Featured Original Articles Urdu Articles

وہ دیکھو پروفیسر کی لاش پڑی ہے ۔ عامر حسینی

میں آج ایک ایسے دن بیٹھا یہ تحریر لکھنے بیٹھا ہوں جب ہماری کئی مساجد اور امام بارگاہوں میں اس ہستی کی آمد کا جشن منایا جارہا ہے جسے 41ھجری میں علی الصبح نماز فجر کے وقت عین حالت نماز میں عبدالرحمان ابن ملجم ( عبد کا مطلب بندہ اور الرحمان کا مطلب خدا عزوجل جو بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے گویا جس کا نام رحمان کا بندہ تھا) نے کئی دنوں سے زھر میں بجھی تلوار کا وار عین پیشانی پہ کیا اور ایسا کرتے ہوئے اس نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور الحکم للہ (فیصلہ ساز اللہ ہے) کہا۔ اور زرا اس سے آگے کا المیہ دیکھیے کہ جب ان کے حالت نماز و روزہ میں قتل کی خبر شام پہنچی تو شام والوں کو بڑی حیرت ہوئی اور انہوں نے حیرانی کے اسی عالم میں پوچھا کہ ‘کیا علی نماز بھی پڑھتے اور روزہ بھی رکھتے تھے؟

جب یہ خبر کوفہ سے باہر ان علاقوں میں پھیلی جہاں پہ خود کو اہل توحید والعدل کہلانے والوں کی بھاری تعداد موجود تھی جن کی ساری ساری راتیں قیام میں گزرتیں اور دن میں وہ روزے سے ہوتے اور ایک رات میں نصف قرآن کی تلاوت کا معمول رہا کرتا تھا تو وہاں فضا نعرہ تکبیر کی صداؤں سے گونج اٹھی۔

مقتول فی المحراب کا جنازہ رات کی تاریکی میں پڑھایا گیا اور ان کی قبر کو خفیہ رکھا گیا اور ایک جیسی قبریں ساتھ ساتھ تعمیر کی گئیں اور 661ء سے 750ء تک یعنی قریب قریب نوے سال تک ان کی قبر کا آل محمد اور کچھ اور ان کے قریبی لوگوں کے سوا کسی کو پتا نہیں تھا کیونکہ خطرہ تھا کہ آپ کی قبر انور کی کوئی بے حرمتی نہ کردے۔ جن کو بعد میں تاریخ نے خوارج کے نام سے یاد کیا وہ ان کی قبر تک کا نشان مٹانا چاہتے تھے۔

یہ شخصیت جن کو کافر و مرتد قرار دیکر خود کو سچا توحید پرست سمجھنے والوں (خوارج) نے شہید کیا حضرت علی ابن ابی طالب تھے جو کہ حضرت خدیجہ الکبری کے بعد ایمان لانے والے دوسرے فرد تھے۔ اور جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آپ کو علم کا شہر قرار دیتے ہوئے باب العلم قرار دیا تھا اور جن کی محبت کو ایمان اور بغض کو نفاق قرار دیا گیا تھا۔ اور ایسی برین واشنگ ہوئی کہ شام والوں نے ان کے حالت نماز و صیام میں قتل پہ حیرانی ظاہر کی اور مارنے والوں نے اسے اسلام کی فتح سے تعبیر کیا۔ اور پھر تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ کئی سال تک مساجد اور عیدین کے اجتماعات میں ہر خطبے و تقریر میں علی المرتضی اور ان کی اولاد کی مذمت کی جاتی رہی اور ان کی تعریف کرنے والوں کا معاشی اور جسمانی قتل کیا جاتا رہا۔ اور اس بدعت کا خاتمہ صرف حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور حکومت میں ہوا اور ان کی وفات کے بعد پھر شروع ہوگیا۔

اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ پاکباز،صالح، نیک اور اپنی سوچ کو عین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم سمجھنے والے اور اس سوچ کے تحت دوسروں کو حقیر جان کر ان پہ کفر اور شرک کا الزام لگاکر قتل کرنے کی روایت اسلام کی بالکل ابتدائی تاریخ کے اندر ہمیں مل جاتی ہے۔
اس کا آغاز حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے قتل سے نہیں ہوا تھا بلکہ اس کا آغاز خلیفہ سوم حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کے ظالمانہ قتل سے ہوا تھا اور ان کو قتل کرنے والوں نے ان کو اسلام کی روایات سے منحرف قرار دیکر اس حالت میں قتل کیا تھا کہ وہ اسی سال کی عمر میں اپنے گھر میں حالت محاصرہ میں قرآن پاک کی تلاوت کررہے تھے۔ ان پہ حملہ کرنے والوں نے جب ان پہ تلوار برسائی تو ان کے خون کے چھینٹے قرآن پاک کو رنگین کرگئے تھے اور ان کو بچانے کی کوشش کرنے والی ان کی اہلیہ حضرت نائلہ کو بھی بدبخت قاتلوں نے معاف نہیں کیا اور ان کی انگلیاں تک کاٹ لی گئیں تھیں۔ اور تاریخی شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں انہی قاتلوں نے بعد میں خوارج کی شکل میں اپنے آپ کو منظم کیا اور پھر حضرت علی المرتضی کے خون سے ہاتھ رنگے۔

