Original Articles Urdu Articles

ڈ؛رہ اسماعیل خان : شیعہ مسلمانوں کا بوچڑ خانہ

ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ہی ماہ میں اپنی نوعیت کا بار بار ہونے والا دوسرا واقعہ ہے جس میں چار انسانوں پہ ان کی شیعہ شناخت کے سبب گولیاں برسائی گئیں، غلام عباس اور محمد قاسم اپنے جینے کے حق سے محروم ہوگئے جبکہ حقنواز اور شاہنواز شدید زخمی ہوگئے۔

دوستو! ڈیرہ اسماعیل خان میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہوا کہ انسانوں کو ان کی شیعہ شناخت کے سبب اپنے جینے کے حق سے محروم ہونا پڑا ہو بلکہ شیعہ کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان ایک بڑے بوچڑ خانے میں بدل گیا ہے جہاں پہ تکفیری قصائی ان کو آئے دن ذبح کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے قبرستان میں شیعہ قبروں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے باسی اتنے بھی خوش قسمت نہیں ہیں کہ کوئی ان کی نسل کشی کو ‘سرائیکی نسل کشی’ کہہ کر پورے ملک میں ایک ہنگامہ پربا کردے اور اقوام متحدہ تک اس کی گونج جائے اور امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور یورپی یونین کے انسانی حقوق کمیشن میں بھی ایک ہنگامہ برپا ہو اور چلو کوئی ‘ سرائیکی بچاؤ ‘ کہہ کر ہی کوئی دباؤ ڈال دے تو عالمی دباؤ میں آکر ڈیرہ اسماعیل خان کے شیعہ کو مرنے سے بجنے کا سامان حکومت کرے۔

میں نے پانچ سال لگاکر پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی حقیقت پہ ابتک بکھرے ہوئے حقائق اور بین الاقوامی طور پہ مانے ہوئے چند انتہائی تحقیقی ریسرچ پیپرز کو جمع کیا ہے اور شیعہ نسل کشی کا ڈیٹا اکٹھا کرکے ایک کتاب مرتب کی ہے جو اپریل میں مارکیٹ میں آئے گی۔ اس دوران شیعہ نسل کشی پہ جو حقائق اور اعداد و شمار سامنے آئے اس نے مجھے ہلاکر رکھ دیا۔

اتنے بڑے پیمانے پہ لوگوں کا شیعہ شناخت پہ مارا جانا اور مارے جانے والے گھرانے جن کی اکثریت اب صرف خواتین پہ مشتمل ہے کیسے زندگی گزارتی ہے یہ ایک اور المناک داستان ہے۔ اور یہ آہستہ رو نسل کشی جس طرح سے قومی سطح پہ نظر انداز کی جارہی ہے اس پہ جتنا اجتجاج کیا جائے کم ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے شیعہ پورے پاکستان کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف دیکھتے ہیں اور وہ انسانی حقوق کی وفاقی وزرات کی طرف بھی دیکھتے ہیں۔

پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کو آزخود ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ نسل کشی کا نوٹس لینا چاہئیے اور یہ سلسلہ بند ہونا چاہئیے۔

 

Two human being in #DIKhan #KPK were gunned down and deprived from their right to live because they were #Shia.

According to ShiaKillings website five shia persons came under fire by unidentified gunmen in Dera Ismail Khan, when they were sitting in their Hujra( Drawing Room) Ghulam Abbas and Muhammad Qasim died and Haqnawaz and Shahnawaz severely injured and their condition is so critical. Deceased and injured persons were real brothers.

And this has not happened very first time in Dera Ismail Khan but is happening again and again. Slow Genocide campaign is being run against #Shias of #Pakistan by Takfiri terrorist organizations like #LeJ emerged from Deobandi Sunni School of thought and they are supported by Takfiri Ideology promoted and propagated by Takfiri organizations like #SSP aka #ASWJ

Where are security forces in Dera Ismail Khan? Where are they conducting anti-terrorist operations?

Does our government want to see #Shias of Pakistan making appeal to #UN to take action and pressurize the government to conduct operations against sectarian elements like it is conducting operations against some Jihadist organizations after facing great pressure from international community.