Original Articles

خواتین کا عالمی دن اور پاکستانی ہندؤ خواتین کے مسائل

قلم : روشن آگاہی
تحریر: وجیش پرتاب

آٹھ مارچ خواتین کا بین الاقوامی دن ، یہ ایک عالمی دن ہے جو کہ دنیا بھر میں خواتین کی سماجی ، اقتصادی ، ثقافتی ، اور سیاسی طور پر معاشرے میں بہ اختیاری کی کامیابیوں کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن پاکستان سمیت دنیا بھر کے تمام ممالک میں مختلف تنظمیوں اور اداروں کی جانب سے مختلف تقریبات ، اجلاسوں ، سمینار ، اور ریلی کی صورت میں منایا جاتا ہے، جس کے تحت اس بات کو بیدار کیا جاتا ہے کہ معاشرے کی خوبصورتی کے لیے خواتین کا بہ اختیار ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ دن تقریباََ 110 سالوں سے منایا جارہا ہے اور دنیا میں خواتین کا پہلا قومی دن امریکہ نے 28 فروری 1909میں منا یا تھا اور یہ اقدام امریکی سوشلسٹ پارٹی نے نیویارک کی گارمنٹ ورکرز خواتین کے اعزاز میں کیا تھا، اور اس طرح دنیا بھر کے مختلف خطوں میں خواتین کے حقوق کی جدوجہد کے لیے کام کیا جاتا رہا۔ بعدازاں 1975میں اقوام متحدہ نے 8مارچ کو خواتین کے عالمی دن کو مقرر کرتے ہوئے بین الاقوامی خواتین کے دن کا جشن منایا ۔
دسمبر 2018، عالمی سروے کے مطابق دنیا کی مجموعی آبادی ساڑھے سات ارب سے زائد (7,669,109,078)تھی جس میں خواتین کی تعداد ساڑھے تین ارب سے زیادہ (3,800,750,379)اور اعداد وشمار کے مطابق کُل آبادی کا بچاس فیصد بنتا ہے۔ لہٰذا اس بات کو کہنا درست ہوگا دنیا کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہیں اور اس کے باوجود خواتین کو مکمل حقوق حاصل نہیں۔اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2018 میں پاکستان کی کُل آبادی (203,977,954)بتائی جاتی ہے اور ملک کی 51 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے، مگر خواتین کو برابری کے حقوق دینے میں ریاست پاکستان کی بڑی ناکامی رہی، کیونکہ ہمارے معاشرے نے ان پر اعتماد کرنے سے گریز کیا، ہمیں اس بات کو یاد رکھنا ہوگا کہ جنرل ایوب کے آمریتی دور میں 1965کے صدراتی انتخابات میں مادرے وطن فاطمہ جنا ح پر طعنہ کشی کی گئی اورتوہین آمیز رویہ اپنا گیا، مگر ہم یہ بھی بھول گئے کہ تحریک پاکستان کی جدوجہد کے لیے محترمہ فاطمہ جنا ح کا کردار کسی سے چھپا نہیں ، مگر آمریت نے اپنے مفاد کے لیے فاطمہ جناح کو عام انتخابات میں ناکام بنانے کے لیے یہ نظریہ عام کیا کہ ’’ایک عورت ریاست کی قیادت نہیں کرسکتی ‘‘ اور محترمہ فاطمہ جنا ح کو صدراتی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بعدازاں شہید بے نظیر بھٹو نے جنرل ضیا الحق کے آمریتی دور میں طویل جدوجہد کے بعد دنیا کو پیغام دیا کہ وہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم ہے تو آمریت کے سائے تلے میاں نوازشریف نے شہید بے نظیر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹانے کے لیے اپنی تقریروں کے علاوہ ہوائی جہاز کے ذریعے ان کی غیر ضروری تصویری مہم جوئی کا عمل شروع کیا ، مگر سلام ہے شہید بے نظیر بھٹو کو جنہوں نے اپنے حوصلوں کو بلند اور ارادوں کو مضبوط رکھا ۔۔۔اورملک میں جمہوری نظام کوفعال کرنے کے لیے موت کا گھونٹ پیااور 27دسمبر کی شام 2007دہشت گردوں نے لیاقت باغ روالپنڈی انہیں قتل کیا۔