اپنی پاکبازی کے زعم میں دوسروں کو حقیر جاننے والی اس ذہنیت نے ہمارے سماج میں بار بار المیوں کو جنم دیا اور اپنے زمانے کے کئی عالی دماغ ختم کرڈالے۔ ایسا ہی ایک واقعہ جمعرات کے روز بہاولپور میں ایس ای کالج میں اس وقت رونما ہوا جب انگریزی کے استاد پروفیسر خالد حمید کے ساتھ تھرڈ ائر کے طالب علم کی نئے آنے والے طالب علموں کے لیے ہونے والی ویلکم پارٹی/استقبالیہ تقریب کو لیکر بحث ہوئی اور طالب علم نے اس کے جواز کے قائل پروفیسر خالد حمید کو چا‍قوؤں کے وار کرکے شدید زخمی کیا جو ہسپتال جاکر زخموں کی تاب نہ لاکر جہاں فانی سے رخصت ہوگئے۔ مین سٹریم میڈیا میں ابتک آنے والی خبروں کے مطابق قاتل طالب علم نے اپنے عمل پہ کسی پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا ہے اور اس کا یہ کہنا ہے کہ اس نے بالکل ٹھیک کیا ہے۔

مقتول استاد کے بارے میں ان کے کولیگ اساتذہ اور دیگر جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ نماز پنجگانہ کے پابند تھے اور باقاعدگی کے ساتھ روزے رکھنے والے تھے اور ان کو اعتدال پسند مذہبی شخص سمجھا جاتا تھا۔

نوجوان جس کا نام ‘خطیب حسین’ ( یعنی حسین رضی اللہ عنہ کا خطیب) بتایا گیا ہے کا تعلق اسلامی جمعیت طلباء سے جو کہ جماعت اسلامی پاکستان کا طلباء ونگ ہے اور یہ وہ جماعت ہے جس کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ اس سے وابستہ افراد کے اندر اپنی صالحیت کا احساس ایک فوبیا کی طرح جاگزیں ہوتا ہے اور اس جماعت کے بانی نے اپنے تصور تجدید احیائے دین کو اسلام کی بڑی بڑی شخصیات کے تصور سے کہیں زیادہ بہتر بلکہ عین منشائے خداوندی تک قرار دیا اور وہ اپنے آپ کو ‘مزاج شناس رسول’ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمجھا کرتے تھے۔ جس طلباء تنظیم سے اس نوجوان کا تعلق ہے اس تنظیم نے اپنے قیام کے روز سے لیکر آج تک نہ تو سیکولر، لبرل، کمیونسٹ،سوشلسٹ طلباء تنظیموں کا وجود براداشت کیا اور نہ ہی یہ کسی دوسری اسلامی طلباء تنظیم کا وجود برداشت کرتی ہے۔ اس تنظیم کو طالب علموں میں مذہبی فسطائیت کو پروان چڑھانے والی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔

لیکن پاکستانی سماج میں مذہبی فسطائیت کے جراثیم اب محض اسلامی جمعیت طلباء کے اندر ہی نہیں پائے جاتے بلکہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ابھرتی نئی مڈل کلاس کے نوجوانوں میں مذہبی فسطائیت کے جراثیم عام ہیں اور مذہبی فسطائیت زدہ نوجوانوں کے اندر اپنے سے اختلاف کو کفر اور ارتداد سمجھنا ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔

مشعال خان کے کیس میں صرف جماعت اسلامی ہی نہیں بلکہ جمعیت العلمائے اسلام(ف،س اور نظریاتی تینوں)، مسلم لیگ نواز، پی ٹی آئی کی مقامی قیادتیں اور ان کے طلبہ ونگ بھی قاتلوں کے ساتھ نظر آئے اور تو اور اے این پي کے اندر سے بھی لوگ قاتلوں کے حق میں احتجاج کرتے نظر آئے۔
ایسے ہی سلمان تاثیر کے قتل کیس میں بھی پورا دایاں بازو ممتاز قادری کے ساتھ کھڑا رہا۔

توہین مذہب کا ہتھیار عام ہوچکا ہے اور اس کا استعمال خود دایاں بازو کے لوگ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے بھی استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔
سبط جعفر سے لیکر سید خرم ذکی تک کافر قرار دیکر مارے جانے والے شیعہ مسلمانوں کی تعداد ادارہ تعمیر پاکستان کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق 26 ہزار ہے۔ جبکہ صبا حسن دشتیاری سے لیکر پروفیسر جمشید نایاب تک دیگر بلوچ،پشتون،سندھی،پنجابی غیر شیعہ مسلمانوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔

پاکستانی سماج کا جو صلح کلیت اور تکثیریت پسندی کا شیرازہ تھا وہ بری طرح سے بکھرتا ہوا نظر آررہا ہے اور سماجی علوم پہ بات چیت ویسے ہی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور مجموعی طور پہ یک نوعی اور یک رخی مذہبیت اور مذہبی آئیڈیالوجی نے پوری طرح سے پاکستانی سماج کو اپنے زیراثر لے رکھا ہے۔ ایک جنونی اقلیت نے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ انسانی سوچ پہ پہرے ہیں اور کوئی جملہ لکھتے یا کہتے ہوئے خوف آن گھیرتا ہے۔ آزادی اور تحفظ کا احساس کہیں غائب ہوگیا ہے۔