Featured Original Articles Urdu Articles

دوسروں کو نصحیت اور خود میاں فضحیت – عامر حسینی

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پہ ایک سفید فام نسل پرست دہشت گرد کی فائرنگ سے جاں بحق و زخمی ہونے والے مسلمانوں کے اہل خانہ سے اظہار یک جہتی کا اظہار پوری دنیا سے کیا جارہا ہے۔ لیکن اس واقعے کے بعد پاکستانی معاشرے میں ایک اور بحث بہت شدت سے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ اس بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ پاکستانی مین سٹریم میڈیا،سیاسی و سماجی اور مذہبی جماعتیں اور گروہ جس شدت سے اور کثرت سے اس واقعے کے خلاف ردعمل دے رہے ہیں اور وہ جس طرح سے اس حملے پہ ٹرمپ کی طرح کے اپالوجسٹوں/ عذرخواہوں سے مجرم کو دہشت گرد قرار دینے اور اس کی شناخت پہ اصرار کررہے ہیں وہ ایسا ردعمل پاکستان یا دنیا بھر میں خود مسلم برادری کے اندر موجود کئی ایک فرقوں اور غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی دہشت گردی پہ کیوں نہیں دیتے؟

پاکستان میں یہ سوال زیادہ شیعہ نسل کشی پہ پاکستانی معاشرے کے مجموعی ردعمل کے حوالے سے بھی اٹھایا گیا ہے۔ اور جواب میں یہ دیکھا گیا کہ کسی نے ان سوالوں کو ایسے موقعہ پہ اٹھانا ٹھیک نہ قرار دے کر جان چھڑائی تو کسی نے اس کے جواب میں سوال اٹھانے والوں کو ‘ بے غیرت پاکستانی لبرل’ کی گالی دیکر جان چھڑانا چاہی تو کسی نے اسے شیعہ انتہا پسند پروپیگنڈا کہہ کر جان چھڑائی ۔ اور ایک بڑی اکثریت نے تو حسب معمول خاموشی کو ہی بہتر جانا۔

پاکستان کا مین سٹریم اردو میڈیا چاہے وہ پرنٹ میڈیا تھا یا وہ الیکٹرانک میڈیا تھا، اس نے نیوزی لینڈ دہشت گردی کے فوری بعد پہلے تو نیوزی لینڈ کی حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور جب اس کی وزیراعظم نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا اور سیاہ لباس میں متاثرین کے اہل خانہ سے ملنے چلی آئیں تو اس نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی تعریف کے ڈونگرے برسانے شروع کردیے۔ کسی نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی شام، یمن، لیبیا سمیت پوری دنیا میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی خون آشام مداخلت پہ نیوزی لینڈ کی مکمل حمایت کا ذکر تک نہ کیا اور نہ ہی اس وزیراعظم کی سعودی عرب کی جانب سے یمنی شہریوں کی نسل کشی پہ خاموشی بارے کوئی سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس کی۔

پاکستان میں بڑی تعداد میں شیعہ(سب نہیں)، تھوڑی سی تعداد میں صوفی سنّی، چند ایک سوشلسٹ، لبرل اور کمیونسٹ آوازوں کو چھوڑ کر کہیں پہ بھی یمن کی عوام کی بہیمانہ نسل کشی پہ کوئی بڑا مخالفانہ ردعمل نظر نہیں آتا۔شام کی صورت حال پہ تو حالت اس سے بھی خراب تھی – مین سٹریم میڈیا ہوکہ سوشل میڈیا اس پہ پاکستانیوں کی اکثریت کے ہاں شام کے بارے میں امریکہ کی مداخلت اور حکومت بدلو ایجنڈے کی حمایت چھائی رہی جبکہ وہاں پہ امریکہ کی حمایت یافتہ سلفی-دیوبندی وہابی جہادی –تکفیری دہشت گردوں کو آزادی اور انصاف کے علمبردار بناکر پیش کیے جانے یا ان کو سنّی مسلمانوں کا نجات دہندہ بناکر دکھانے کا سلسلہ جاری رہا۔ یہی صورت حال بحرین کی عوام کی بادشاہت کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں تحریک کے حوالے سے دیکھنے کو ملتی رہی ہے۔