اب بات کرتے ہیں چند اُن خواتین کی جو کہ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے خواتین کی جدوجہد بن گئی ، جیسے عاصمہ جہانگیر ، مختارہ مائی، ملالہیوسفزئی وغیرہ وغیرہ ۔

پاکستان میں ہندؤ اور دیگر خواتین جن کوبنیادی حقوق کے علاوہ دیگر مسائل کا بھی سامنا ہے، جس میں بلخصوص اُن کے جبری طور پر مذہب کی تبدیلی ۔۔۔اور ناموس رسالت کے قانون کا غلط استعمال۔ پچھلے دس سال سے پاکستان میں سینکڑوں ہندؤ لڑکیوں کو اغوا کرکے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنا مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہو،ان میں بڑی تعداد 18سال کم عمر لڑکیا ں ہیں۔ 2011میں جب صوبہ سندھ کے مذہبی انتہاپسندرہنماپیرعبدالحق( میاں مٹو)نے سندھ کی ہندؤ بیٹی رنکل کماری (فریال) کو اغوا کروار کر اسے مسلمان بنایا اُس وقت ملک کی سماجی تنظیموں کے ذریعے میڈیا نے اس مسئلے کو اجاگر کیا مگر ملک کے دالتی نظام نے رنکل کماری کے والدین کے خلاف فیصلہ دیا ، اُس کے بعد سے یہ عمل جارہی ہے اور بے شمار ہندؤں لڑکیوں

 کو اغوا کیا جاتا ہے ۔۔۔اس امرنے ہندؤ وں کو ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا ، 2012میں تقریباََ 1200زائد ہندؤخاندان پاکستان سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، مگر یہ سلسلہ رک نہ سکا اور پاکستان کی ہندؤ برادری کسی نہ کسی طرح سے تشدد کا شکار بنتی رہی اور ہندؤ لوگوں کا ملک چھوڑنے کا عمل ابھی تک جاری رہا

۔ 23 جون 2017 یہ دن پاکستان ہندؤ برادری کے لیے یوم سیاہ کے طور پر تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس دن مسلمان انتہاپسند کے ہاتھوں اغوا ہونے والی کم عمر ہندؤ لڑکی رویتا میگھوار کو سندھ ہائی کورٹ نے اُس پر مسلط کردہ مسلمان شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا ، آئین کے مطابق کم عمر لڑکی کی شادی کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے مگر اس 16سالہ بچی کو اس قانون کے تحت بچایا نہ جاسکا ۔۔۔اُس کی وجہ عدالتی نظام اور پاکستان کے امتیازی قوانین پر مبنی اقدام ۔۔۔ریاست کا مذہب اسلام ہے، اور قانون کے مطابق رویتا میگھوار دائرہ اسلام میں داخل ہوچکی ہے اور یہ شادی جائز ہے، جبکہ 2013میں حکومت سندھ نے کم عمر لڑکیوں کی شادی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی کا قانون بنا یا تھا مگر عدالت کی نظر میں اس قانون کی کوئی اہمیت نہیں۔۔۔ اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوتے رہے ، جس میں سمرن ، آرتی کماری، مونیکا وغیر ہ وغیرہ ۔ 2017 اکتوبر میں بدین کے چھوٹے سے گاؤں جس کی ہندؤتعداد 200 بتائی جاتی ہے ، انہیں بھی مسلمان کیا، پھر بعد میں مارچ 2018میں سندھ کا متوسط علاقہ ماتلی کے 500سے زائد ہندؤ لوگوں کو سماجی دباؤ کے ذریعے مجبور کیا اور زبردستی مسلمان کیا گیا۔۔۔اس طرح پاکستانی ہندؤ برادری اس تشدد سے بچنے کے لیے سکھ مذہب کو اپنانے پر مجبور ہوتے جارہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح ہندؤ ثقافت کے ساتھ ان کا رشتہ قائم رہے۔
نومبر 2016 میں سندھ اسمبلی میں مذہب کے جبری تبدیل کا بل پیش ہوا جسے ایوان اسمبلی نے متفقہ طور پر پاس کرکے قانونی شکل دینے کے لیے گورنر سندھ کے پاس پیش کیا ، مگر صوبہ سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں اسلامی مذہبی جماعتوں خاص کر جماعت الدعوہ، لشکر طبیہ، فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے علاوہ جماعت اسلامی اور جمعیت علماء کے انتہاپسند رہنماؤں نے اس بل کی سخت مخالفت کی اور ملک میں اس بل کے خلاف اجتجاعی مارچ شروع کیا اور اس دباؤ سے پیپلز پارٹی (حکومت سندھ) کو یہ بل واپس لینا پڑا اور ہندؤ برادری کو جھوٹی تسلی دی کہ اس کو ترمیم کرکے دوبارہ ایوان اسمبلی میں لایا جائے گا اور اب تک نہ آسکا ۔۔۔یہ ریاست پاکستان کا امتیازی سلوک نہیں تواورکیا ہے۔


