار کے لگ بھگ پاکستانیوں کو قتل کیا

تقی عثمانی صاحب پر انہی را کے ایجنٹوں نے حملہ کیا ہے جنہوں نے 80 ہزار کے لگ بھگ پاکستانیوں کو قتل کیا۔ وہی را کے ایجنٹ جو کبھی مزاروں ہر حملے کرتے تھے، کبھی مساجد پر، کبھی امام بارگاہوں پر،کبھی گرجا گھروں پر، کبھی سکولوں کالجوں پر تو کبھی دفاعی تنصیبات پر۔
یہی ایجنٹ تھے جنہوں نے خود کش حملوں کے خلاف فتوی دینے پر ایک معتدل دیوبندی عالم مفتی حسن جان کو شہید کردیا تھا۔ غالبا یہی وہ سبب تھا جس نے دیوبند مکتب فکر میں مفتی حسن جان جیسے کسی اور معتدل عالم کو ان ایجنٹوں کے خلاف بولنے سے روک دیا۔ تقی عثمانی صاحب بھی ایک علمی معتدل شخصیت ہیں اور دیو بند مکتب فکر میں ٹھیک ٹھاک اثر رکھتے ہیں۔

غالبا کچھ برس قبل جب پاکستان میں را کے ایجنٹوں کی دہشتگردی عروج پر تھی تو فرائی ڈے ٹائمز میں ایک آرٹیکل شائع ہوا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ اگر مفتی تقی عثمانی جیسی اثر انگیز شخصیت خود کش حملوں کے خلاف فتوی دے دے تو دہشتگردوں کے خلاف یہ فتوی انتہائی کارگر ثابت ہوگا۔ چونکہ ان دہشتگردوں کی فکری وابستگی، اگرچہ متشدد شکل رکھتی تھی، مگر تھی اسی مکتب فکر سے جس سے تقی عثمانی صاحب کا تعلق ہے البتہ مفتی حسن جان کی شہادت کے بعد کسی معتدل دیوبندی عالم کیلئے ایسا کرنا آسان نہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تقی عثمانی جیسے اثر انگیز عالم دین خود کو اس معاملے سے دور رکھا۔

تقی عثمانی صاحب کے بھائی مفتی رفیع عثمانی پر اگرچہ کالعدم تنظیموں کے سربراہان سے ملاقاتوں اور ان کے دفاع پر تنقید ہوتی تھی لیکن وہ بھی بہرحال ایک اثر رسوخ والے دیوبندی عالم تھے۔

آج ان ایجنٹوں نے تقی عثمانی صاحب پر حملہ کیا جس میں وہ بال بال بچ گئے۔ آج پاکستان کے حالات پہلے جیسے نہیں ہیں۔ ہم نے بھارت کی جارحیت کو حال ہی میں شکست سے دوچار کیا ہے۔ البتہ ہمارے ملک میں را کے ایجنٹوں کے بچے ہوئے سلیپنگ سیلز ابھی بھی موجود ہونگے۔ ہمیں اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ایجنٹوں کے خلاف یک زبان ہوکر اظہار برائت کرنا ہوگا۔ ان کی پشت پناہی بے شک را کرتی ہوگی لیکن یہ مال تیار تو یہیں ہوتا آیا ہے۔

میں تقی عثمانی صاحب پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں اور خدا کا شکر بجا لاتا ہوں کہ وہ محفوظ رہے۔