شیعہ نسل کشی کے بعد جس معاملے میں انکار اور چھپاؤ کا ردعمل پاکستان کے اندر ملتا ہے وہ بلوچستان میں بلوچ کے ساتھ ہونے والا سلوک ہے۔ بلوچ مسخ شدہ لاشوں میں ملیں، جبری گمشدہ ہوجائیں، ان کے وسائل کی لوٹ مار ہو، ان کے ساتھ ایک کالونی اور محکوم علاقے کا سا سلوک ہو اس پہ اتنا بھی ردعمل دیکھنے کو ملتا جتنا ردعمل ہم بلوچستان میں کام کرنے والے غریب اور محنت مزدوری کرنے کے لیے جانے والے پنجابی، سندھی، سرائیکی مزدوروں کے اہدافی قتل پہ یا سیکورٹی اہلکاروں کے جاں بحق ہونے پہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ریاستی جبر و تشدد اور دہشت گردی کشمیر، فلسطین، برما میں ہو تو ردعمل شدید اور ہمدردیاں کشمیری،فلسطینی اور روہینگا مسلمانوں کے ساتھ خوب ظاہر ہوتی ہیں لیکن بلوچستان میں ریاستی تشدد،دہشت گردی اور جبر پہ ردعمل ٹھس اور سازشی مفروضوں سے اس ظلم کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

حامد میر نے کل روزنامہ جنگ میں نیوزی لینڈ سانحےپہ ایک کالم لکھا ہے جس کا عنوان ہے: ہمارا اصل قصور ہماری منافقت ہے” میں نے یہ عنوان پڑھا تو سوچا کہ چلو اچھا ہوا حامد میر کو اپنی منافقت، دوہرے پن اور بطور صحافی و تجزیہ نگار اپنی منافقت کا احساس ہوچلا ہے۔ اور اس نے شاید اپنے اس کالم میں بطور ٹی وی اینکر اپنے پروگراموں میں پاکستان میں شیعہ کے خلاف بالخصوص اور اس ملک کے صوفی، احمدی، ہندؤ، مسیحیوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور ان کے خلاف دہشت گردوں کی ایک لاٹ تیار کرنے والوں کی پروجیکشن کرنے اور اپنے کالموں میں پاکستان کے اندر شیعہ-سنّی ایکتا کو ناقبال تلافی نقصان پہنچانے والی تنظیم سپاہ صحابہ/ اہلسنت والجماعت کی قیادت سے اپنی دوستی اور ان کی تعریف پہ معافی مانگی ہوگی۔ اس نے یہ اعتراف کیا ہوگا کہ القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن، افغان اور پاکستان کے دیوبندی جہادیوں اور تکفیریوں کے استاد مولوی سمیع الحق کی تعریف پہ معافی مانگی ہوگی اور آئیندہ وہ مذہبی یا نسلی بنیادوں پہ بے گناہ شہریوں کا خون بہانے والوں کے لیے کوئی جواز تلاش نہیں کرے گا۔ لیکن اس نے ایسا کوئی اعتراف اس کالم میں نہیں کیا۔

اس نے امریکہ، بھارت، ایران، ترکی کی حکومتوں کی مذمت کو نام لیکر منافقانہ قرار دیا لیکن یہاں بھی سعودی عرب کی مذمت کو منافقانہ کہنا بھول گیا یا جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا۔ اس نے معاویہ اعظم کی مذمت کو بھی منافقانہ کہنے کی جرات نہیں کی جیسے اس کی جماعت تو ہمیشہ مساجد و امام بارگاہوں اور درگاہوں پہ فائرنگ کرنے والوں کے لیے سرعام پھانسی کا مطالبہ کرتی رہی ہو۔

حامد میر کو دوسرے مسلمانوں کو منافقت کو خیرباد کہنے سے پہلے خود منافقت کو خیرباد کرنے کی پہل کرنا ہوگی تاکہ دوسرے اس کی رائے پہ عمل کرنے پہ خود کو آمادہ کریں تاکہ کوئی ان کی بات پہ کان دھرے۔