پچھلے سال کراچی سے شائع ہونے والا روزنامہ عوام کی خبرکے مطابق کہ 4ماہ میں 47 ہندؤ لڑکیوں کو اغوا کرکے ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیے گئے ، کسی کے ساتھ ناجائز ۔۔۔اور کسی کے ساتھ جبرََ مذہب کی تبدیلی کرکے ۔ اس کے علاوہ کراچی میں بھی ہندؤ لڑکیوں کو انتہاپسند مسلمانوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا جیسے کہ لیاری کی پڑھی لکھی شوبہ بائی جو کہ بینک کی ملازم تھی ، اس کو اغوا کرکے چھپا دیا گیا اور اس بات کو عام کیا کہ شوبہ بائی نے اسلام قبول کرلیا مگر اُ س کے گھر والوں اپنی بیٹی سے ملنے نہیں دیا جارہابلکہ لڑکی کے خاندان والوں کو ہراساں اور دھمکیا ں دی جارہی ہیں کہ وہ خاموش ہو ۔۔مگر مسیحی بہن پاسٹر غزالہ شفیق جو کہ سماجی رہنما کے طور پر معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے اپنی خدمات انجام دیتی ہے، کہ انہوں نے شوبہ بائی کے خاندان کے ساتھ دیا اور انہیں مدد فراہم کی کہ وہ تحفظ حاصل کرسکے۔ بعدازاں شوبہ بائی کے خاندان نے کراچی پریس کلب پر اجتجاج کیا او ر بتایا کہ مقامی پولیس ان کی بات نہیں سن رہی اور نہ ہی اس مسئلے پر ان کی ایف آئی ار درج کر رہی ، علاوہ ازیں ، شوبہ کے گھر والوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اگر ہم پاکستان کے محب وطن اور برابر کے شہری نہیں ہیں تو ہمارے لیے باڈر کھولا جائے اور تاکہ ہم بھارت ہجرت کرسکیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ملک میں اس اہم مسئلے پرریاست کے تمام ستون خاموش ہیں۔ ہمارے ملک کا میڈیا اپنی اسکرین کی درجہ بندی کے لیے صرف ڈرامائی خبریں کیو ں پیش کرتا ہے۔ امتیازی قوانین کے خاتمے کیے بغیر پاکستان خوشحالی اور امن وترقی کا گہوارہ نہیں بن سکتا۔ اس سال پاکستان کی خواتین پارلیمانی رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے خواتین و اختیارات کے انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کی اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان میں خواتین کے تحفظ اور بہ اختیاری کے حقوق کے لیے کتنی اہم قانون سازی کی جارہی ہیں مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ اسے عملی شکل دینے میں سیاسی ، عسکری اور عدالتی قیادت کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہیں۔